صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوریؒ کی علم دوستی و معارف پروری

صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوریؒ کی علم دوستی و معارف پروری

  

 صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی ؒ کا انتقال 11ستمبر 2013ء/4ذیقعد1434ھ بروز بدھ شرقپور شریف میں ہو گیا۔ آپ کے وصال کی خبر سنی تو افسردگی کا عالم طاری ہو گیا۔ وہ ’’دانائے راز‘‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔

راقم سطورجب مہ و سال کے آئینے میں ماضی پر نظر ڈالتا ہے تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ حضرت میاں صاحبؒ سے میری پہلی ملاقات حکیم محمد موسیٰ امرتسری(م17نومبر 1999ء) کے مطبمیں22اکتوبر1989ء کو ہوئی تھی۔ ان دنوں میں حکیم صاحب کے مطب میں ان کے ذخیرۂ کتب کی فہرست سازی کے لئے جایا کرتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے سرکاری طور پر یہ کام میرے ذمے لگایا گیا تھا۔ فہرست سازی کا کام باون روز میں مکمل ہوا تھا۔ پھر یہ ذخیرۂ کتب پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں منتقل ہو گیا۔ اس روز حضرت صاحبزادہ صاحبؒ اور حکیم صاحبؒ کے درمیان ایک اہم مکالمہ ہوا تھا، جس کے دوران حکیم صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ میاں صاحبؒ اگر آپ اپنا ذخیرۂ کتب کسی ادارے کو دنیا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی لائبریری کو بطور عطیہ دے دیں ۔ اس کے گیارہ سال بعد میاں صاحبؒ نے اپنا ذخیرہ کتب یونیورسٹی کو عطا کر دیا۔ یہ ذخیرہ 9اگست2001ء کو لائبریری میں منتقل ہوا۔ اُس وقت اس میں کتابوں کی تعداد پانچ ہزار دو سو پچاس تھی(بشمول جلدیں و نسخے)۔ فخر المشائخ حضرت میاں صاحب تحقیقی اور علمی کام کرنے والوں کے ساتھ بہت شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان کی شفقت کے انداز مختلف تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ جب ان کی صحت اچھی تھی، تو وہ احقر کے مسکن پر تشریف لے آتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ شرقپور شریف میں بلا لیتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی قابل دید ہوتی تھی۔ ویسے تو سب کے لئے ان کا لنگر کھلا تھا، لیکن اہلِ قلم حضرات کے ساتھ خصوصی برتاؤ روارکھا جاتا تھا۔ پیر زادہ اقبال احمد فاروقی، مدیر جہان رضا، لاہور اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’صاحبزادہ میان جمیل احمد صاحبؒ شرقپوری ایک طرف روحانی پیشوا اور پیر ہیں۔ دوسری طرف ان کے حلقہ میں علماء کرام، دانشور، شعراء اور اہل قلم حضرات کی ایک خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔ ان کا دستر خوان کھلا ہے۔ اگر میں کھلا کی بجائے وسیع کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا۔ وہ اہل علم و فضل کو گھر بلا کر میزبانی ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے پاس پہنچ کر اپنا مہمان بنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔‘‘(ماہنامہ نور اسلام۔ شمارہ2007،ص۔21)

مَیں نے اُن کے متعلق اُن کی زندگی میں لکھا۔ ’’حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی صاحب کی علم دوستی اورمعارف پروری ارباب علم و دانش میں معروف ہے۔ کتاب سے محبت کرتے ہیں۔ کتابیں شائع کروا کر بلا قیمت تقسیم کرواتے ہیں۔ صاحبِ قلم بھی ہیں اور کتابیں جمع کرنے کے شائق ہیں۔ ان کا مطالعہ کرتے ہیں اور دورانِ مطالعہ کتاب کے شروع میں یاد داشتیں بھی تحریر کرتے ہیں اور کتاب کے متن پر متعلق مقامات پر نشانات بھی لگاتے ہیں۔ ان کے ذخیرۂ کتب کو دیکھ کر ان کے ذوقِ مطالعہ کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ معلومات ان کے ذہنی ارتقاء اور شخصیت سازی میں بہت اہم کردار کی حیثیت رکھتی ہیں۔(ماہنامہ نور اسلام، شمارہ جنوری 2007ء، ۔ 21)

