رویت ِہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے

رویت ِہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے

  

عید کے موقع پر چاند کی رویت کے حوالے سے اہل علم کے مابین بعض فقہی اختلافات عالم اسلام کے کم وبیش تمام حصوں میں موجود ہیں، مثلاً یہ کہ کیا چاند کی رویت کا فیصلہ فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے یا اِس کے لئے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے؟ اسی طرح یہ کہ کیا ایک علاقے میں چاند کے دیکھے جانے پر دوسرے علاقوں کے لوگ، جہاں چاند نظر نہیں آیا، رمضان یا عید کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا ہر علاقے کے لوگوں کے لئے اُن کی اپنی رویت کا اعتبار ہے؟ وغیرہ۔ تاہم ہمارے ہاں چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کے لئے علماءکی سربراہی میں رویت ہلال کمیٹیوں کی صورت میں جو نظام بنایا گیا ہے، اس نے اس اختلاف کو مستقل طو رپر ایک ایسی نزاع کی شکل دے دی ہے، جو فقہی سے زیادہ سیاسی، مسلکی اور صوبائی تعصبات کے اظہار کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔

حالیہ عید کے موقع پر بھی یہی ہوا۔ 18 اگست 2012ءکو وزیرستان میں وہاں کے مقامی علماء نے بعض ”گواہیوں“ کی بنیاد پر عید منانے کا فیصلہ کیا تو ایک مضحکہ خیز فیصلہ ہونے کی وجہ سے بدیہی طو رپر اسے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لیکن خیبر پختونخوا کی صوبائی رویت ہلال کمیٹی نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برعکس 19 اگست 2012ءکو عید کا اعلان کر دیا تو حسب سابق مخصوص مسلکی اور علاقائی تعصبات متحرک ہو گئے اور بہت سی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے یہ بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے کہ چونکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے خیبر پختونخوا کی کمیٹی کو موصول ہونے والی شہادتوں کو نظر انداز کر کے چاند نظر نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لئے یہ جانب دارانہ فیصلہ ہے اور یہ کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو ازسرنو تشکیل دینا چاہئے۔

جہاں تک شہادتوں کو نظر انداز کرنے کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک یہ اعتراض علمی واصولی طو رپر زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ ماہرین فلکیات کے حسابات کے مطابق 18اگست 2012ءکی شام کو چاند کی مدتِ پیدائش اس سے کم ہونے کی وجہ سے، جو چاند کے دکھائی دینے کے لئے ضروری ہے، پورے جنوبی ایشیا میں کہیں بھی چاند دکھائی دینے کا امکان نہیں تھا۔ علماءکا عمومی مو¿قف یہ ہے کہ محض ماہرین فلکیات کے حسابات پر مدار رکھتے ہوئے چاند کی رویت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم علمائے کرام ماہرین فلکیات کی رائے کو اس حد تک پورا وزن دیتے ہیں کہ اگر فلکیاتی حسابات کی رو سے کسی مخصوص تاریخ کو کسی مخصوص علاقے میں چاند کے دکھائی دینے کا امکان نہ ہو تو اس علاقے میں چاند کے دیکھے جانے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اِس حوالے سے مکہ مکرمہ کی فقہ اکیڈمی میں ہونے والے مباحثوں کی جو روداد اپنے ایک حالیہ مضمون میں بیان کی ہے، اس کے مطابق اس وقت عالم اسلام کے ممتاز ترین علماء وفقہاءکی اکثریت اسی کی قائل ہے، جبکہ فلکیاتی حسابات کی رو سے چاند کی رویت ممکن نہ ہونے کے باوجود محض گواہیوں کی بنیاد پر چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کی رائے ایک ”شاذ“ رائے کا درجہ رکھتی ہے۔

