تحریک انصاف کا معاشی پلان درست ،مگر....

تحریک انصاف کا معاشی پلان درست ،مگر....

  

وطن عزیز کے جمہوری موسم میں دشنام طرازی اور الزامات کے جھکڑوں کا راج ہے۔سیاست میں ذاتیات، کرپشن اور عدالتی معرکہ آرائی نے تہہ در تہہ پوری قوم کو یوں الجھا رکھا ہے کہ نظر ہٹائے نہیں ہٹتی۔عدالتی معرکہ آرائی کا سورج مسلسل نصف النہار پر ہے۔میڈیا میں سنسنی اور یا وہ گوئی کی شدید مانگ ہے،جبکہ خلقتِ شہر کو ہر روز ایک نئے تماشے کی ضد ہے۔ایسے میں سنجیدہ موضوعات متروک اور ان پر اظہار خیال وقت کا زیاں بن کر رہ گیا ہے۔

عمران خان اور ان کی جماعت تبدیلی کی داعی ہے۔تنقید اور تنقیص میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن تبدیلی کے ایجنڈے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کے لئے ایک متروک روایت کو زندہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایک زمانہ تھا، سیاسی جماعتوں میں نظریات کا اچھا خاصا عمل دخل ہوا کرتا تھا۔سیاست میں پیسے اور ذاتیات کا جادو یوں سر چڑھ کر نہیں بولتا تھا۔ان دنوں سیاسی جماعتیں بڑی عرق ریزی سے اپنے منشور کو ترتیب دے کر عوام سے ووٹ کی طالب ہوتیں۔1970ءکے الیکشن میں پیپلزپارٹی ،عوامی لیگ اور جماعت اسلامی سمیت تمام پارٹیوں نے اپنے منشور کے ذریعے اپنی شناخت کو فروغ دیا۔سیاست کے رنگ ڈھنگ اور آمریت کے آثار نے پھر کچھ یوں قبضہ جمایا کہ اب منشور ایک متروک عمل بن کر رہ گیا ہے۔

سنسی خیزی اور یاوہ گوئی کے اس ماحول میں تحریک انصاف نے حکومت میں آنے کی صورت میں اپنے معاشی پلان کا گزشتہ ہفتے اعلان کیا۔عمران خان ،جاوید ہاشمی اور شاہ محمودقریشی کے جلو میں ماضی کے کامیاب کارپوریٹ منیجر اور حالیہ سیاست دان اسد عمر نے یہ معاشی خاکہ پیش کیا۔اس معاشی پلان میں مرض کی تشخیص تو وہی ہے،جسے عام اور خاص پاکستانی خوب جانتا ہے،یعنی کرپشن، ٹیکس گزاری سے گریز،اصلاحات سے پرہیز اور سرکاری وسائل پر مال غنیمت کا گمان وغیرہ، لیکن جو معاشی پلان اس مرض کی تشخیص کے لئے تجویز کیاگیا، بیشتر سیاسی ٹاک شوماہرین نے اسے چٹکیوں میں ایسے ہی اڑایا،جیسے تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی مبصر مخالفین کی ہر بات کو اڑانے کے عادی ہیں۔انتظار رہا کہ معاشی ماہرین اظہار خیال کریں، لیکن سنگ زنی کے اس مقابلے میں وہ کہیں بھی نظر نہ آئے۔

تحریک انصاف کے معاشی پلان کے مطابق پانچ بنیادی شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کیا گیا، یعنی توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اخراجات میں کمی، ٹیکس محاصل میں انقلابی اضافہ،تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ۔عمران خان کا خیال ہے کہ ان کے پاس دیانت دار اور اہل افراد کی ایک مضبوط ٹیم موجود ہے جو مشکل فیصلے کرنے اور دلیرانہ انداز میں ان پر عملدرآمد کو ممکن بنائے گی۔اسی ٹیم کے ذریعے وہ ایک ”نیا پاکستان“ بنانے پر کمربستہ ہیں۔بظاہر تو تحریک انصاف کا معاشی پلان پیش کرنا ایک احسن قدم تھا، لیکن اللہ بھلا کرے گھر گھر میں موجودہ ٹی وی چینلوں اور ان پر مسلط اینکروں اور سیاسی مبصرین کا، جنہوں نے اپنی اپنی سیاسی مزدوری کے مطابق اس پلان کے پرزے ہزار کئے۔شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو،جہاں یہ پرزے نہ گرے ہوں۔اسد عمر اور ان کے ساتھی واویلا کرتے رہ گئے، لیکن اینکرز اور ان کے سیاسی مخالفین نے یہ زریں موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔اسد عمر نے کہا کہ یہ چاند ہے ، مگر مخالفین نے کہا کہ ہے یہ ڈرامہ تیرا....!

