”جہانِ مُسرور“.... کلیاتِ مسرور جالندھری!

”جہانِ مُسرور“.... کلیاتِ مسرور جالندھری!
”جہانِ مُسرور“.... کلیاتِ مسرور جالندھری!

  

                                                                بھارت کا مشہور شہر جالندھر، شعر و ادب کے حوالے سے خاصا مردم خیز بلکہ ”شاعر خیز“ خطہ رہا ہے۔ جالندھر کی نسبت سے ”جالندھری“ کے لاحقے کے ساتھ سب سے بڑھ کر مشہور و مقبول شاعر تو اپنے ابولاثر حفیظ جالندھری تھے، اُن کے علاوہ حضرت ِ فضا جالندھری .... ضیا جالندھری.... سید فیضی ]سابق ابر جالندھری[۔ یزدانی جالندھری، اخگر جالندھری ]سید محمد علی[ آزر جالندھری بھی تھے، جن کا ایک شعر مجھے مرحوم.... مسعود قریشی ]جالندھری[ نے کبھی سنایا تھا جو ابھی تک یاد ہے:

سیّد ہیں آپ حضرتِ آزر دُعا کریں

دشمن کو بھی خدا نہ غمِ روزگار دے

اِن سب متذکرہ جالندھری شعراءسے ہٹ کر ایک مسرور جالندھری بھی تھے جو ایک صاحب ِ فن شاعر تھے اور اسلام آباد میں طویل قیام کے دوران ہماری اُن سے خوب یاد اللہ رہی۔ اکثر شعری نشستوں میں اُن کا کلام سننے کا موقع ملا۔ اُنہیں اپنی نظامت میں ہونے والے پی ٹی وی کے مشاعروں میں بھی دو چار بار شریک ہونے کا موقع فراہم کرایا۔ انہوں نے محفل ِ مسالمہ اور نعتیہ مشاعرے میں اپنی پختہ سخن گوئی سے کامیابی حاصل کی۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ:

اہل ِ جہاں بُھلا نہ سکیں گے کبھی ہمیں

اپنے سخن کو چھوڑ چلے یاد گار ہم

اس تمام یادگار سخن کو اُن کی سعادت مند صاحبزادی طوبیٰ مسرور نے ”جہان ِ مسرور“ کی صورت میں یکجا کر دیا ہے۔534صفحات کے اس کلیات میں غزلیں، نظمیں، قطعات، ہائیکو، غرض سب ہی کچھ ہے۔ حتیٰ کہ پنجابی کلام کو بھی اس کتاب کے آخر میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ ہمارے خیال میں حمد، نعت، سلام، منقبت، ہائیکو، نظموں، قطعات ملی قومی نغموں پر مشتمل ایک مجموعہ الگ سے ترتیب دیا جا سکتا تھا۔

مسرور جالندھری بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے اور اس کلیات میں بھی غزلوں کا حصہ خاصا وقیع ہے۔ سب کچھ شامل کر لینے سے اور حد سے زیادہ کلام کی ضخامت کے سبب شاعر کا کوئی بہتر تاثر IMAGE بحیثیت مجموعی ابھر کر سامنے نہیں آ سکا، سوائے اس کے کہ جو ہے، جیسا کچھ ہے، سب کچھ صفحہ قرطاس پر محفوظ ہو گیا، ورنہ اس کا بھی وہ حشر ہو سکتا تھا جو اکثر ناخلف اور ادب سے نابلَد اولاد کے ہاتھوں75فیصد غیر مطبوعہ مسودوں کے ساتھ ہو جاتا ہے، یعنی اکثر قیمتی مسودات ردی میں تُل جاتے ہیں:

نامِ نیکِ رفتگاں ضائع مُکن

تا بہ ماند نامِ نیکت برقرار

طوبیٰ مسرور کا ایک سعادت مند بیٹی کے طور پر جس قدر شکریہ ادا کیا جائے، کم ہے، انہوں نے وہ کام کیا ہے، جو اکثر شعراءکی اولادِ نرینہ نہیں کر پاتی۔ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کمپوزنگ سے لے کر پرنٹنگ اور بائینڈنگ تک کا تمام کام ”تن ِ تنہا“ کرایا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ مسودے کی صورت میں یا کمپوز ہونے کے بعد بھی پوری کتاب کسی نے بھی نہیں پڑھی۔ نہ مرتب نے، نہ پروف ریڈر نے، نہ فلیپ نگار امجد اسلام امجد نے، نہ اپنی گرانقدر آراءدینے والے دو عدد ”ڈاکٹروں“، ڈاکٹر جواز جعفری اور ڈاکٹر عطاءالرحمن میو نے۔ اور نہ ہی ان میں سے کسی نے جن کے شکریے خواہ مخواہ ادا کئے گئے ہیں۔

