جنابِ کرزئی کا دورئہ پاکستان

جنابِ کرزئی کا دورئہ پاکستان
جنابِ کرزئی کا دورئہ پاکستان

  

                                                    افغانستان کے صدر جناب حامد کرزئی گزشتہ روز اسلام آباد تشریف لائے اور وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کر کے ایک شب قیام کیا اور پھر واپس چلے گئے۔ دونوں رہنماو¿ں نے میڈیا پر آکر خطاب بھی کیا.... اس خطاب میں مجھے تو کوئی ایسی نئی بات نظر نہیں آئی جو پہلے نہ کہی گئی ہو اور جسے ہر پاکستانی جانتا نہ ہو۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان سے مدد کر نے کی درخواست کی، جو پاکستان(وزیراعظم) نے ”منظور“ کر لی۔ ان کے ساتھ جو وفود تشریف لائے تھے، انہوں نے بھی اپنے اپنے موضوعات اور محکمہ جات کے پاکستانی ہم منصبوں سے مذاکرات کئے اور اس اجمال کی تفصیلات پر بحث و مباحثہ کیا جو دونوں رہنماو¿ں کی طرف سے ”امدادِ باہمی“ کی صورت میں پردئہ سکرین پر دکھایا گیا تھا۔

ہمارے اور افغانستان کے میڈیا کے علاوہ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی اپنی زبان اور اپنے اپنے اسلوب میں اس ملاقات کے ”لب لباب“ پر تبصرے کئے اور پھر شاید (میری طرح) کالم نگاری بھی کی۔

پاکستانی پریس نے وہی باتیں ایک بار پھر دُہرائیں، جو قارئین اورE میڈیا کے ناظرین سینکڑوں ہزاروں بار سُن اور دیکھ چکے ہیں، یعنی یہی کہ دونوں اسلامی برادر ملک ہیں، دونوں کی ثقافت ایک ہے، دونوں ہمسائے ہیں، دونوں کی ”قمیض شلوار“ ایک طرح کی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی زبان بول اور سمجھ سکتے ہیں، دونوں کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور .... وغیرہ وغیرہ۔

لیکن مَیں نے بارہا اس امر پر غور کیا ہے کہ رہنماو¿ں کے ایسے بیانات اور ہمارے میڈیا کے ان تبصروں میں کیاکوئی نئی بات بھی ہے؟....کیا جو خرچہ پاکستان نے مہمانوں کی آو¿ بھگت پر کیا ہے، کیا اس کا کوئی منطقی جواز بھی تھا؟.... کیا یہ اسی طرح کی ملاقات نہیں تھی، جس پر ایک ہزار برس پہلے ایک مشہور افغانی شاعر ابوالقاسم فردوسی نے اپنے Epic ”شاہنامہ“ میں کہا تھا:

پئے مشورہ مجلس آراستند

نشتند و گفتند و برخاستند

بعض اوقات تو سنِ خیال بہت دور نکل جاتا ہے....ایسے لگتا ہے کہ اندر کی خبر کچھ اور ہوتی ہے اور باہر کی کچھ اور....رموزِ مملکت میں یہ ”وقوعہ“ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ میڈیا نے جوں جوں ترقی کی ہے، توں توں رموز مملکت کے فن میں بھی پیش رفت ہوئی ہے.... کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ میڈیا اور رموزِ مملکت ایک دوسرے کی ضد اور دشمن ہیں۔

رموزِ مملکت اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ”اصل خبر“ کو صیغہءراز میں رکھا جائے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں ایسی باتیں ہوتی ہیں جو عوام کو نہیں بتلائی جا سکتیں۔ نہ ہی ان کی سمجھ میں آسکتی ہیں، نہ ہی ان کو طشت از بام کرنے سے کسی فریق کا فائدہ یا نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

سینے میں رہیں رازِ ملوکانہ تو بہتر

کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر

اور عوام کو بّرہ یعنی ”بھیڑ کا بچہ“ کہہ کر، حکمران کو ”شیر“ قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر ”شیری“ کے آداب میمنے (بّرے) پر عیاں کر دئیے جائیں تو یہ خود بّرے کے حق میں سب سے بڑا ظلم ہوگا:

