دفعہ144

دفعہ144
دفعہ144

  

                                                            خواتین و حضرات! تعزیرات ِ پاکستان میں قانون کی مختلف دفعات بیان کی گئی ہیں، جن کے تحت مختلف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ دفعات بہت سی ہوں گی، جو وکلائ، ماہرینِ قانون اور جج صاحبان کو معلوم ہوں گی۔ عوام الناس محض تین دفعات سے واقف ہیں جو اِن میں شامل ہیں۔ ایک دفعہ302، جس کا فلموں میں بہت ذکر ہوتا ہے اور جو کسی شخص کو قتل کرنے پر لاگو ہوتی ہے۔ دوسری دفعہ 420ہے جو دھوکہ دہی پر لاگو ہوتی ہے(یاد رہے کہ یہ دفعہ کسی سیاست دان پر قوم کو دھوکہ دینے پر لاگو نہیں ہوتی) تیسری دفعہ جس کا اخبارات میں سب سے زیادہ چرچا ہوتا ہے، وہ دفعہ144ہے۔ اس کا اطلاق بہت دلچسپ ہے اور اس کے تحت سزا انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی تصور ہو سکتی ہے۔ یہ دفعہ بیک وقت قانونی بھی ہے اور ناخوشگوار بھی۔ آیئے اس دفعہ144 کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی پہلو اور اس کے تحت کی جانے والی ناخوشگوار پابندیوں کا جائزہ لیں۔ یہ دفعہ ایک جگہ چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر لگتی ہے۔

اپنے اِسی روزنامہ ”پاکستان“ کی 21اگست 2013ءکی اشاعت میں ایک خبر ہے کہ ”نہر میں نہانے پر ایک نوجوان کے خلاف مقدمہ درج“۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ڈسکہ کا رہائشی محسن ولد مشتاق دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہر بی آر بی میں نہاتا پایا گیا۔ تھانہ سترا اور سٹی پولیس نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے الگ الگ مقدمہ درج کر لیا۔ اندازہ لگایئے ایک شخص کے ”نہانے“ کے جرم، بلکہ سنگین جرم میں قانون فوراً حرکت میں آیا اور متعلقہ تھانے کے علاوہ سٹی پولیس ڈسکہ نے ”فوری کارروائی“ کرتے ہوئے مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، جبکہ بے قصور معصوم شہریوں کو خون میں نہلا دینے والے دہشت گردوں پر کوئی دفعہ نہیں لگتی، چاہے وہ خود پولیس کے اعلیٰ ترین افسران کو قتل کر دیں:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

خواتین و حضرات! یہ دفعہ144 ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے اور اس کی خلاف ورزی بھی ہوتی چلی آ رہی ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو گا کہ ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر بہت ہنگامے ہوئے تھے، ان میں وکلاءپیش پیش تھے، حکومت ِ وقت نے فوراً اپنی پسندیدہ دفعہ144نافذ کر دی، جس کے تحت ایک جگہ پر چار یا اس سے زیادہ افراد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ وکلاءچونکہ ماہر قانون بھی ہوتے ہیں، انہوں نے مال روڈ پر پھر بھی احتجاجی جلوس نکالا اور ایک مجمع اکٹھا کرنے کی بجائے دو دو کی ٹولیوں میں سڑکوں پر آ گئے تاکہ احتجاجی جلوس بھی نکل سکے اور قانون، یعنی دفعہ 144کی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔ دفعہ 144کا اطلاق پتنگ بازی پر بھی ہوتا ہے، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر کھانے پینے، میوزک سننے،”بو کاٹا“ کے نعرے لگانے پر بھی یہ دفعہ لگ جاتی ہے۔ گویا عوام کو کسی قسم کی تفریح کا حق نہیں ،چاہے وہ سال میں ایک بار ہی کیوں نہ منائی جائے۔

