بینک آف پنجاب نے پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

بینک آف پنجاب نے پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

بینک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 27 اگست 2015 کو منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں 30 جون 2015 کو اختتام پذیر ہونے والی پہلی ششماہی کے غیر آڈٹ شدہ حسابات کی منظوری دی گئی۔بینک نے سال 2015 کی پہلی ششماہی کے دوران 4.2 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع کمایا۔ جو کہ پچھلے سال 2014 کی پہلی ششماہی کے 2.1 ارب روپے کے قبل از ٹیکس منافع سے 100 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح بینک کی فی حصص آمدن میں شاندار اضافہ ہوا جو کہ 1.78 روپے رہی۔سال 2015 کی پہلی ششماہی میں بینک کا نیٹ انٹرسٹ مارجن 93 فیصد کے قابل ذکر اضافے کے ساتھ 5.4 ارب روپے کی سطح پر رہا جو کہ پچھلے سا ل کی اسی مدت کے دوران 2.8 ارب روپے کی سطح پر تھا۔ بینک کی نان انٹرسٹ / مارک اپ آمدن 231 فیصد کے اضافے کے ساتھ 4.3 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئی جو کہ پچھلے سال اسی مدت کے دوران 1.3 ارب روپے کی سطح پر تھی۔بینک کے کل اثاثہ جات 30 جون 2015 کو بڑھ کر 441 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ بینک کے ڈپازٹس 13 فیصد اضافہ کے ساتھ 386 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے جو کہ 31 دسمبر 2014 کو 342 ارب روپے تھے۔ اسی طرح بینک کے قرضہ جات اور سرمایہ کاری بالترتیب 195 ارب روپے اور 170 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔معاشرے کے تمام طبقات کو بینکاری کی جدید سہولیات فراہم کرنے کے لئے بینک کا دائرہ کار بہت تیزی کے ساتھ دور دراز علاقوں تک وسیع کیا جارہا ہے۔ اس وقت بینک کی 364 آن لائین پرانچیں بشمول 37 اسلامی بینکنگ برانچز ملک بھر میں بینکاری کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

علاوہ ازیں بینک کا وسیع ATM نیٹ ورک عوام الناس کو 24/7 بینکنگ سہولیات مہیا کر رہا ہے۔

مزید : کامرس