حافظ نذر احمد:قرآن کا خاموش مبلغ....(2)

حافظ نذر احمد:قرآن کا خاموش مبلغ....(2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app




علامہ صاحب موصوف کا نام برصغیر کے ان حضرات میں نمایاں ہے، جنہوں نے تحریک آزادی کے لئے بھرپور جدوجہد کی۔ پہلے آپ مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ الیکشن بھی لڑا، لیکن مالی وسعت نہ رکھنے کے سبب اور مروجہ سیاست کے مروجہ داو¿ پیچ کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اس کے بعد آپ نے کوچہ¿ تعلیم و تعلم میں قدم رکھا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنی زندگی کا ہدف بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے بانی تھے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ آپ کا مقبول عنوان تھا، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان میں اس موضوع کو موصوف ہی نے سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد تمام جامعات میں یہ مضمون ایم اے کی کلاسز میں جاری ہوا، شامل نصاب ہوا۔ حافظ نذر احمد علامہ علاو¿الدین کے لاڈلے شاگرد تھے۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ان کی خطابت اور اندازِ سیاست سے بہت متاثر ہوئے۔ ان کی شاگردی میں ایم اے اسلامیات کر چکنے کے بعد حافظ صاحب انہی کے ہو رہے۔ استاد کو بھی اپنے اس ہونہار شاگرد پر بڑا ناز تھا۔ علامہ صاحب مسجد شاہ چراغ میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ آپ کی عدم موجودگی میں یہ ذمہ داری حافظ نذر صاحب ہی کے سپرد ہوتی تھی۔
حافظ صاحب نے کوچہ سیاست میں بھی قدم رکھا۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جو قائد اعظمؒ کے نظریات کی حامی تنظیم تھی، جس نے قائد اعظمؒ کے پیغام کو ہندوستان کی بستی بستی اور قریہ قریہ پھیلایا اور پاکستان کی تشکیل کے لئے فضا ہموار کی۔ 1941ءمیں قائد اعظمؒ اس تنظیم کی دعوت پر لاہور تشریف لائے اور اسلامیہ کالج میں خطاب بھی فرمایا۔ حافظ صاحب اس جلسے کے آفس سیکرٹری تھے۔ اسی طرح آپ نے مسلم لیگ میں بڑا مثبت کردار ادا کیا، لیکن جب مسلم لیگ میں لالچ کی سیاست در آئی، اقتدار کا حصول ہی مقصد ٹھہرا، سیاست کاروں نے بیسوا کا روپ دھارا تو آپ مسلم لیگ سے مایوس ہوگئے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی قائم کردہ جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کر لی۔ مولانا عثمانی کے حکم پر صوبہ پنجاب کے نائب ناظم مقرر ہوئے.... علمی آبیاری اور دینی، ملی، قومی، اصلاحی خدمت کے حوالے سے آپ بہت سے اداروں سے وابستہ رہے۔ ان اداروں کے مفصل احوال کا تذکرہ علیحدہ مستقل تحقیقی موضوع ہے۔ یہاں پر ہم صرف ان اداروں کے ناموں پر اکتفا کرتے ہیں، ان اہم اداروں میں دارالسلام پٹھانکوٹ، ادارہ اصلاح و تبلیغ جامع مسجد آسٹریلیا لاہور، جمعیت اسلامیہ جامعہ اسلامیہ مسجد شاہ چراغ لاہور، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، شبلی کالج لاہور سرفہرست ہیں.... وہ معروضی حالات کیا تھے، جو ان اداروں کے معرض وجود کا سبب بنے۔ ان اداروں نے کیا خدمات سر انجام دیں؟ ان سے کون کون سے رجال با کمال پیدا ہوئے۔ ہم ان تمام کا تذکرہ کسی مستقل اور اہل قلمکار کے لئے چھوڑتے ہیں۔
