ٹیکس وصولی کا ہدف بھتہ خوروں کو دیدیں۔۔ ۔

ٹیکس وصولی کا ہدف بھتہ خوروں کو دیدیں۔۔ ۔
ٹیکس وصولی کا ہدف بھتہ خوروں کو دیدیں۔۔ ۔

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ملکی خزانے میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرانیوالے شہر کے تاجرانکم ٹیکس سے زیادہ بھتہ دے رہے ہیں اور یومیہ بنیادوں پر ایک کروڑ روپے بھتہ کسی نہ کسی شکل میں وصول کیاجارہاہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں سالانہ 4 ارب روپے سے زائد فکس و جبری بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، شہر کی چھوٹی بڑی ہر مارکیٹ بھتہ خوری کی لپیٹ میں ہے۔ صرف اولڈ سٹی ایریا کی تقریباً ایک سومرکزی مارکیٹوں سے ماہانہ کئی کروڑ روپے فکس بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔ ان مارکیٹوں میں کھجور بازار، صرافہ بازار، برتن بازار، کاغذی بازار، چپل مارکیٹ، میٹھا در، کھارا در، جوڑیا بازار بالٹن مارکیٹ، کپڑا بازار، بوتل گلی، جونا مارکیٹ اور جامع کلاتھ مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹں اور بازار شامل ہیں جہاں تاجروں سے فلاحی کاموں کے نام پر بھی بھتہ مانگا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق شہر میں انکم ٹیکس سے زیادہ بھتہ ادا کیا جا رہا ہے، احتجاج کرنے پر تاجروں کو قتل کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ شہر کے پوش علاقوں کلفٹن، ڈیفنس، گزری، زمزمہ، طارق روڈ، بہادر آباد سمیت اردو بازار، الیکٹرونکس مارکیٹ، صدر، گلشن اقبال ، لیاقت آباد سمیت دیگر علاقوں کی مارکیٹوں اور صنعتی علاقوں کے تاجروں اور صنعتکاروں سے بھتہ وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید : بزنس