”حکومتی پیشکش نے پشتون اور پنجابی طالبان میں دراڑ واضح کردی “

”حکومتی پیشکش نے پشتون اور پنجابی طالبان میں دراڑ واضح کردی “
”حکومتی پیشکش نے پشتون اور پنجابی طالبان میں دراڑ واضح کردی “

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پشتون اور پنجابی طالبان کی اصطلاح نے تحریک طالبان پاکستان میں دراڑ ڈال دی،حکومت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش اور طالبان سے نرم گوشہ رکھنے کے باوجود تحریک طالبان مذاکرات پرسنجیدہ نظر نہیں آرہی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجابی طالبان رہنما عصمت اللہ معاویہ امن کے خواہاں ہیں جبکہ پشتون طالبان فساد کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں،تحریک طالبان میں پنجابی اور پشتون اصطلاح کے استعمال ہونے کے بعد سے دونوں گروپوں میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان محسود گروپ حکومت پاکستان کے معاملے میں انتہائی سخت جبکہ پنجابی طالبان کسی حد تک نرم رویہ رکھتے ہیں اور پاکستان میں امن کے خواہاں نظر آتے ہیں۔تحریک طالبان کے رہنما عصمت اللہ کو حکیم اللہ محسود کی جانب سے معزول کرنے پر عصمت اللہ نے پشتون طالبان کے فیصلے کو مسترد کردیا جس پر دونوں گروپوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ نواز شریف کے امن مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم بھی پنجابی طالبان نے کیا جس پر دونوں گروپوں میں اختلاف واضح ہوگیاتھا۔

مزید : قومی