رسول اکرم نے اپنی ذات کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا تھا ....بعثت معلماً مَیں دنیا میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اتباع رسول میں یہ وصف حافظ صاحب مرحوم کی زندگی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ دم اوّلیں سے دم واپسیں تک یہ وصف ان کی زندگی کا حصہ رہا۔ سن شعور کو پہنچے تو متعلم تھے۔ علمی منازل کی تکمیل ہوئی تو آخر وقت تک معلم رہے۔ تعلیم دینے میں کبھی مقام و مرتبہ حائل نہ ہوا۔ پہلی جماعت کے بچوں کو بھی پڑھایا، سکول و کالج کے طلباءکو علمی موتیوں سے مالا مال کیا اور پی ایچ ڈی کے طلباءتک کی رہنمائی فرمائی۔ آج کے بیشتر بڑے بڑے قلم کاروں کا قلم، محققین کی تحقیق حافظ صاحب کی ہدایات ہی کی رہین منت ہیں، لیکن حافظ صاحب نے کبھی اس کوشش کو جتایا نہیں، جتانا تو دور کی بات ہے، کہیں تذکرہ بھی نہیں کرتے۔
شروع میں اسلامیہ کالج لاہور میں پروفیسر رہے اور کئی برس وہاں طلباءکے دلوں کو اسلام کی محبت کا درس دیا۔ کسی وجہ سے اسلامیہ کالج سے علیحدگی اختیار کرلی تو شبلی کالج کے نام سے اپنا پرائیویٹ ادارہ بنایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ادارہ بلندیوں کو چھونے لگا۔ ریلوے سٹیشن چوک پر ایک بلڈنگ کا بالائی حصہ کرائے پر لیا۔ اس میں شبلی کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے بیٹھا کرتے تھے۔ بے شمار لیکچرر حضرات اس کالج میں پڑھانا اپنے لئے باعث سعادت خیال کرتے اور صبح کے وقت اپنی سرکاری ملازمت کی ذمہ داریاں متعلقہ کالجوں میں ادا کرتے اور شام کو شبلی کالج میں خدمات سرانجام دیا کرتے تھے۔ یہ کالج رات گئے تک کھلا رہتا۔ طلباءکی گہما گہمی بھی خوب ہوتی تھی۔ یہاں سے بے شمار طلباءنے کسب فیض کیا، پھر اسی فیض کو دوسروں تک پہنچانے لگے۔ بیشتر کو سرکاری ملازمتیں ملیں، کالجوں میں لیکچرر ہوئے، پھر پرنسپل کے عہدوں تک بھی پہنچے۔
حافظ صاحب کی زندگی کا مقصد تعاون علی البر تھا۔ ہر نیک کام میں تعاون کرتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اچھا کام جو بھی کرے۔ اس کی بھرپور مدد کی جائے، اگر کہیں اختلاف بھی ہو تو کھلی مخالفت کی بجائے خاموشی اختیار کی جائے، تاکہ اچھا کام متاثر نہ ہو۔ اس حوالے سے حافظ صاحب نے ملک کے بہت سے اداروں کو اپنا بھرپور تعاون دیا، جس میں صدیقی ٹرسٹ کراچی سرفہرست ہے۔ اس ٹرسٹ کے بانی منصور الزماں صدیقی ہیں۔ حافظ صاحب نے اپنی بیشتر توانائیاں اس ٹرسٹ کی آبیاری کے لئے صرف کیں۔ وہ اپنی عمر کی 90 بہاریں دیکھ چکے تھے۔ قویٰ مضمحل، بصارت کا ضعف، جسمانی کمزوری غالب آچکی تھی۔ آخری ایام میں حافظے نے بھی ساتھ چھوڑ دیاتھا، لیکن ان تمام عوارض کے باوجود ان کا عزم بلند تھا۔ کچھ کر گزرنے کا داعیہ جوان تھا۔ قرآن اور فکر قرآن کو غالب رکھنے اور غالب دیکھنے کی تمنا ہر وقت دل میں رہتی۔ کوئی ملنے والا آتا تو اس سے اسی موضوع پر بات کرتے۔ اپنی سوچ، اپنی فکر کو دوسرے تک منتقل کرتے تھے۔