اسلام آباد کے جواں سال شاعر اطہر ضیا صاحب جو مسرور جالندھری کی شاگردی کا دم بھرتے تھے، انہوں نے کیا کِیا؟.... مجھے افسوس ہی نہیں تمام کتاب پڑھ کر انتہائی قلَق ہُوا کہ:

ہے کہیں انشا غلط، املا غلط

شعر کی تصحیح کا بھی مسئلہ

بہرحال مسرور جالندھری کا دعویٰ تھا:

سوز ایسا ہے غزل میں کہ گماں ہوتا ہے

تم سے مسرور ملے ہوں گے کبھی میر کہیں

ان پُرسوز غزلوں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ میر تو کبھی مسرور صاحب کو ملے ہوں یا نہ ملے ہوں، بہت سے قدیم و جدید شعراءسے البتہ اُن کی ملاقات رہی ہے۔ یہاں مَیں مسرور جالندھری کے کچھ ایسے اشعار پیش کرتا ہوں، جن سے میرے ایک اور مستقل موضوع ”خیال کا سفر“ کو تقویت ملتی ہے، ملاحظہ ہو:

یہ لَوٹ کے جانے کی صدا کس نے لگا دی

ہم نے تو یہاں آ کے ابھی دَم ہی لیا ہے

مسرور جالندھری 

باغِ بہشت سے مجھے حکم ِ سفر دیا تھا کیوں؟

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر!

         علامہ اقبال ؒ

وہ جو مسرور دشمنِ جاں ہے

جاں اُسی پر نثار کرتا ہوں

        مسرور جالندھری

جان تم پر نثار کرتا ہوں

مَیں نہیں جانتا وفا کیا ہے

         مرزا غالب

صدا کلیاں چٹکنے کی جو آئی

مَیں سمجھا آپ نے آواز دی ہے

       مسرور جالندھری

اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی

جھک کے مَیں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کِیا؟،

        جوش ملیح آبادی

ہماری آنکھوں میں بے وجہ آ گئے آنسو

یقین کیجئے کسی بات پر نہیں آئے

       مسرور جالندھری

یونہی آنکھوں میں آ گئے آنسو

جایئے آپ کوئی بات نہیں

       سلام مچھلی شہری

اک عمر کی محنت کا یہ پھل پائیں گے ہم لوگ

مٹی کی رِدا اوڑھ کے سو جائیں گے ہم لوگ

       مسرور جالندھری

رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی

سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی

         احسان دانش

مَیں تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں

کوئی آ کر مرے شانے ہلائے

        مسرور جالندھری

مَیں تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں

تو مجھ سے کس لئے اتنا خفا ہے؟

         ناصر ِ زیدی

بہرحال.... قابل اطمینان اور قابل ستائش بات اتنی ہے کہ کلام مسرور جالندھری ایک جگہ محفوظ ہو گیا۔ اگرچہ کس کس خرابی سے ہُوا۔ شاعر حضرات اور اُردو اَدب و شعر سے خصوصی دلچسپی رکھنے والے خود ہی میری طرح غلطیوں کی درستی کرتے جائیں گے اور پڑھتے جائیں گے، ساڑھے پانچ سو صفحات پر پھیلا ہُوا یہ کلام پڑھنے میں البتہ ہر ہر شعر کے بعد کوفت تو ہو گی.... ادب دوستی اور مسرور جالندھری کی محبت میں یہ کوفت برداشت کر لینی چاہئے۔ ہم نے نیک نیتی سے اشارتاً نشاندہی کر دی ہے۔غلطیاں گنوانے بیٹھ جاﺅں تو کالم ٹھس ہو جائے گا اور”اغلاط نامہ“ رہ جائے گا۔:

چاہتے ہو اَور کیا فنکار سے

روشنی لے لو مرے افکار سے

]          ناصرِ زیدی[ ٭

مزید : کالم