متحدہ کا نیا مطالبہ، سیاسی میدان میں اکیلی کھڑی ہے

متحدہ کا نیا مطالبہ، سیاسی میدان میں اکیلی کھڑی ہے
متحدہ کا نیا مطالبہ، سیاسی میدان میں اکیلی کھڑی ہے

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین سیاست اور وہ بھی اقتدار کا کھیل بھی بڑا ظالمانہ ہے اور ضرورت ایجاد کی ماں کے مطابق موقف کی تبدیلی کسی اصول کی منتظر نہیں ہوتی، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ کرکے دھماکہ کردیا ہے اور ساری توجہ دوسرے مسائل سے ہٹ کر اس طرف ہوگئی ہے یہ الگ بات ہے کہ اس میدان میں متحدہ کو کسی طرف سے حمایت نہیں ملی تاکہ شاہی سید نے بالواسطہ تائید کی لیکن یہ کہ اے این پی سندھ کا مطالبہ اب یاد آیا، شاہی سید کی مرکزی قیادت کو بہرحال اتفاق نہیں ہے۔متحدہ کے اس مطالبے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے اور آئین کی تشریح تک نوبت آگئی متحدہ نے آئین کے آرٹیکل 145 اور 149 کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اس سے کوئی اختلاف نہیں کرتا لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ ان آئینی آرٹیکلز کی رو سے صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاق مدد کرسکتا ہے اور سول انتظامیہ کی استدعا پر فوج آسکتی ہے اس سلسلے میں تو ڈپٹی کمشنر بھی درخواست کرسکتا ہے، بہرحال سیاسی قائدین کو 10ویں ترمیم اور اس کی روح پر بھی غور کرنا ہوگا۔متحدہ کی طرف سے یہ مطالبہ اور پیپلزپارٹی پر حملے سندھ اسمبلی سے بلدیاتی قانون منظور ہونے اور اس پر قائم مقام گورنر کی طرف سے منظور کے دستخط کے بعد کئے گئے اور اصل جھگڑا بھی یہی لگتا ہے، دوسری طرف یہ عمل بھی غور طلب ہے کہ اس بل یا قانون پر دستخطوں میں چند روز کی تاخیر یا اس کی کسی شق پر اعتراض ہرسکتا تھا تو وہ متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کی طرف سے ممکن تھا، لیکن وہ بڑی حکمت عملی سے اپنا دامن بچا گئے اور نجی طور پر دوبئی چلے گئے تاکہ سپیکر بطور قائم مقام گورنر دستخط کردیں، اب متحدہ بڑے زور سے کہہ سکتی ہے کہ سندھ کے بلدیاتی قانون کی منظوری کے گناہ میں ہم شامل نہیں ہیں، سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی اسمبلی میں متحدہ اکیلی اور باقی سب (حزب اختلاف والوں سمیت) ایک طرف ہیں اور فوج بلانے کے مسئلہ پر بھی متحدہ اکیلی نظر آئی لیکن یہ متحدہ کی سیاست ہے کہ بات کی ہے تو اسے کہا بھی جاتا رہے گا۔دوسری طرف عوامی رائے عامہ بھی تو ہے جو یہ سوچ رہی ہے کہ اس وقت کنٹرول لائن پر ازلی دشمن سے جھڑپیں جاری ہیں، ملک دہشت گردی کا شکار ہے، دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات چل رہی ہے، افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے پس منظر میں حامد کرزئی کا دورہ ہوا، مذاکرات ہوئے اور بعض امور طے پائے ہیں، ایسے میں کراچی کے لئے فوج بلانے کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے؟اسی پر موقوف نہیں، ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، تاجر من مانی کررہے ہیں، دکانداروں پر کسی کی نگاہ نہیں، نان دس روپے کا ہوگیا، آٹا چالیس روپے فی کلی تک پہنچ گیا، سبزیاں بھی عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں۔ کیا عوام یہ نہ سوچیں کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما سب تماشے اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کرتے ہیں؟ بے روزگاری، اداروں کی تباہی اور اب نجکاری کا شور اور چھانٹیوں کی بھرمار یہ سب عوام کے لئے پریشان کن ہے تو ان کے نمائندوں کو کیوں خیال نہیں آتا۔سچ تو یہ ہے کہ متحدہ نے ہمیشہ اپنے غلبہ اور مخصوص سیاسی قوت کے بل پر سب کو بلیک میل کیا؟ مسلم لیگ (ن) پھر پیپلزپارٹی، پھر پرویز مشرف اور پھر پیپلزپارٹی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) سے پینگیں بڑھانا کس سیاست کا حصہ ہے، لوگ اس دلیل کو نہیں مانتے کہ ہم اقتدار کے ساتھی تو تھے لیکن ذمہ دار نہیں ہیں، متحدہ والے قریباً پندرہ برس اقتدار میں رہے ہیں، اگر حساب ہی کرنا ہے تو ڈاکٹر عشرت العباد کی گورنری کے پیریڈ ہی سے کرلیں جو ایک ریکارڈ ہے۔جہاں تک کراچی کے مسئلہ کا تعلق ہے تو ایک سے زیادہ مرتبہ اس پر اتفاق ہوا کہ قومی اور ملی سوچ اور جذبے کے تحت سب سٹیک ہولڈر مل کر یہ فیصلہ کریں کہ کسی رعایت کے بغیر اپنے حلقوں سے جرائم پیشہ افراد کو نکال دیں گے اور تعصب والی بھرتیاں ختم کرکے غیر جانبدار انتظامیہ کو بااختیار بنائیں گے۔ جس کے خلاف الزام کے ٹھوس ثبوت ہوں گے اس کے خلاف کارروائی اور کوئی مداخلت نہیں کرے گا تو مسئلہ حل ہوجائے گا، روشنیوں کے شہر کی روشنی اسی طرح واپس آسکتی ہے۔ ذاتیات چھوڑیں قومی اور عوامی مسائل کی طرف توجہ دیں، یوں ہی رینجرز فوج ہی کا حصہ ہے۔تجزیہ خادم حسین

مزید : تجزیہ