بے چارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم

بّرے پہ اگر فاش کریں قاعدہءشیر

پھر فردوسی اور اقبال کا زمانہ گزر گیا اور موجودہ دور کی برکاتِ حکمرانی کا دور آگیا۔ اس دور کو ”جمہوریت“ کا نام دیا گیا او وضاحت کی گئی کہ یہ طرزِ حکومت ایک ایسا طریقِ حکمرانی ہے جو عوام کی طرف سے، عوام کے لئے اور عوام ہی کے توسط سے تشکیل پاتا ہے۔ اس طرزِ حکومت کی لاکھوں برکات اور بھی ہیں، جن میں ایک اہم سوغات یہ ہے کہ اس میں عوام کا حقِ حکمرانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جاتا ہے اور تحریر و تقریر کی آزادیاں عام کی جاتی ہیں۔

 دوسری طرف اسی طرزِ حکومت میں جو لوگ برسرِ حکومت آجاتے ہیں، ان کو وزیراعظم یا صدر بن کر معلوم ہوتا ہے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن کا اخفاءاور جن کی پوشیدگی از بس ضروری ہوتی ہے۔ عوام کی بیشتر تعداد ان باتوں کو ہضم نہیں کر سکتی۔ یہ رازِ ملوکانہ سینے ہی میں رکھے جائیں تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ اس کام کے لئے ایک ڈرامہ رچایا جاتا ہے جس میں دو پلاٹ ساتھ ساتھ دکھائے جاتے ہیں۔ پلاٹ کے کردار اگرچہ وہی ہوتے ہیں، لیکن سٹوری مختلف ہوتی ہے۔ سٹیج پر جو کچھ دکھایا جا رہا ہوتا ہے، وہ کچھ اور ہوتا ہے اور پسِ پردہ جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، وہ بالکل اور ہوتا ہے۔

یہ ڈرامہ دیکھ کر جب لوگ گھروں کو لُوٹتے ہیں تو گلی، محلوں میں وہی سٹوری سُننے کو ملتی ہے جو سٹیج پر ناظرین نے دیکھی ہوتی ہے۔ تاہم پردے کے پیچھے جو کچھ ہو چکا ہوتا ہے وہ بالکل سٹیج والی سٹوری سے180 ڈگری معکوس ہوتا ہے، اس کا علم صرف انہی کرداروں کو ہوتا ہے جو سٹیج پر جا کر جو مکالمے بولتے ہیں، وہ پس پردہ بولے جانے والے مکالموں سے جدا ہوتے ہیں، یعنی ایک ہی کردار ڈُپلی کیٹ ہوتا ہے.... کواکب تو وہی ہوتے ہیں، لیکن اپنا روپ بدل لیتے ہیں۔ یا بہروپ بھر لیتے ہیں۔ یہ بھیس بدلنا ایک ایسا فن ہے جو آج کے جمہوری حکمرانوں کی مجبوری بن چکا ہے۔ میڈیا مطالبہ کرتا ہے کہ ہر بات، ہر راز ، ہر نکتے، ہر مصلحت کو عام کیا جائے۔ فلاں ایشو کی وجہ بتائی جائے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس ”ہونے یا نہ ہونے“ کے عواقب و نتائج کیا نکلیں گے؟.... گویا میڈیا گرما گرم چپاتی کو توے سے اُترتے ہی نگل جانا چاہتا ہے اور ہنڈیا چُولہے سے اُترتے ہی اس میں سے سالن نکال کر پیٹ کی آگ بُجھانا چاہتا ہے، جبکہ ”سیانے“ کہتے ہیں کہ کھانے کو گرم گرم نگلنا، انسانی صحت کے لئے مُضر ہے۔ زبان اور حلق جل جاتے ہیں۔ صدر کرزئی صاحب، میرے خیال کے مطابق اس لئے نہیں آئے تھے کہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے ایک دوسرے کی مددکا ”نیا نظریہ“ پیش کریں اور ”امداد باہمی“ نئے کلچر کو فروغ دیں۔ میری نظر سے دیکھیں تو مندرجہ ذیل نکات شاید ایسے نکات ہیں جو برسرِ سٹیج نہیں، بلکہ پسِ پردہ ڈسکشن کا ایجنڈا ہو ں گے۔

