شائستگی

شائستگی
شائستگی

  

                                                                شائستگی جناب، شائستگی ، گالی کو گالی سے نہیں، حسن اخلاق سے دعا دے کر اسی کو واپس لوٹا دی جاتی ہے کہ شرم سے پانی پانی ہو جائے۔زبان سے نکلی ہوئی گالی بندوق کی اس گولی کی طرح ہوتی ہے، جو چلانے والے کو ہی واپس آ سکتی ہے۔پشتو زبان کی ضرب المثل مشہور ہے: ”جب ہم کسی کی عزت کررہے ہوتے ہیں تو اس کی عزت نہیں کررہے ہوتے ،بلکہ اپنی عزت کروا رہے ہوتے ہیں“۔

عمران خان اور مولانا فضل الرحمن اکثر ایک دوسرے کے لئے پرلے درجے کے گھٹیا القابات استعمال کرتے ہیں، لیکن ذرا ٹھہریئے پہلے اپنے اسلاف کے رویوںکو دیکھ لیتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہو چکے۔ایک گروہ جناب علی المرتضیٰؓ کو خلافت کا حقدار ٹھہراتا تھا، اس لئے ابتدائی دنوں میں تھوڑی دوری ہوئی، اسی دوران ایک شخص نے خلیفہءاول جناب ابوبکر صدیقؓ سے دریافت کیا کہ آپ علیؓ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔اسلامی تاریخ کے پہلے خلیفہؓ نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ الفاظ سے آج بھی خوشبو محسوس ہوتی ہے، فرمایا: ”علیؓ کا چہرہ دیکھنا بھی عبادت ہے“۔ حضرت امیر معاویہؓ سے ایک شخص نے ایک فقہی مسئلے پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے اختلاف کا ذکر کیا کہ امیر معاویہؓ کو اشتعال دلا سکے، مگر جناب امیرمعاویہؓ نے کہا: ”عبداللہ بن عباس ہم سے زیادہ علم رکھتا ہے“۔ امام ابو حنیفہؒ تو گالی دینے والے کے گھر تحائف لے کر پہنچ گئے تھے کہ تو نے مجھے گالی دے کر اپنی نیکیاں میرے نام کر دیں اور میرے گناہ اپنے سر لے لئے۔

 کپتان اور مولانا کیا اخلاقی قدروں کے لحاظ سے اس قدر بانجھ ہو چکے ہیں کہ اپنے لہجوں کو شائستگی اور مہذب پن میں نہیں ڈھال سکتے۔رہنما صرف سیاست کے جوڑ توڑ، سودے بازیوں اور داﺅ پیچ کی صلاحیتوں کا حامل نہیں ہوتا کہ یہ کام تو منڈی کا آڑھتی بھی احسن طریقے سے کرسکتا ہے۔رہنما اخلاقی مجسمہ بھی ہوتا ہے۔قائداعظمؒ اور گاندھی بہت بڑے سیاسی حریف تھے۔سیاسی ہی نہیں، مذہبی حریف بھی کہ قائداعظمؒ ہندو سٹیٹ سے الگ ہو کر مسلمان ریاست چاہتے تھے، مگر قائداعظمؒ نے کبھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا، کبھی گاندھی کے لئے نازیبا الفاظ استعمال نہ کئے۔

مولانا فضل الرحمن اور عمران خان دونوں ہمارے لئے قابل احترام ہیں، مگر دونوں ایک دوسرے کی کردار کشی کیوں کررہے ہیں؟ زندگی انسان کے اپنے کردار سے روشن و قابل احترام کہلاتی ہے،دوسرے کے کردار کی خامیاں ڈھونڈ کر نہیں۔انسانی جسم کی عمارت اس کے اپنے کردار کے ستون پر کھڑی ہوتی ہے۔انسان کب اپنے حریف کی کردار کشی کرتا ہے؟جب اسے اپنے کردار سے کوئی اچھائی کی کرن پھوٹتی نظر نہ آئے کہ جسے وہ بیان کرکے حریف پر سبقت حاصل کرسکے۔مور کو اپنی خوبصورتی جتانے کے لئے کوے کی بدصورتی بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہرن کو بھیڑ کے بھرے پن کی تشہیر کی ہرگز ضرورت نہیں پڑتی۔کیا یہ اس بات کی علامت نہیں کہ کپتان اورمولانا دونوں اپنی ذات کی حد تک عوام کو متاثر کرنے کے لئے کچھ نہیں بتا سکتے،اس لئے ایک دوسرے کی ذات پرکیچڑ اچھال کر معاشرے کو پراگندہ کرکے اخلاقی قدروں کی توہین کررہے ہیں۔نئی نسل اپنے رہنماﺅں کے اخلاقی دیوالیہ پن سے کیا سبق سیکھے گی؟افسوس صد افسوس کہ دونوں نے اپنی ذات کی حد تک بانجھ پن کی منادی کرا دی، جیسے بہار میں سوکھا ہوا درخت ہرے بھرے درختوں کے درمیان کھڑا ہو کر اپنی بدحالی کا نوحہ کررہا ہو۔

