بزرگ شہریوں کی پنشن

بزرگ شہریوں کی پنشن
بزرگ شہریوں کی پنشن

  

                                                                                                ہمارے سینئر اور بزرگ حمید جہلمی (مرحوم) پہلی مرتبہ ترکی گئے تو واپسی کے بعد انہوں نے جو باتیں بتائیں، ان میں زیادہ اہم یہ تھی کہ ترکی میں صحافیوں کو سفر کی مفت سہولت دی جاتی ہے اور سینئر شہریوں کے لئے بے شمار رعائتیں ہیں۔ وہ اس حوالے سے ترکی کا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کرتے تھے۔ اس کے بعد ہمیں بھی ملک سے باہر نکلنے کا موقع ملا تو تصدیق ہوگئی کہ ترقی یافتہ ممالک میں سینیئر شہریوں (بزرگ حضرات) کے لئے بہت سی سہولتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ٹکٹ وغیرہ کی خریداری کے لئے ان کی الگ قطار اور بوتھ ہوتا ہے۔ بسوں اور ٹرینوں میں نشستیں مختص ہوتی ہیں اور پھر نوجوان بھی احترام کرتے اور ان کے لئے کُرسی خالی کر دیتے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک کی تو چھوڑئیے،ہمیں پہلی مرتبہ بھارت جانے کا موقع ملا، جاتے ہوئے بس سے براستہ سڑک گئے کہ امرتسر اور پھر کروک شیتر کے علاوہ پٹیالہ میں تقریبات تھیں، جہاں سے فراغت کے بعد دہلی میں دو روز ملے اور طے ہُوا کہ واپسی ریل سے ہوگی۔

ریل کار کی بُکنگ کے لئے دہلی ریلوے کے بکنگ آفس گئے تو حیرت ہوئی۔ ٹکٹ لینے اور بکنگ کرانے والوں کی بھاری تعداد اور ہر بوتھ پر بھیڑ تھی۔ ایسے میں ایک بوتھ پر نظر پڑی تو حیرت اور خوشی کے مِلے جُلے جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ اس بوتھ پر تحریر تھا، ”سینئر شہریوں اور جنگ آزادی کے سپاہیوں کے لئے“....ہمارا شمار سینئر شہریوں میں ہو چُکا تھا، اس لئے دوستوں نے بکنگ کی ذمہ داری ہم پر ڈال دی۔ ہم اس بوتھ والی قطار میں کھڑے ہوگئے۔ ہم سے پہلے تین یا چار سفید بالوں والے تھے۔ اس کے بعد ہماری باری آئی تو بوتھ والے بابو نے اُچٹتی سی نظر ڈال کر اندازہ لگایا اور پھر مطلوبہ معلومات اور پاسپورٹ دیکھنے کے بعد امرتسر کے لئے مطلوبہ بکنگ کر دی۔ یوں ہم طویل انتظار سے بچ گئے۔

اس کے برعکس ہمارے اپنے دیس اور ملک میں ایسی کوئی سہولت نہیں اور اگر کسی سطح پر کچھ کیا گیا ہے تو وہاں بھی ڈاکہ زنی ہوگئی ہے۔ ہمارے ملک میں اخلاقیات کا ایک اپنا معیار ہے، اس لئے کئی بار ہمیں نوجوانوں کی محبت کا اظہار دیکھنے کا موقع ملا کہ بس میں ہمارے لئے نشست خالی کی گئی، تاہم مجموعی طور پر یہاں ایسا کوئی احترام نہیں ہے، نہ تو بزرگ شہریوں کے لئے کوئی مراعات ہیں اور نہ ہی ان کے حفظ مراتب کا خیال رکھنے کے لئے کسی سہولت کا اہتمام کیا گیا ہے، بلکہ یہاں تو یہ ہُوا کہ ان بزرگ شہریوں کے خون پسینے کی کمائی کو دو دو ہاتھوں سے لُوٹا گیا ہے۔ وہ تو بھلا ہو، عدالت عظمیٰ کا کہ اس کے نوٹس لینے سے بزرگ اور معمر شہریوں کا لُوٹا گیا مال واپس آنا شروع ہوا اور خورد برد کرنے والوں کا احتساب شروع ہوگیا ہے۔

قصور کے محلہ اسلام پورہ سے ایک سینئر شہری محمد حسین کا خط موصول ہُوا، جنہوں نے ہم سے فرمائش کی ہے کہ ان جیسے تمام شہریوں کے مسائل کو اُجاگر کریں۔ شاید حکومت کو خیال آجائے اور چیف جسٹس نوٹس بھی لے لیں۔ یہ صاحب ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ) کے پنشنر ہیں۔ ان کو ہر ماہ تین ہزار چھ سو روپے پنشن ملتی ہے۔ محمد حسین کے مطابق حکومت نے پنشنروں کے لئے کم از کم پانچ ہزار روپے ماہوار پنشن کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی بجٹ میں پنشنوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے مطابق دس فی صد اضافے کا بھی اعلان کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے کرتا دھرتا حضرات نے حکومت کے اس اعلان پر عمل نہیں کیا اور نہ تو کم از کم پنشن پانچ ہزار روپے کی اور نہ ہی دس فی صد اضافے کے مطابق پنشن بڑھائی، تمام سرکاری پنشنروں کے معاملے میں اس حکم پر عمل ہو چُکا، لیکن جب معمر (بزرگ) حضرات بنک سے جولائی کی پنشن لینے گئے تو ان کی پنشن جوں کی تُوں تین ہزار چھ سو روپے ہی تھی اور کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔

