باہمی اختلافات!

باہمی اختلافات!
باہمی اختلافات!

  

                                                                            پوری دنیا میں مسلمان ممالک انتشار کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی سازشوں کی بدولت عراق، مصر، شام، لیبیا کا تو حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ گویا یہ دونوں ممالک بھی متذکرہ ممالک سے کچھ کم انتشار زدہ نہیں ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان میں انتشار کی اور بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ فرقہ واریت بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، پاکستانی عوام اسلام کے داعی ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک فرقہ، دوسرے فرقے کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔

اس رویے سے ایک دوسرے پر حملوں اور ہلاکت خیزی کو ہوا ملتی ہے، جس سے معاشرے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے وہ لوگ اور بھی کنفیوژ ہوتے ہیں، جن کا علم دین اور مذہب کے حوالے سے کم ہے۔ ان لوگوں نے قرآن کی تعلیم اس کی روح کے مطابق حاصل نہیں کی ہوتی۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت تو شاید کر لیتے ہوں، لیکن اس کا پیغام سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے رہنمائی کی کوئی صورت نکلنا چاہئے ہوتی ہے جو مختلف فرقوں کے آپس کے تناو¿ اور جھگڑوں کی بدولت نہیں ہو پاتی۔ یوں ان میں سے کچھ افراد بغیر دین کو سمجھے ہوئے کوئی نہ کوئی فرقہ جوائن کر لیتے ہیں اور پھر پوری عمر دوسرے فرقے اور اس سے وابستہ لوگوں کی لعن طعن کرتے گزرتی ہے۔

ہمارے یہاں جو آج نہ مسجدیں محفوظ ہیں اور نہ مدرسے، نہ گھر محفوظ ہیں اور نہ آبادیاں تو اس کی ایک وجہ یہ کہ ہماری ریاست اور حکمرانوں نے نا اہلی کا ثبوت دیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کو تو بہت مہلت نہیں ملی۔ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے بھی مذہبی ریفارمز کی جانب توجہ نہیں دی۔ کسی نے ملک کے مذہبی اداروں کو اس طرح سے مضبوط کرنے کی سعی نہیں کی، جس کے یہ متقاضی تھے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مذہب کے نام پر حاصل کئے گئے اس ملک میں مذہب کی ترقی و ترویج اور فہم کے حوالے سے کچھ ادارے بنتے جو آئندہ نسلوں کو قرآن، دین اور اس کے آفاقی پیغام سے روشناس کراتے، لیکن یہاں تو جس کو جو سُوٹ کرتا تھا، وہ کر گزرا۔

ایوب خان نے اس وقت ملک پر مارشل لاءمسلط کر دیا جبکہ پاکستان کی عمر ابھی صرف گیارہ برس تھی۔ پھر جاتے جاتے عنان حکومت یحییٰ خان کے حوالے کر دی۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور پھر جنرل ضیاءالحق آگئے۔ انہوں نے روس کے خلاف افغانستان کے مجاہدین کو جس طرح ہینڈل کیا، اس کی بدولت وہ اسلام کے ہیرو کے طور پر اُبھرے، لیکن جس طرح سے انہوں نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پورے ملک میں پھیلا دیا۔ اس سے پاکستان جرائم کا گڑھ بن گیا۔ ایران نے بھی افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی، لیکن انہوں نے انہیں اس طرح رکھا ، جس طرح مہاجرین کو رکھا جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں تو انہیں کھلی چھوٹ مل گئی۔ ماضی میں انہوں نے اندھا دھند شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوائے اور دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بنے۔ خیر یہ بحث پھر کبھی سہی، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ضیاءالحق بھی مذہبی ریفارمزے لے آتے تو ملک کے نوجوانوں کے پاس دین اور اسلام کے حوالے سے کوئی کنفیوژن نہ رہتی۔ بعد کی حکومتوں نے بھی اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔ 2001ءمیں ویسے ہی پاکستان امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف بن گیا۔ پاکستان بنا تو حلیف تھا، لیکن پاکستان کے 40 ہزار سے زائد شہری اور لگ بھگ 5 ہزار سیکیورٹی فورسز کے جوان اور افسران جانیں دے چکے ہیں۔

گویا ایک طرف پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے تو دوسری جانب پاکستان کے اندرونی حالات بھی ایسے ہیں کہ فرقہ واریت انتہا پر ہے۔ ایک فرقے کا پیروکار دوسرے فرقے کے پیروکار کو دیکھنا بھی کفر سمجھتا ہے۔ ایک فرقے کا آدمی دوسرے فرقے کی مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ خود پڑھنا تو درکنار ایک دوسرے کو مساجد میں جا کر شہید کیا جاتا ہے۔ اسی لئے صہبا اختر نے کبھی لکھا تھا:

ہم بحیثیت مسلمان اور ایک قوم کے، نجانے اس حقیقت کو سمجھ پائیں گے کہ ہم ایک دوسرے کو مار کرخود کو کمزور سے کمزور تر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو مارتے ہیں تو ہمارے دشمن کا کام آسان ہوتا ہے، جس کا ہدف نعوذ باللہ پاکستانی قوم کا قلع قمع کرنا ہے۔ دشمن جب پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے تو اسے یہاں پر موجود فرقوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئے سب مسلمان اور پاکستانی قوم ہیں، لہٰذا وہ ان کے خلاف دہشت گردی، خودکش دھماکے جائز گردانتا ہے۔

ڈرون حملے کرنے والوں نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ نیچے کس فرقے کا خاندان آباد ہیں، ان کے لئے تو جو قابو چڑھ جائیں، وہی بہت ہیں۔ بھارتی فوج جب لائن آف کنٹرول یا ورکنگ باو¿نڈری پر موجود پاکستانی پوسٹوں یا پھر سول آبادی کو نشانہ بناتی ہے، تو ان کے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ ان کے نشانے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، سنی، شیعہ یا کسی اور فرقے کا بندہ ہے۔ اس کے نشانے پر پاکستانی ہوتا ہے اور مسلمان ہوتا ہے۔ گویا اُن کے نشانے پر جو آجائے، وہ اسے اپنی کامیابی گردانتے ہیں۔ قوم جس فرقہ واریت کا شکار ہے۔ ایسے میں علمائے کرام اور مذہبی رہنماو¿ں کی جانب یہی توجہ جاتی ہے کہ جب تک وہ آگے نہیں بڑھیں گے عوام الناس اس شش وپنج سے نہیں نکل سکیں گے، لہٰذا ضرورت ہے کہ شعور اور آگہی کا دامن پکڑتے ہوئے آپس کے جھگڑے ختم کئے جائیں۔ اسی میں فلاح ہے، وگرنہ حالات تو پہلے ہی خراب ہیں، خدانخواستہ یہ سنبھلنے کی بجائے مزید دگر گوں نہ ہو جائیں۔ اللہ اس قوم کے لئے آسانیاں پیدا کرے!  ٭

مزید : کالم