فاروقی صاحب کا حضرت میاں صاحب کے بارے میں ایک اور اقتباس ملاحظہ کیجیے اس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں میاں صاحب کے متعلق تحریر کرتے ہیں۔ اس میں بے تکلفی کا پہلو بھی واضح ہے۔ وہ ’’جہان رضا‘‘ کے شمارہ اگست ،ستمبر2004ء میں لکھتے ہیں:

میاں جمیل احمد شرقپوری ایک بے نیاز پیر ہیں۔ وہ بے اعتنائی پر آئیں تو کروڑ پتی مریدوں کو دروازے کے باہر کھڑے ہونے کا حکم دیں۔ نوازنے کو آئیں تو ہم جیسے فقیر بے نوا کے گھروں پر علی الصبح’’چھاپے‘‘ مار کر خوش کر دیں۔ وہ روایتی سجادہ نشینوں کی طرح دنیاداروں کے پیچھے کبھی نہیں بھاگتے اور نہ ہی وہ اہل علم سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی شام آتے دیکھی تو اپنی لاکھوں روپے کی نادر کتابیں پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو بخش دیں۔ وہ اکثر علمائے کرام اور سکالرز کی مجالس میں بیٹھتے ہیں اور حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی تعلیمات پر لکھنے کے پروگرام دیتے جاتے ہیں۔ کیا آپ کو ایسا پیرِ طریقت پسند آیا؟

چلے تو راہ طریقت کا شاہسوار لگے

رُکے تو ’’شیر ربانی‘‘ کا شاہکار لگے

(مجالس علماء از پیر زادہ اقبال احمد فاروقی، ترتیب و تدوین محمد عالم مختار حق (لاہور: مکتبہ نبویہ،۲۰۰۷ء) ص۔۴۰۹۔۴۱۰)

گزشتہ بارہ سال سے حضرت میاں صاحبؒ سے راقم اسطور کا مسلسل علمی رابطہ رہا ہے۔ وہ انسانی نفسیات کا گہرا شعور اور ادراک رکھتے تھے۔ وہ ارباب علم و فضل سے ہر ایک کی نفسیات کے مطابق کام لینے کا ہنر جانتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ علمی اور تحقیقی کام کرنے والے خوش دلی کے ساتھ کام کو سر انجام دیتے ، بلکہ اپنی خوش بختی سمجھتے کہ حضرت میاں صاحبؒ نے ہمیں اس کام کے لئے چن لیا ہے۔ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم سمجھتے کہ اس نے ہمیں اس علمی کام کے کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے:

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی روحانی طاقت سے نوازا تھا کہ وہ حاضر ہونے والے انسان کے ذہن کو پڑھ لیتے تھے اور پھر اشارے اور کنایے سے اس سے بات کرتے تھے۔ خود میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہے۔ 22جولائی 2012ء کو میں دو رفقاء(چودھری محمد حنیف، چیف لائبریرین، پنجاب یونیورسٹی لاہور) اور حامد علی انصاری و سینئر لائبریرین پنجاب یونیورسٹی لائبیری ۔لاہور) کے ساتھ حضرت میاں صاحبؒ کی خدمت میں شرقپور شریف میں حاضر ہوا۔ میرے ذہن میں ایک خیال تھا جو کئی ماہ سے پرورش پا رہا تھا۔ راقم السطور نے اس کااظہارکسی کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ حضرت میاں صاحبؒ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، وہ اپنے بیڈ(Bed) پر لیٹے رہے۔ جب ہم اجازت لینے لگے تو آپ نے میرے ذہن میں موجود اس خیال کے متعلق اشارے سے بات کی اور اس کے مطابق فرمایا کہ یہاں وڈے میاں صاحب(بڑے میاں صاحب، یعنی حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوریؒ ) کے بارے میں چندکتابیں شائع ہوئی ہیں۔ آپ ان کو دیکھیں اور آپ بھی کتابی صورت میں اس موضوع پر کام کریں۔ میں یہ سمجھا کہ میرے خیال کی تائید حضرت میاں صاحبؒ نے کردی ہے۔ چنانچہ پچھلے سال ہی اس منصوبے پر کام شروع کر دیا اور الحمد للہ اب وہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔اس کا کمپوز کیا ہوا ایک حصہ حضرت میاں صاحبؒ نے یکم ستمبر2013ء کو دیکھا بھی۔ اس کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر بشاشت کے آثار نمودار ہوئے۔

ایسی شخصیات دنیا سے پردہ کر جاتی ہیں، لیکن ان کا کام اور نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ حضرت میاں صاحبؒ ایسے آثار چھوڑ گئے ہیں جو ان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما

مزید :

کالم -