 اس تناظر میں اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے 18اگست2012ءکی شام کو چاند کے دکھائی نہ دینے کا اعلان کیا تو یہ فقہی اصولوں کا عین تقاضا تھا، بلکہ ہمارے خیال میں تو اس صورت میں18اگست 2012ءکو چاند دیکھنے کا تکلف کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین فلکیات کی مذکورہ پیش گوئی یوں درست ثابت ہوئی کہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا میں اس تاریخ کو کہیں چاند دکھائی نہیں دیا اور ہر جگہ20 اگست کو ہی عید منائی گئی۔ اس لحاظ سے علمی وفقہی اعتراضات کا ہدف دراصل خیبر پختونخوا کی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بننا چاہئے تھا کہ جب18 اگست2012ءکو چاند کا دیکھا جانا ممکن ہی نہیں تھا تو وہ آخر کیسے نظر آ گیا؟.... لیکن یہ مسلکی وصوبائی تعصبات کا کمال ہے کہ اعتراض کا ہدف اُلٹا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بنا لیا گیا اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے ساری خرابیوں کا منبع کمیٹی کا موجودہ ڈھانچہ، خاص طور پر اس کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمن کی ذات ہے۔

اجتماعیت اور قومی وحدت کسی بھی قوم کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے اور عزت و سرفرازی کی علامت بھی، لیکن اس نعمت کی حق دار وہی قوم ہوتی ہے، جس کے ذمہ دار طبقات اپنے اندر کچھ مخصوص رویوں اور اخلاقیات کو پیدا کر لیں۔ ان میں سب سے بنیادی اخلاقی اصول یہ ہے کہ اختلاف رائے کے مواقع پر اختلاف کے اظہار کے باوجود عملاً وحدت اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے اور کوئی گروہ اپنی رائے کے تسلیم نہ کئے جانے کو بہانہ بنا کر کوئی الگ راستہ اختیار نہ کرے کہ یہی چیز تفرقے اور انتشار کی بنیاد بن جاتی ہے۔ صحابہ وتابعین کے ہاں ہمیں اس کی بڑی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا عثمان ؓ نے جب اپنے عہد خلافت میں حج کے موقع پر نبی اکرمﷺ اور پہلے خلفاءکے معمول کے برعکس منیٰ میں ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ادا کرنا شروع کر دیں، تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے اُن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ”مَیںنے نبی اکرمﷺ کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں اور ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ کے ساتھ بھی دو دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ پھر تم لوگوں کے راستے الگ الگ ہو گئے۔ مجھے تو یہی پسند ہے کہ مَیں چار رکعتوں کی جگہ دو رکعتیں ادا کروں جو (اللہ کے ہاں) قبول ہو جائیں“ ۔ اس کے باوجود جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے سب لوگوں کے ساتھ سیدنا عثمان ؓ کے پیچھے منیٰ میں چار رکعتیں ہی ادا کیں۔ لوگوں نے اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ افتراق پیدا کرنا شر کی بات ہے۔.... (سنن ابی داود ، حدیث نمبر1960ئ).... جلیل القدر تابعی امام شعبی سے منقول ہے کہ انہوں نے اس دن کے متعلق جس کے بارے میں لوگ کہتے ہوں کہ یہ رمضان کا پہلا دن ہے.... (لیکن ارباب حل و عقد کی طرف سے اس کا اعلان نہ کیا گیا ہو).... کہا کہ تم حکمران کے فیصلے سے ہٹ کر ہرگز روزہ نہ رکھنا، کیونکہ (مسلمانوں میں) تفریق کی ابتدا اسی جیسے معاملات سے ہوئی تھی.... (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر9598)

ہمارے ہاں رویت ہلال کے حوالے سے اس اجتماعی اصول کی پامالی نے ایک مستقل اور طے شدہ پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کا مظاہرہ کم وبیش ہر عید کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ فرض کر لیجئے کہ مرکزی کمیٹی کسی موقع پر چاند کے حوالے سے غلط فیصلہ کر لیتی ہے، اس کے باوجود دین کی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے فیصلے کی پابندی کی جائے اور ایک اجتماعی معاملے میں اس نوعیت کے اختلاف کو افتراق پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ویسے بھی اصولی طور پر چاند کے دکھائی دینے یا نہ دینے کے فیصلے کا اختیار مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے پاس ہے اور صوبائی کمیٹیاں اس کی معاونت کے علاوہ چاند کی رویت کا اعلان کرنے کا کوئی مستقل اختیار نہیں رکھتیں۔ اس لحاظ سے کسی بھی صوبے کی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ کیا جانا اجتماعیت کے مذکورہ اُصول کی پامالی کے علاوہ اپنے دائرئہ اختیار سے تجاوز کی بھی ایک افسوس ناک مثال ہے۔