حافظ نذر احمد کا نام علمی حلقوں میں بلند مقام رکھتا تھا۔ صاحب دل تھے، معرفت و سلوک کے میدان کے شناور بھی تھے۔ ان تمام اوصاف کے باوجود حافظ نذر احمد نام و نمود سے بہت دور رہتے۔ اپنے تبلیغی اور اصلاحی کام خاموشی سے کرتے رہنے کے قائل تھے۔ اس سلسلے میں آپ اس فرمان پر عمل پیرا تھے: ”خیرالاعمال ادوم و ان قل“ سب سے بہتر عمل وہ ہے جو استقلال کے ساتھ کیا جائے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کی خدمات کے پیش نظر بعض جرائد اور رسائل نے آپ کے انٹرویوز آپ کی خواہش کے بغیر شائع کئے، جو آپ کی زندگی ہی میں طبع ہوئے۔ ان جرائد میں ہفت روزہ ندا لاہور، ہفت روزہ فیملی میگزین لاہور، ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ اور دیگر روزنامے وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے قرآن کا ترجمہ لکھا۔ اس کانام آسان ترجمہ قرآن ہے۔ اس کا آغاز آپ نے حرم کعبہ میں بیٹھ کر کیا اور اختتامی سطور بھی حرم کعبہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے، جس میں ترجمے کا اچھوتا اور منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ہر لفظ کے نیچے اس کا لفظی ترجمہ اور پھر بامحاورہ ترجمہ لکھا گیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو تمام مکاتب فکر کے اکابر کی تائید حاصل ہے اور سب اس پر متفق ہیں۔ علمی حلقوں میں یہ ترجمہ بہت مقبول ہوا، جس کی وجہ سے پاکستان کے سارقان علم اور سارقان تحریر قسم کے ناشروں نے حافظ صاحب کی اجازت کے بغیر اس کے ایڈیشن در ایڈیشن شائع کرنا شروع کر دیئے، خوب پیسے کمائے۔ یہ ترجمہ قرآن ہندوستان میں دہلی کے ناشروں نے بھی شائع کیا اور چاندی بنائی۔ حافظ صاحب کو اس غیر اخلاقی حرکت پر افسوس تھا، کبھی کبھی دبے الفاظ میں ذکر بھی کرتے تھے، لیکن قانونی کارروائی نہیں کی۔ پاکستان چونکہ اسلام اور لاالہ الا اللہ کے سلوگن پر معرض وجود میں آیا تھا، اس لئے پاکستان بننے کے پہلے روز ہی سے عیسائی مشنریاں چوکنا ہو گئیں۔ انگریزوں نے برصغیر میں دو صدیاں حکومت کی تھی۔ انہوں نے پورے برصغیر میں چرچ بھی بنائے، مشنری ادارے بھی کھولے اور تعلیمی مراکز کے ذریعے عیسائیت کے فروغ کی بھرپور کوششیں کیں اور اپنے تئیں....:”روح محمد ان کے بدن سے نکال دو“ پر عمل کیا، لیکن تشکیل پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی حیات سے روح محمد کو نکالنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن کام ہے۔ اسی لئے عیسائیت کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے پاکستان میں بھرپور کوششیں شروع کیں اور پورے پاکستان میں عیسائی مشنری اداروں کا جال بچھا دیا۔ عیسائی تبلیغی ادارے قائم کئے، جو مسلمانوں کو ڈاک کے ذریعے بائیبل اور تورات کے نسخے مفت بھیجتے اور” صحائف انبیاءکا مطالعہ کیجئے“ کے عنوان سے مسلمانوں کو ان کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
     (جاری ہے)    ٭

مزید :

کالم -