 پنشنر محمد حسین کے مطابق پنشن والے خصوصاً بڑھاپے کی پنشن والے تو سب سے زیادہ اضافے کے حق دار ہیں۔ دنیا بھر میں ان کو مراعات دی جاتی ہیں اور یہاں تو ان کو ان کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔ مہنگائی کئی گنا بڑھ گئی۔ کیا آج کے نفسانفسی کے دور میں یہ 3600 روپے کسی ایک فرد کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں؟

اس ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ (ای او بی آئی) کا تذکرہ میڈیا پر ہے۔ عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس کے تحت کارروائی شروع کی تو معلوم ہوا کہ اس ادارے میں جمع فقیروں کی کمائی کو اندھی لوٹ سیل لگا کر لوٹ گیا اور ہزاروں روپے مرلہ قیمت والی زمین لاکھوں روپے مرلہ کے حساب سے خرید کر معمر افراد کے پنشن کے خزانے سے اربوں روپے لوٹ لئے گئے ہیں۔ بعض سرمایہ دار حضرات کی طرف سے رقوم کے چیک جمع بھی کرائے گئے۔ ابھی کیس زیر سماعت ہے۔

یہ ای او بی آئی کیا ہے اور اس کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی تو اس کا مختصر تذکرہ ضروری ہے۔ حکومت کی طرف سے ریٹائر ہو جانے والے ملازمین کو بڑھاپے میں سہولت پہنچانے کے لئے قانون بنا کر یہ ادارہ بنایا گیا۔ صنعتوں اور بڑے تجارتی مراکز کو اس ادارے کا رکن ہونا ضروری قرار دیا گیا ۔جو ادارے رکن بنتے ہیں، وہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے ان کی تنخواہ کے تناسب سے کچھ کٹوتی کرتے ہیں۔ جیسے پراویڈنٹ فنڈ کے لئے کی جاتی ہے۔ جتنی رقم ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹی جاتی ہے، اتنی آجر اپنی طرف سے شامل کرتا اور ای او بی آئی کے پاس جمع کرا دیتا ہے۔ اب رکن ادارے کا ملازم ساٹھ سال سے اوپر عمر کو پہنچ جائے تو وہ اس انسٹی ٹیوٹ سے ماہانہ پنشن (بڑھاپے کی) کا حق دار ہو جاتا ہے۔ ادارہ تصدیق کے بعد پنشن بُک تیار کر کے اس شہری کو دے دیتا ہے جو متعلقہ بنک برانچ سے ہر ماہ پنشن وصول کرتا ہے یہ 2011-12ءمیں تین ہزار تھی اور جب 2012-13ءکے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کیا گیا تو یہ بڑھ کر تین ہزار چھ سو ہوگئی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی انسٹی ٹیوٹ پر قابض کرتا دھرتا حضرات نے از خود یہ اضافہ نہ کیا اور جولائی کی پنشن میں اضافہ شامل نہیں کیا۔ جب احتجاج ہوا تو بعد میں چھ سو روپے کا اضافہ کر کے بقایا جات بھی دئیے گئے۔ کہا یہی گیا کہ اس اضافے کے لئے محکمہ خزانہ کی الگ ہدایت کی ضرورت تھی،جس کے آنے پر اضافہ کر دیا گیا۔ اس سال بھی یہی عذر پیش کیا گیا اور جولائی کی پنشن جو اگست میں دی گئی، وہ کسی اضافے کے بغیر تھی۔ اس پر ہی ان حضرات نے احتجاج کیا ہے۔

ہمارے خیال میں قصور کے اس بزرگ شہری کی شکایت سو فیصد درست ہے کہ محکمہ والوں نے اربوں روپے خورد برد تو ہونے دئیے، لیکن حق داروں کو ان کا حق دینے پر تیار نہیں، حالانکہ آج کے مہنگائی کے دور میں ان کو زیادہ ضرورت ہے جو خود کوئی کام نہیں کرتے اور اولاد کے سہارے پر ہیں، ان کے لئے یہ 36 سو روپے بہت کم ہیں۔ ان کو سرکار کی طرف سے اعلان کردہ کم از کم پنشن (پانچ ہزار روپے ماہوار) کا حق دار ہونا چاہئے۔ انسٹی ٹیوٹ والوں کے پاس یہ ان کی امانت ہے اور اسی میں سے ان کو حصہ لوٹانا ہے۔ بزرگ شہریوں نے تو اب چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کی طرف نگاہ لگا لی ہے۔ وہ منتظر ہیں کہ عدالت عظمیٰ جہاں خورد برد والی رقم برآمد کرا رہی ہے، وہاں اس مسئلہ کو بھی دیکھئے اور پنشن پوری دینے کا حکم جاری کرے۔  ٭

مزید : کالم