اجتماعیت کا دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قومی منصب پر فائز کر دیا جائے اور اسے اس منصب سے متعلق ذمہ داریوں کے دائرے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو شخصی ناپسندیدگی، طبقاتی پس منظر، ذاتی جھگڑوں یا فکری ونظریاتی اختلافات کی وجہ سے اس کے فیصلوں کو قبول کرنے سے گریز کی راہیں تلاش نہ کی جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو اجتماعیت کے اس اصول کی تعلیم ان الفاظ میں دی تھی کہ اگر تم پر کسی نک کٹے حبشی غلام کو بھی، جس کا سر کشمش کے دانے کی طرح چھوٹا سا اور سکڑا ہوا ہو، امیر مقرر کر دیا جائے تو تم اس کی بات سننا اور سر تسلیم خم کر دینا۔ ہمارے ہاں اس اُصول کی خلاف ورزی بھی ایک اجتماعی ”شعار“ کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاسی ومسلکی تعصبات کی موجودہ صورت حال میں رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی اور اس طرح کے دیگر سرکاری عہدوں نے مختلف مسالک اور فرقوں کے مابین ایک مستقل استخوان نزاع کی شکل اختیار کر لی ہے اور کسی ایک مسلک سے تعلق رکھنے والی شخصیت ایسے کسی عہدے پر رونق افروز ہوتی ہے تو دوسرے مسالک کے لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی اور ان کی طرف سے کسی نہ کسی حوالے سے نکتہ چینی اور تنقید کا مشغلہ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بین المسالک تعلقات میں تناﺅ بھی بڑھتا ہے اور علماءکا عمومی وقار بھی معاشرے کی نظروں میں مجروح ہوتا ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا قیام سنجیدہ دینی حلقوں کے تقاضے پر عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد ملک بھر میں رویت ہلال کے علاقائی پرائیویٹ حلقوں کے نظام سے پیدا شدہ ملک گیر خلفشار کو ختم کرنا اور مرکزیت پیدا کرنا تھا، کیونکہ اس سے قبل ملک کے کم وبیش ہر بڑے شہر میں یہی صورت حال ہوتی تھی جو اب خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ افسوس ہے کہ جو نظام خود دینی حلقوں کے تقاضے پر اور ان کی کوششوں سے ملک میں وحدت اور اجتماعیت پیدا کرنے کے لئے بنایا گیا تھا، دینی حلقوں ہی کے غیر متوازن رویوں کی وجہ سے اس کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورت حال سے یہ بنیادی حقیقت بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہاں قومی سطح پر پائے جانے والے ہمہ گیر بگاڑ کی اصلاح درحقیقت مختلف قسم کے ”قومی فورم“ یا ”اجتماعی ادارے“ بنانے سے نہیں، بلکہ اخلاقی اصولوں کی پاس داری کے حوالے سے قوم کی تربیت کرنے سے ہی ہو سکتی ہے، اس لئے کہ فکر اور مزاج کی درست تربیت کے بغیر اس نوعیت کی ہر کوشش اسی انجام سے دوچار ہوگی۔ جو مثال کے طور پر ہم مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اس وقت دیکھ رہے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں میں اجتماعی رویے محض وعظ وتلقین سے پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے لئے ذمہ دار اور مقتدر طبقات کو اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرنا پڑتی ہے اور سب سے پہلے خود ان رویوں اور اخلاقی اُصولوں کی پابندی کا مجسم نمونہ بننا پڑتا ہے۔ اس کی ذمہ داری سب سے بڑ ھ کر اہل مذہب پر عائد ہوتی ہے، اس لئے کہ قوم اپنی مذہبی واخلاقی تربیت کے لئے سب سے زیادہ انہی سے کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے اور اس منصب کے مدعی بھی سب سے بڑھ کر وہی ہیں۔ انہیں محسوس کرنا ہوگا کہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے انہیں اپنے قول وعمل کے تضاد کو دُور کرنا ہوگا اور جن اخلاقی اصولوں کی پاس داری کی وہ دن رات ساری قوم کو تلقین کرتے ہیں، اپنے طرز عمل سے بھی ان کی پاس داری کا یقین دلانا ہوگا، اس لئے کہ:

گر یہ نہیں تو بابا ، پھر سب کہانیاں ہیں

مزید :

کالم -