-1 2014ءکا آغاز ہونے کو ہے۔ صرف چار ماہ بعد کلاک کی ٹِک ٹِک تیز ہو جائے گی، آج امریکہ کے 60,000 فوجی ہیں جو افغانستان میں مقیم ہیں، وہ ان طالبان کی زد پر ہوں گے، جن کا صدیوں سے پیشہ ہی یہی رہا ہے کہ کسی غیر ملکی کو اپنی سرزمین پر برداشت نہیں کرتے.... افغانستان کی پہلی جنگ (1843ئ)، سوویت یونین کا1980ءکا عشرہ اور امریکہ کا 2000ءسے لے کر 2013ءتک کا ڈیڑھ عشرہ اس حقیقت کے غماز ہیں کہ طالبان اپنے جانی نقصانات کی پرواہ کم کم کرتے ہیں، لیکن غیر ملکی حملہ آور کا ”تیاپانچہ“ کرنے میں سردھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ جوں جوں 2014ءگزرے گا، یہ سر دھڑ کی بازی اپنی رفتار اور مار دھاڑ میں شدید تر ہوتی جائے گی.... ایسے میں پاکستان، امریکہ کی کیا مدد کر سکے گا؟

-2 امریکہ واپس جاتے وقت ساڑھے تین لاکھ افغان نیشنل آرمی(ANA) اور اڑھائی لاکھ افغان نیشنل پولیس(ANP) پیچھے چھوڑ جائے گا۔ یہ دونوں مسلح فورسز، امریکی اسلحہ اور ایمونیشن سے لیس ہوں گی۔ ان ساڑھے پانچ لاکھ مسلح افغانوں کو کون کنٹرول کرے گا؟.... کیا ان کا اسلحہ اور گولہ بارود پشتون طالبان کے لئے تر نوالہ نہیں بن جائے گا؟.... ایسے میں پاکستان، افغانستان کی کیا مدد کرے گا؟

-3 امریکہ کا عسکری سازو سامان کچھ تو پاکستان کے راستے واپسی امریکہ لے جایا جا رہا ہے، لیکن ابھی ایک بڑا اور گرانقدر حصہ، ِ افغانستان کی سرزمین ہی میں موجود ہے۔ اس کی ٹرانسپورٹیشن طورخم سے کراچی تک، پاکستانی طالبان کے رحم و کرم پر ہوگی.... ایسے میں پاکستان، افغانستان کی کیا مدد کر سکے گا؟

-4 جب افغانستان، امریکیوں سے خالی ہوگیا تو وہ ہزاروں بھارتی انسٹرکٹر اور عسکری استادانِ فن جب اپنے ”فن“ کا مظاہرہ کریں گے تو کوئی امریکی سپاہی ان کو حفاظت کا امبریلا (چھتری) فراہم نہیں کر سکے گا۔ ایسے میں ان ”کالیوں“ کیا بنے گا؟.... اور ایسے میں پاکستان افغانستان کی کیا مدد کرے گا؟

-5 حامد کرزئی صاحب اور سابق شمالی اتحاد والے ”فارسی وان“ جو آج برسرِ اقتدار ہیں، ان کے تاج و تخت کو پشتون افغانوں سے جو خطرہ ہوگا، کیا اس میں پاکستان کا رول پشتونوں کے حق میں ہوگا یا ”فارسی وانوں“ کے حق میں؟

قارئین کرام! مَیں شاید بالکل غلط سوچ رہا ہوں گا۔ شاید یہ سب نکات اور امور و معاملات بالکل کسی ڈسکشن ٹیبل پر کسی ”اندر خانے“ ڈسکس نہیں کئے گئے ہوں گے، شاید یہ میرے توہمات ہوں.... اور شاید.... شاید ....لیکن اس کے باوجود مجھے صرف ایک سادہ سے سوال کا جواب نہیں ملتا کہ کیا کرزئی صاحب اس لئے تشریف لائے تھے کہ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان کی ”مدد“ حاصل کریں؟ کیا یہ ” مدد“ ان نکات کو محیط نہ تھی، جو مَیں نے سطور بالا میں نقل کئے اور جن کے حقیقی ہونے کا کوئی ثبوت میرے پاس نہیں۔   ٭

مزید : کالم