ایک دوسرے کی کردارکشی کیوں؟ اپنی ذات کے کھوکھلے پن کو چھپانے کے لئے حریف کی ذات کے عیب اچھال کر کیا اپنی ذات چھپ سکتی ہے؟ہرگز نہیں۔ انسان اپنی ذات کی خوبیوں سے بلند مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے،دوسرے کی خامیوں کا پرچارکرکے نہیں۔چاند اپنی روشنی سے چاند کا مرتبہ پاتا ہے،جگنوﺅں کی معمولی روشنی کے عیب گنوا کر نہیں۔ پہاڑ ٹیلوں کو پست قد ہونے کا طعنہ دے کر خود کو بلند قامت ثابت نہیں کرتے، بلکہ اپنے دراز قد سے پہاڑ کہلاتے ہیں۔ شہدکو اپنی مٹھاس ثابت کرنے کے لئے گُڑ کے شربت کے بد ذائقہ ہونے کی منادی نہیں کراناپڑتی۔ اپنی آنکھ کا شہتیر چھپانے کے لئے دوسرے کو آنکھ کے تل کا طعنہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عریاں شخص نیم عریاں کو بے پردگی کا الزام نہیں دے سکتا۔ سجدہ ریز شخص رکوع میں جھکے شخص پرشرک کی پھبتی کسنے کا اہل نہیں ہوتا۔اقتدار کا پجاری کسی اور کو کرسی کی پوجا پر طعن و تشنیع کا کیا حق رکھتا ہے، ہرگز ہرگز یہ ممکن نہیں، یہ اپنے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔اپنے عیب چھپانے کی ناکام کوشش، اپنی ذات کے بانجھ پن کا اعلان ہوتا ہے۔

انسانی شخصیت کا منارہ اس کی اپنی خوبیوں سے روشن ہوتا ہے، حریف کی خامیاں چسپاں کرکے نہیں۔مولانا فضل الرحمن کے عمران خان پر الزامات کا پس منظر کیا ہے کہ کے پی کے میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کی حکومت کی ناکامی کے بعد مولانا اپنی جماعت جمعیت علمائے اسلام کی حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے، مگر عوام نے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دے کر مولانا کے خواب چکنا چور کر دیئے۔2002ءسے 2008ءتک جس طرح انہوں نے اقتدار کے مزے لوٹے تھے، 2013ءمیں کپتان نے ان سے اقتدار کی کرسی چھین لی، اس لئے وہ اپنی ناکامی کا سارا غم و غصہ کپتان پر بے سروپا الزامات لگا کر اتار رہے ہیں۔

دوسری طرف کپتان بھی اپنی جو شیلی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ کپتان روز بروز اپنے معیار سے نیچے کی طرف لڑھکتا جا رہا ہے اور اپنی توانائیاں فضول اور بے مقصد پنگوں میں صرف کررہا ہے،جس سے اس کی شہرت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ کپتان کا اصل گول ایک بہترین اپوزیشن جماعت کا ہے اور کے پی کے میں اپنی کارکردگی مثالی بنائیں پھر اسے کسی کو گالی کے جواب میں گالی نہیں دینی پڑے گی، بلکہ اس کی کارکردگی ہی اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ کپتان کے پاس اپنے حریفوں کے الزامات کے جواب کے لئے بطور اپوزیشن جماعت اور صوبہ کے پی کے کی حکمران جماعت کوئی خوبی و کارکردگی نہیں کہ وہ ان کا منہ بند کر سکے۔ کپتان کی جوشیلی طبیعت کی یہی خامیاں اور مشاورت کے بغیر فیصلوں اور پھر ان فیصلوں کے منفی اثرات اسے ایک کامیاب لیڈر بننے سے روک رہے ہیں۔کپتان کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود کپتان ہے۔

کپتان نے کیا تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کے عظیم کردار کا مطالعہ نہیں کیا کہ اس دور کے ملاﺅں نے حضرت قائداعظمؒ پر اسی طرح کے کئی فضول الزامات لگائے تھے، مگر اللہ کے اس ولی نے ان نامراد لوگوں کے کسی الزام کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھا اور اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لئے دن رات جدوجہد کرکے چودہ سو سال بعد اسلامی ریاست قائم کرکے ریاست مدینہ کی یاد تازہ کردی۔آج اسی قائد کے پاکستان میں پاکستان کی آزادی کو گناہ سے تشبیح دینے والے لوگ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔قائداعظمؒ اگر آزادی حاصل نہ کرے تو آج ہندوستان میں یہ ملا اس قدر پاور میں ہوتے؟؟

کپتان کو بے مقصد اور فضول حرکتوںمیں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے بطور اپوزیشن لیڈر اور صوبہ کے پی کے کی حکمران جماعت ہونے کے ناتے اپنی بہترین کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔آخر میں ایک چھوٹی سی بات چشمے کا وجود چھوٹا ہوتا ہے۔چھوٹے سے دہانے سے پانی نکلتا ہے جو پیاس بجھانے کے کام آتا ہے، جبکہ میلوں پھیلا دریا اپنے گدلے پانی کی وجہ سے کسی کو ایک گھونٹ نہیں پلا سکتا۔ قومی اسمبلی کی چند سیٹیں اور ایک چھوٹے صوبے کی حکومت کپتان اگر خدمت خلق کے جذبے سے متحرک ہو جائے تو وہ میٹھا چشمہ بن کر دو تہائی والے دریاﺅں کو بے اہمیت کر سکتا ہے۔ شائستگی جناب شائستگی ،گالی کو گالی سے نہیں، حسن اخلاق سے دعا دے کر اسی کو واپس لٹا دی جاتی ہے کہ شرم سے پانی پانی ہو جائے۔  ٭

مزید : کالم