چند ماہ قبل مسلم لیگ (ن) نے اپنی انرجی پالیسی کا اعلان کیا۔ تحریک انصاف کے تنگ مزاج مبصرین انہیں بتاتے رہے کہ یہ پالیسی تو ان کی اعلان کردہ پالیسی سے ماخوذ ہے، مگردانش پر جب مخالفت کا بھوت سوار ہو جائے تو عقل دنگ اور منافقت دبنگ ہوجاتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی انرجی پالیسی کے اندراجات، مسائل کی تشخیص اور حل کے لئے تجویز کردہ نکات پر دشنام طرازی اور مخالفت برائے مخالفت غالب آ گئی۔کچھ یہی تماشا اس بار تحریک انصاف کے معاشی پلان کے ساتھ بھی ہوا،اس بار تحریک انصاف اور پی پی پی نے سنگ زنی کی تھی، اس بار مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی نے یہ رسم نبھائی۔سوحساب برابر، اپنے اپنے گلاس اپنے اپنے بارہ آنے۔

ہم معیشت اور اس کے سیاسی پہلوﺅں کے طالب علم ہیں۔دیگر ماہرین کی طرح ہمیں بھی کچھ سوالات کھٹکھتے رہے۔بارہ سو کھرب روپے کے اندرونی و بیرونی قرضوں کا جِن کس طرح بوتل میں واپس جائے گا،زرعی اصلاحات کا ذکر اس معاشی پلان میں جگہ نہیں پا سکا۔البتہ زرعی ٹیکس نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔اب تمام سیاسی جماعتوں کا طرزعمل گواہ ہے کہ کوئی بھی جماعت زرعی ٹیکس کی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے پر تیار نہیں۔مینار پاکستان کے جلسے کے بعد سے پیدا ہونے والے سونامی کے ساتھ تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں ایسے صلاح کاروں کی کمی نہیں جو وقت آنے پر بلی اور گھنٹی کے تباہ کن تعلق پر ایک آدھ داخلی سونامی کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رہی ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات تو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ،جب تحریک انصاف کی قیادت ویلیو ایڈڈ اور بعد ازاں ترمیمی سیلز ٹیکس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ہم خوش گمانی کے مارے تو معاشی پلان پر من و عن اعتبار کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ چند سوالات جوابات کے لئے کلبلا رہے ہیں۔اب تک کے جوابات میں وارفتگی اور جذبہ تو وافر ہے، مگر دلائل آزمائش کی شرط پر آکر ہانپ جاتے ہیں۔

شہباز شریف گزشتہ انتخابات کے دوران جس ایک وعدے پر انتہائی جذباتی ہوئے، وہ ”وزیراعلیٰ ہاﺅس کے محل“ کو آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا وعدہ تھا۔کئی ماہ تک ان کی متحرک انگشتِ شہادت اور ہماری ستم رسیدہ سماعت اس وعدے کی گردان میں مبتلا رہیں، لیکن اقتدار کے چند ماہ بعد جب ان پر اقتدار کی راہداریوں کے بھید کھلے تو یہ وعدہ بھی ان بھول بھلیوں میں کھو گیا۔ایسا ہی ایک خوشنما نعرہ گورنر ہاﺅس، ڈی سی او ہاﺅس وغیرہ کو پیروں تلے روندنے کا ہے۔ تحریک انصاف بھی اس نعرے کو ایک سنجیدہ پلان میں شامل کرنے سے نہیں چوکی کہ صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ہاﺅس وغیرہ کو کھیلوں کے میدان میں تبدیل کرنے کا نادر موقع ضائع نہیں کیا جائے گا۔

محمد خان جونیجو ایک زمانے میں جرنیلوں اور نوکر شاہی کو 800سی سی سوزوکی میں بٹھانے چلے تھے۔خود تو سندھڑی میں بوریا نشین ہوگئے، لیکن اربوں روپے کی سرکاری گاڑیاں کوڑیوں کے دام نیلام ہوئیں اور بعد ازاں نئی گاڑیوں کی کھیپ قومی خزانے سے خرید کر حماقت کا سفر مکمل ہوا۔جنرل پرویز مشرف بھی لوٹی ہوئی دولت اور ڈوبے ہوئے قرض وصول کرنے نکلے تھے، لیکن نیب کی شکل میں ایک بھونڈے مذاق کا ناٹک ہی حاصل ٹھہرا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد نوازشریف بھی غیر ملکی پاکستانیوں کی مدد سے ملک سنوارنے اور قرض اتارنے روانہ ہوئے تھے، لیکن ملک سنورا، نہ قرض اترا۔ہم شاہ کے مصاحب،نہ غالب کے طرف دار۔خدا لگتی یہ ہے کہ ہمیں تحریک کا معاشی پلان پیش کرنے کا اقدام مثبت لگا۔رہے اعتراضات اور خدشات تو گمان رکھنے میں کیا حرج ہے کہ وقت آنے پر ماضی سے شاید کوئی سیکھ ہی لے۔    ٭

مزید :

کالم -