فل سٹاپ

فل سٹاپ

                                                                                                        ”مَیں انٹرنیٹ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، اس کے ان اثرات کے بارے میں ،جو ہماری بچوں کی معصومیت پر مرتب ہو رہے ہیں، کیسے آن لائن پورنو گرافی بچپن کو برباد کر رہی ہے اور کس طرح انٹرنیٹ کے تاریک کونوں میں ایسی اشیاءموجود ہیں، جو ہمارے بچوں کے لئے براہ راست خطرہ ہیں اورلازمی ہے کہ ان اشیاءکو ختم کیا جائے۔ مَیں یہ تقریر اس لئے نہیں کر رہا کہ مَیں اخلاقیات کا درس دے رہا ہوں یا مَیں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہتا ہوں، بلکہ مَیں انتہائی گہرائی کے ساتھ ایک سیاست دان اور ایک باپ کی حیثیت سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ عمل کا وقت آن پہنچا ہے۔ سادہ الفاظ میں بات یہ ہے کہ ہم کیسے اپنے بچوں اور ان کی معصومیت کی حفاظت کرتے ہیں“۔

یہ الفاظ کسی صاحب جبہ و دستار کے نہیں۔ یہ آواز کسی منبرو محراب سے بلند نہیں ہوئی۔ یہ کسی عالم دین کا خطاب نہیں۔ یہ کسی واعظ کا وعظ نہیں ہے۔ یہ کسی باریش عمامہ پوش کی صدا نہیں ہے۔ سندر ہے، کہ داعین اسلام تو اس برائی کے خلاف ندا دیتے ہیں، لیکن جس دیس سے یہ صدا آئی ہے، وہاں سے غیر متوقع تھی۔

وہ شخص جس نے یہ کلمات ادا کئے ہیں، اس نے گہرے نیلے رنگ کا کوٹ پتلون زیب تن کر رکھا ہے۔ سفید رنگ کی شرٹ کے ساتھ جاذب نظر آسمانی رنگ کی ٹائی باندھ رکھی ہے۔ بال قرینے سے آراستہ کر رکھے ہیں۔ روسٹرم کے دونوں کناروں پر ہاتھ ٹکا کر وہ خطاب کر رہا ہے۔ پس منظر میں سبز روشنائی سے لکھا NSPCC، سفیدی پر نقش جما چکا ہے۔ کچھ نیچے انگریزی میں قدرے چھوٹے الفاظ میں تحریر رہے۔ Cruelty to children must stop.FULL STOP. خطاب کرنے والا برطانیہ کا باشندہ ہے، بلکہ اس کا وزیراعظم ہے اور اس کا نام ڈیوڈ کیمرون ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا:” مجھے واضح طور پر ہر مجرمانہ ذہن کو یہ کہہ لینے دیں، جو اس کے برعکس سوچتا ہے۔ اب کوئی ایسی چیز نہیں، جس کو انٹرنیٹ پر محفوظ جگہ کا نام دیا جا سکے، جہاں سے بچوں کے استحصال کا مواد حاصل کیا جا سکے۔ انٹرنیٹ پر تلاش کی کچھ خطرناک اصطلاحات کو بلیک لسٹ کرنا ہو گا، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اصطلاح لکھنے کے بعد سرچ انجن کوئی نتیجہ ظاہر نہیں کریں گے“۔

 برطانوی وزیراعظم نے جن مزید اقدامات کا اعلان کیا، ان کے تحت:

نئے قوانین کے مطابق، جو ویڈیوز برطانیہ میں آن لائن دیکھی جاتی ہیں ان پر وہ پابندیاں عائد ہوں گی، جو دکانوں پر فروخت ہونے والی ویڈیوز پر ہوتی ہیں۔ سرچ انجنز اکتوبر تک غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کے لئے مزید اقدامات کریں گے“۔ استحصال اطفال اور حفاظت کے آن لائن ادارے“ کے ماہرین کو مزید اختیارات دیئے جائیں گے تاکہ وہ خفیہ فائل شیئرنگ نیٹ ورکس کا جائزہ لے سکیں۔ تمام ملک سے پولیس کی جانب سے جمع کئے گئے بچوں کی ممنوعہ پورنو گرافی کے مناظر کا ایک محفوظ ڈیٹا بیس بنایا جائے گا، اس ڈیٹا بیس کو غیر قانونی مواد اور بچوں کی پورنو گرافی کے ناظرین کی نشاندہی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سروسز یونٹ کے ذریعے ہر وہ سائٹ جو غیر اخلاقی مواد پر مشتمل ہے اس کو بلاک کر دیا جاتا ہے اور یوں بے ہودہ مواد کو عام فرد کی پہنچ سے دور کر دیا جاتا ہے۔ یمن میں بھی تقریباً اِسی انداز سے اخلاقی طور پر گمراہ کن مواد پر نظر رکھی جاتی ہے۔

اہل پاکستان علم اور سائنس کے نام پر اپنے بچوں کو زہر دے رہے ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں معصوم بچوں کو فحاشی کا نشہ سستے داموں فراہم کیا جا رہا ہے۔ کیا ہمیں روپے کی چمک اور ڈالر کی دمک نے احساسات سے عاری کر دیا ہے؟ ہم آمدنی کی ہوس میں اپنا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں۔کیا اس ایٹمی طاقت کے ملکی خزانے کو بھرنے کے لئے بچوں کا بچپن اور معصومیت فروخت کرنا ضروری ہے؟ کیا اخلاقیات کی نیلامی اور کردار کی سودا گری سے ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا لازمی ہے؟ کمپیوٹر سکرین کی بدکرداری کا تختہ سیاہ اور موبائل سکرین کو بے حیائی کی سلیٹ نہ بننے دیجئے۔ یہ نہ ہو کہ کل ملکی خزانے بھرے ہوں اور قوم خالی ہو۔

27رمضان المبارک کو عمرہ ادا کرنے کے خواہش مندوں کو کوئی مترجم قرآن کریم کھول کر تھما دے اور سورة النور سامنے کر دے، کہ ہم کم عمل لوگوں کی صدا تو شاید بے اثر ہے۔ ممکن ہے رب العزت کا کلام پڑھ کر دل کی دنیا میں تبدیلی کی لہر دوڑ جائے۔ تصور کیجئے آج آزادی اظہار کے سرخیل انٹرنیٹ پر کنٹرول کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ آزادی سے بربادی تک کا سفر بہت طویل نہیں ہوا کرتا، بعض اوقات لمحوں کی خطا، صدیوں کی سزا بن جاتی ہے۔   ٭

مزید : کالم