اُف یہ کالم نگاری

اُف یہ کالم نگاری
 اُف یہ کالم نگاری

  

بھلے وقتوں میں چند ایک روزنامے تھے کہ جن میں باقاعدہ لکھنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی اور یہ لکھنے والے ٗ پڑھے لکھے حلقوں میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ کالم نگار مسلمہ طور پر منجھے ہوئے سینئر صحافی ہوتے تھے کہ جو وقت اور تجربے کی بھٹی سے نکل کر کندن بن گئے اور پھر کسی کودن کو قریب نہ پھٹکنے دیا۔ اُس وقت کسی کالم نگار کا نام سن کر پہلی تصویر جو ذہن میں بنتی تھی وہ کسی ایسے ساٹھ سالہ بابے کی ہوتی جس کے سر پر چند ایک بال جھڑنا بھول گئے۔ جس کا ناتواں ناک وزنی عینک کا بوجھ سہارتے سہارتے لبو لب ہو گیا۔ ان کے پائے استقامت میں لغزش آئی یا نہیں ٗ مگر گردن ضرار کانپنے لگی۔ اس طرح کے صحافی مسکین ٗ عاجز ٗ ذہنی مزدور اور اپنے پیشے سے انتہائی مخلص ہوتے تھے۔ ان کے گھر میں بلا شبہ آسائشوں کی کمی ہو گی ٗ لیکن ان میں سے اکثر کا دامن مالی آلودگیوں سے ہمیشہ پاک ہی رہا۔ اُن میں سے کچھ تو تنگدستی کی وجہ سے سکول تک کی تعلیم حاصل نہ کر سکے جس سے وہ بلاشبہ ڈگری تو نہ لے پائے ٗ مگر تعلیم یافتہ ضرور بنے۔ اُنہوں نے اپنے کیرئیر کا انتخاب اپنے طبعی رجحان کے مطابق انتہائی سوچ بچار کے بعد کیا اور بالکل نچلی سطح سے آغاز کرنے کے باوجود اپنی محنت کے بل بوتے پر اس مقدس پیشے میں اپنا خوب نام کمایا۔ پروف ریڈنگ سے نوکری کا آغاز کرنے والے جب مالکان کے مقابل بیٹھے ٗ تو انہیں اپنی محنت کا صلہ مل گیا۔

یہ استاد الاساتذہ تھے۔ ان کے شاگردوں تک نے بامِ عروج کو چھوا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جن پر موضوعات کی بارش ہوتی تھی۔ یہ اپنے ایک ایک کالم میں کئی کئی موضوعات کا کمال خوش اسلوبی سے احاطہ کیے ہوتے تھے۔ یہ حقیقتاً سمندروں کو کوزے میں سمونے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی تحریروں سے کسبِ فیض کا ایک سلسلہ نکلتا تھا جس سے تشنگانِ علم پیٹ بھر کر سیراب ہوتے تھے۔ طلباء کے لئے ان کے کالموں میں سیکھنے کے لئے بے شمار سامان میسر ہوتا تھا۔ یہ الفاظ اور ان کے استعمال سے پوری طرح واقف تھے۔ لفظوں کی کاٹ اور ان کے ٹھیک انتخاب کا طریقہ سیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ الفاظ ان کے سامنے دست بستہ پیش ہوتے تھے۔ فقرے نگینوں کی طرح ان کے سامنے جڑے ہوتے اور یہ اپنی مرضی کا فقرہ اتنی خوش اسلوبی سے استعمال کرتے کہ اس سے تحریر کی چاشنی دوچند ہو جاتی۔ محاورے ان پر نازل ہوتے تھے کہ جن سے ان کی تحاریر زود اثر دوا کی طرح سیدھی ناسورسے ٹکراتیں۔ یہ لوگ وسیع المطالعہ تھے۔ یہ ہر شعبہ ہائے زندگی کے متعلق کم از کم بنیادی معلومات ضرور رکھتے تھے۔ یہ صرف بیماری کی تشخیص ہی نہیں کرتے تھے ٗ بلکہ اس کا فوری اور دائمی علاج بھی تجویز کرتے تھے۔ پیشے کے حوالے سے یہ لوگ قومے تک کی غلطی سے اغماض نہیں برتتے تھے۔ انہیں پڑھنے والا اپنی آنکھ جھپکنا بھول جاتا تھا۔ ان کی تحریر قاری کو بوجھل نہیں لگتی تھی۔ عبارتوں میں ربط ہوتا تھا۔ اب زمانوں کے ساتھ ویسے لکھنے والے بھی جانے کہاں لد گئے؟ سابقون الاولون کی بچی کھچی چند ایک نشانیوں کے علاوہ اب تو آنکھیں ترس گئی ہیں کوئی اچھی تحریر پڑھنے کو۔

اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ روزناموں کی بھرمار ہو گئی ہے ٗ مگر خبریت یکسر دم توڑ گئی ہے۔ ہر اخبار نے دو ٗ دو ادارتی صفحات چھاپنے شروع کر دیے ہیں جس سے کالم نگار حضرات کی تعداد میں کھمبیوں کی طرح اضافہ تو ہو گیا ٗ مگر اردو زبان کا جنازہ نکل گیا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ قومی زبان کا خون کالم نگاروں کی نئی پود کے سر ہے کہ جو اس کا تھوڑا تھوڑا کر کے روز قتل کر رہے ہیں۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں قلم نہیں ٗ بلکہ نشتر ہے اور انہوں نے اردوئے بے زبان کو اپنے اپنے گھر لٹایا ہوا ہے اور اپنی اپنی مرضی کا آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کوئی بتانے والا۔ ایک اکثریت ایسے اوباشوں کی ہے کہ جو محض تفنن طبع کی خاطر اس پاک پیشے سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب الیکٹرانک میڈیا نے جنم لیا ٗ اینکر حضرات کی نسل متعارف ہوئی ٗ پر کشش تنخواہوں کے علاوہ جب ان سے فلمی اداکاروں جیسا سلوک بھی ہونے لگا ٗ تو ہر ایک کا دل مچلنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ جب پرنٹ میڈیا میں بھی نئے اخبارات کا اضافہ ہوا ٗ تو اس سے ’’سپلائی اینڈ ڈیمانڈ‘‘ کا توازن بگڑ گیا۔ اس سے غیر تربیت یافتہ اور غیر پیشہ ور ٹھگ اس پیشے میں یوں گھسے کہ اصل لوگوں کو جان کے لالے پڑ گئے۔ یہ حادثاتی نو واردان نے جہاں صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیر دیں وہیں پیشہ ورانہ قابلیت کا بھی بے دریغ قتلِ عام کیا۔ میں کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا ٗ مگر صحافتی برادری کے بڑے بڑے معتبر نام جب اپنے کالموں میں بے ربط اور بے تکی بونگیاں مارتے ہیں ٗ تو یقین مانیے بڑی کوفت ہوتی ہے۔

ایک صاحب کا ٹی وی میزبانی میں آج کل طوطی بولتا ہے۔ وہ خود بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ محض ایک اتفاق انہیں اینکری کی سمت لے آیا۔ ان کی حق گوئی کا بہرحال اعتراف کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے قبول کیا ہے کہ وہ کسی این جی او کے دفتر میں اخبارات کے تراشے کاٹا کرتے تھے۔ بلا شبہ یہ ملازمت بھی بڑی ذمے داری کا کام ہے کہ اگر آپ ایسی خبر کاٹ کر ایک کورے کاغذ پر چسپاں کر دیں کہ جو افسر کو مطلوب نہیں ٗ تو اس سے آپ کی شامت بھی آ سکتی ہے۔ یہ اعلیٰ حضرت اچھے بھلے اپنی روزی روٹی کما رہے تھے کہ اچانک ٹی وی چینلز کے لائسنس بٹنے لگے پھر کیا تھا ان کا ایسا تُکا لگا کہ وہ سیدھے اینکر ہی بن گئے۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ ایسا ذہنی معیار رکھنے والے انسان سے آپ کیا توقعات رکھ سکتے ہیں۔ یہ صاحب ایک عشرہ گزارنے کے باوجود ’’عوام‘‘ کو مؤنث ہی پکارتے ہیں۔ دس سالوں میں کسی نے انہیں یہ تک نہیں بتایا کہ عوام ہوتے ہیں ٗ عوام ہوتی نہیں اور چائے پی جاتی ہے ٗ سنائی نہیں جاتی۔ اگر پیشہ وارانہ صحافت کو دیکھیں ٗ تو عالم یہ ہو گیا ہے کہ غلطیوں کی بھرمار اب آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ کالموں میں پروف کی غلطیاں تو ایک طرف جملے کے جملے حذف ہو جاتے ہیں اور ظلم کی یہ داستان تو کالم نگار خود سناتے پھرتے ہیں۔ نئے کالم نگاروں کی کھیپ بس چاہتی ہے کہ وہ صبح جب آنکھ کھولے تو بطور کالم نگار مشہور ہو جائے۔یہ گھنٹوں اقبالؒ کی طرح پوز بنا کر گہرے غور و خوض کی اداکاری کرتے ہیں ٗچھوٹے سے ذہن پر مسلسل سوچ کا بوجھ ڈالتے ہیں ٗ مگر کوئی آفاقہ نہیں ہوتا۔ لکھنے کے لئے کوئی عنوان نہیں ملتا اور ملے بھی کیسے کہ جب انہوں نے مطالعہ بالکل نہیں کرنا ٗ کسی بابے کے سامنے زانوئے تلمذ طے بھی نہیں کرنا اور پھر لکھنا بھی ضروری ہے ٗتو ایسے حالات میں ان سے ڈھنگ کی کسی بات کی توقع عبث ہے۔

اردو ادب سے وابستہ احباب ’’آمد‘‘ اور ’’آورد‘‘ سے بخوبی واقف ہیں۔ جنہیں آمد ہو ٗ حقیقی شاعر کی تعریف پر بس وہی پورا اترتا ہے۔ جو زور اور تُکے لگا کے ایک آدھ گرہ لگا ہی لے ٗ وہ ’’متشاعر‘‘ ہوتا ہے ٗ شاعر ہرگز نہیں۔ حقیقی قلم کار وہ ہے جس پر موضوعات اتریں اور جسے کوئی تحریر لکھنے کے لئے مصنوعی سہاروں کی ضرورت نہ پڑے۔ آج کل ہمہ وقت فارغ نام نہاد کالم نگار اپنے انمول تجزئیے ایسے بے دریغ داغتے چلے جاتے ہیں کہ جس سے حساس لوگوں کو ایسے سطحی خیالات سے متلی ہونے لگی ہے۔ میری ان سب سے التماس ہے کہ خدارا ٗ کوئی ڈھنگ کا کام تلاش کر لیجیے جب مصروفیت ہو گی ٗ تو اردو کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی آپ کے خیالاتِ عالیہ کی دسترس سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ہم سب کو مل کر ان کی دائمی کالمی قبض کی دعا کرنی چاہیے ۔ اس سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اگر یہ ایسے ہی لکھتے چلے گئے ٗ تو اس سے قارئین کی صحت ضرور خراب ہو جائے گا اور بیمار معاشرہ صحت مندسرگرمیاں کبھی جاری نہیں رکھ سکتا۔ *

مزید :

کالم -