رات10بجے کے بعد شادی گھروں میں شادی کا ہنگامہ، ڈھولک، مہندی، بچیوں کے شادی کے گیت گانے، لُڈی ڈالنے اور کھانا کھانے پر بھی اِسی دفعہ 144کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے، لہٰذا اس دفعہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مع دولہا اور دلہن مقامی تھانے یا حوالات میں قید کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں رات آٹھ بجے کے بعد دکانیں کھولنے پر بھی اِسی دفعہ کے تحت پابندی لگی، جسے کراچی کے دکانداروں اور تاجروں نے ہوا میں اُڑا دیا۔ گویا اس دفعہ کے تحت آپ لوگوں کے روزگار کمانے اور تفریح کرنے پر بیک جنبش قلم پابندی لگا سکتے ہیں۔

لاہور شہر میں سے گائے بھینسوں کو اِسی دفعہ144 کے تحت نکال دیا گیا ہے۔ یوں لاہور کے شہری اب خالص دودھ کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔ دودھ شہر کے نواحی علاقوںسے لایا جاتا ہے اور راستے میں بہت سی نہریں، نالے ، نلکے اور پانی کے ذرائع آتے ہیں، ایسے میں خالص دودھ کی دستیابی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کل کو کسی گائے کو سڑک پر چلتے ہوئے گرفتار نہ کر لیا جائے کہ اس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی ہے، جیسا کہ آپ کو دل محمد روڈ اور قلعہ گوجر سنگھ میں اکثر ایسی گائیں مٹر گشت کرتی نظر آئیں گی، وہ تو خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے، ورنہ تصور کریں کہ اگر یہ دفعہ بھارت میں لگے تو قانون نافذ کرنے والا ادارہ اُن کے خداﺅں، یعنی ”گاﺅ ماتا“ کو دفعہ144 کے تحت گرفتار کرنا شروع ہو جائے گا اور ہندو دھرم خطرے میں پڑ جائے گا۔

ہمارے ہاں فقیروں کے خلاف بھی محکمہ معاشرتی بہبود نے ایک بار کریک ڈاﺅن کیا اور شہر کے تمام فقیروں کو دفعہ144کے تحت فقیر خانوں میں قیام پذیر کر دیا۔ یہاں گو ان کو خوراک، لباس اور رہائش کی مفت سہولت میسر تھی، مگر بھیک مانگے جیسی سہولت اور عیاشی نہیں تھی۔ اس پُرسکون ماحول میں اُن کا دم گھٹنے لگا اور وہ یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ اِسی طرح بسوں میں تیز آواز سے ہارن بجاتے اور گانوں کو بھی اِسی دفعہ کے تحت بند کر دیا گیا۔ شکر ہے گانے والوں کو اندر نہیں کر دیا گیا، کیونکہ اپنے شوکت علی اور عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی بھی بلند آواز اور اونچے سروں میں گاتے ہیں۔

دفعہ144 کا ایک دلچسپ اطلاق گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ پر بھی ہوا اور اسے بند کر دیا گیا، تاہم ایم ایم عالم روڈ پر غیر اعلانیہ قائم فوڈ سٹریٹ پر کسی دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ یہ امراءکی فوڈ سٹریٹ ہے اور گوالمنڈی والی عوام کی فوڈسٹریٹ تھی۔ ہمیں ڈر ہے کہ کل کو محفل موسیقی سننے، خالص دودھ پینے، رات آٹھ بجے کے بعد مونگ پھلی، چلغوزے بیچنے اور کھانے پر بھی یہ دفعہ نہ لگ جائے۔ گھروں میں پانی نہیں آتا، شہر میں آپ کو ہینڈ پمپ نظر نہیں آتا، ایسے میں نہر پر جا کر نہانے پر بھی پابندی لگ جائے، اس طرح تو کل کو بارش میں نہانے پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔

خواتین و حضرات! دفعہ144 (جسے دوست لوگ دفعہ ایک سو چُتالی) کہتے ہیں، ایک ایسی حکومت اور پولیس فرینڈلی دفعہ ہے، جسے آپ پیٹ بھر کر کھانے پر بھی لگا سکتے ہیں۔ وہ جو استاد دامن نے کہا ہے تو غلط نہیں کہا کہ:

اَج زمین تے ٹیکس مکان تے ٹیکس

لگا تھڑے تے ٹیکس دکان تے ٹیکس

روٹی بھکیاں نوں کدے دین نا ایں

لا دیوندے نیں رج کھان تے ٹیکس

مزید : کالم