حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری ؒ

حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری ؒ
 حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری ؒ

  


فخر المشائخ حضرت میاں جمیل احمد صاحب اس دھرتی کے وہ بطلِ جلیل ہیں جن کو اگر اس دور انحطاط میں فکر مجدد کا امام کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ آپ ؒ 23فروری1933 حضرت قبلہ میاں ثانی لاثانی ؒ کے ہاں شرقپور شریف میں پیدا ہوئے جب آپ ؒ پیدا ہوئے تو کسی نے کہا کہ یہ بچہ تو جمیل(خوبصورت) ہے۔ حضرت ثانی لاثانی ؒ نے فرمایا کہ جمیل تو صرف احمدؐ کی ذات مطہرہ ہے، لہٰذا شہزادے کا نام جمیل احمد رکھ دیتے ہیں۔ آپؒ نے اپنی تعلیم کی شروعات قرآنِ پاک سے کی اور سات سال کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم مکمل کر لی۔ اپنے والد محترم حضرت میاں ثانی لاثانی ؒ سے فارسی کی مشہور کتب ’’گلستان‘‘ اور’’بوستان‘‘ پڑھیں اور پرائمری سکول شرقپور شریف میں 1940ء میں داخلہ لے لیا۔ پھر گورنمنٹ ہائی سکول شرقپور میں داخل ہوئے آپ کی طبیعت شروع سے ہی دیگر بچوں سے مختلف تھی آپؒ سکول سے فارغ ہو کر سیدھے گھر آتے۔ آپؒ اپنے اساتذہ کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔ میٹرک کی تعلیم حاصل کر لینے کے بعد آپؒ نے طب کی کتب آغا دوست محمد تکمیلی سے پڑھیں اور پھر طبیہ کالج لاہور سے طب کی ڈگری لی۔ آپ ؒ نے اپنے والد محترم اور میاں شیر محمد ؒ کے برادر اصغر جناب ثانی لاثانی حضرت میاں غلام ؒ الہ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور اُن کے خلیفہ مجاز ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آپ کے روحانی کمالات سے ایک عالم مستفید ہوا۔ آپ ؒ نے بہت سی دینی کتب تصنیف و تالیف فرمائیں اور ان کو چھپوا کر لوگوں میں مفت تقسیم فرمائیں۔ ان میں مسائل نماز، تذکرہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ، ارشادات مجدد الف ثانی ؒ ، تذکرۂ مشائخ نقشبندؒ (دوجلد) تذکرہ مجدد الف ثانی ؒ (تین جلد) انتہائی قابل ذکر ہیں۔

حضرت میاں جمیل احمد صاحب ؒ عاجزی و انکساری کا مجسمہ تھے آپ فرمایا کرتے کہ ہم کو مرشد کی طرف سے جو ڈیوٹی ملی ہے۔ اُسے ایک خادم کی حیثیت سے نبھا رہے ہیں اور آنے والے عقیدت مندوں کو دال چپاتی کھلا چھوڑتے ہیں۔ آپ ؒ کا لنگر بہت وسیع تھا، جس میں سینکڑوں لوگ سیراب ہوتے۔ آپ ؒ کا بہت بڑا کارنامہ تحریک یوم مجدد کا آغاز ہے۔ جو آپؒ نے1960ء میں شیخوپورہ سے کیا۔ پھر پورے ملک میں یوم مجدد منانے کے لئے آپؒ نے جو محنت کی وہ حد کمال کو پہنچ گئی آپؒ یوم صدیق اکبرؓ ،یوم فاروق اعظمؓ،یوم عثمان غنی ؓ ،یوم علی مرتضیٰ ؓ ،یوم امام حسینؓ،یوم امام اعظمؒ ، یوم شیر ربانی ؒ کا اہتمام بڑی عقیدت ، ادب و احترام سے فرماتے۔ حضرت قبلہ میاں جمیل احمد صاحبؒ نے1955ء میں ماہنامہ ’’نور اسلام‘‘ جاری فرمایا اس ماہنانہ میں درس قرآن، درس حدیث، فقہی مسائل بزرگانِ دین کے حالات اور شیرِ ربانی کے افکار و ملفوظات کے علاوہ اخلاقی مضامین بھی شائع ہوتے ہیں۔ آپؒ کی زیر ادارت اس رسالے کے کئی ضخیم نمبر بھی نکل چکے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ ؒ کی زیر سر پرستی پندرہ روزہ آوازِ نقشبند اور ہفت روزہ’’اخبار مجدد الف ثانی ؒ ‘‘ بھی شائع ہوتے رہے۔ آپ ؒ نے اس دور ناہنجار میں قلم و قرطاس کے موثر ذریعے کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر خزینہ معرفت، ارشاداتِ مجدد، مسلک مجدد ،تذکرہ اولیائے نقشبند، تذکرہ مجدد الف ثانی، تذکرہ حضرت میاں غلام اللہ صاحب ؒ بھی چھپوا کر مفت تقسیم فرمائے۔ قصہ مختصر یہ کہ میاں جمیل احمد صاحب ؒ ایک سچے عاشق رسول ؐ فنانی الرسول کے درجہ پر فائز تھے اور آپ ؒ کی ہر بات اور ہر حرف سے رسول کریم ؐ کی والہانہ محبت و عقیدت ٹپکتی۔ آپ ؒ کئی کئی مہینے دیار مصطفےٰ ؐ میں گزار دیتے اور مدینہ پاک کی مقدس سر زمین میں ایک شاندار عمارت(رباط شیر ربانی) تعمیر فرمائی۔ حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد ؒ کی زیر سر پرستی پاکستان میں باسٹھ مساجد کی تعمیر ہو چکی ہے۔ آپ ؒ نے تحریک ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا اور آخر کار1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ آپ ؒ اس جہان فانی سے مؤرخہ11ستمبر2013ء بمطابق 4۔ ذیقعد 1434ھ بروز بدھ اس جہان فانی سے مالک حقیقی کے پاس تشریف لے گئے۔ (اِنا لِلّٰہِ وانا الیہ رَاجِعُوْن)

مزید :

کالم -