ملک محمد شفیع مرحوم

ملک محمد شفیع مرحوم

اس سال اگست میں میرے والد ستارۂ امتیاز جناب محمد شفیع ملک(مرحوم) کو معبود برحق کے پاس لوٹے ہوئے آٹھ سال بیت گئے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سائے تلے بے فکری سے بچپن اور جوانی کے ایام گزارنا جیسے کل ہی کی بات ہو۔ اگست کا مہینہ میرے لئے دہری اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس ماہ ہمیں آزادی کی نعمت ملی اور دوسرایہ کہ اس ماہ میرے والد دنیا کے سٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کے بعد اپنی ابدی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ شیکسپیئر کہتا تھا کہ دنیا ایک سٹیج اور ہر شخص ایک اداکار ہے جو اپنا کردار ادا کرنے کے بعد واپس لوٹ جاتا ہے۔ جب میں اپنے والد مرحوم کی سوانح عمری پر نظر دوڑاتا ہوں تو فخر سے میرا سینہ تن جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے سٹیج پر اپنا کردار ایسی خوبی سے نبھایا کہ کبھی نہ مٹنے والی یادوں کے نقوش چھوڑ گئے۔ اگر ماں ایک ایسے گھنے سایہ دار شجر کی مانند ہے جو اپنی اولاد کو سخت اور جھلسا دینے والی دھوپ سے بچاتی ہے تو باپ ایک ایسی آہنی دیوار کی مانند ہوتا ہے جو مشکلات، مسائل اور تکالیف کے تمام پتھر اپنے سینے پر کھا لیتا ہے مگر اپنی اولاد پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتا۔ فرشتہ اجل جب اس دیوار کو ڈھا دیتا ہے تو اس کے سائے میں بیٹھنے والوں کو شدید دکھ ہونا فطری بات ہے لیکن جب محمد شفیع ملک ہم سے جدا ہوئے تو مجھے صرف دکھ اور تکلیف ہی نہیں ہوئی بلکہ شدید اذیت بھی برداشت کرنا پڑی کیونکہ ان کی صورت میں صرف میرے والد ہی نہیں، بلکہ میرے پیر و مرشداور تحریک پاکستان کا ایک ایسا کارکن بھی ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا جو اس پاک وطن کے قیام کے ہر مرحلے میں شریک رہا، جسے اس عظیم قائد محمد علی جناحؒ کے ہمراہ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جن کی تصویر کو دیکھنا ہی ہر پاکستانی کے لئے فخر کا باعث ہے۔

محمد شفیع ملک مرحوم گیارہ اپریل1916ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز قرآن پاک سے کیا بعدازاں میونسپل ہائی سکول مزنگ سے تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے علامہ محمد اقبالؒ کے عاشق تھے۔ بتاتے تھے کہ پانچ چھ سال کی عمر میں سکول میں ہونے والی اجتماعی منظوم دعا ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘ کے ذریعے علامہ محمد اقبال سے غائبانہ تعارف ہوا۔ عمر بڑھتی گئی، علامہ محمد اقبال، کی بچوں کے لئے لکھی ہوئی نظمیں ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، بچے کی دعا، ہمدردی، ماں کا خواب اور پرندے کی فریاد وغیرہ پڑھیں جنہوں نے ننھے سے دل میں علامہ اقبالؒ کی عظمت کا ایک ایسا نقش پیدا کیا جو زندگی بھر نہ مٹ سکا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1930ء میں جب ان کی عمر صرف چودہ برس تھی، علامہ اقبالؒ کا خطبہ صدارت الٰہ آباد سنا تو ان کے مرید ہو گئے اور انہیں اپنا مرشد قرار دے دیا۔ عظیم شاعر علامہ محمد اقبالؒ کا جب انتقال ہوا تو ملک محمد شفیع مرحوم کی عمر بائیس برس تھی، انہوں نے علامہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ علامہ کے تابوت کو کندھا دیا۔ اسی طرح جب قائد اعظم محمد علی جناحؒ قوم کو داغ مفارقت دے گئے تو ان کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں مسلمانوں میں میرے والد محترم بھی موجود تھے۔ ایک مرتبہ انہیں مقبوضہ کشمیر میں جانے کا اتفاق ہوا اور سیر و تفریح کے دوران وہ درگاہ حضرت بل تشریف لے گئے جہاں آقائے دو جہاں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کا موئے مبارک ایک شیشے کی نلکی میں محفوظ ہے جس کی زیارت کا شرف انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ ایمان افروز بات بتائی کہ جب موئے مبارک کی زیارت کے وقت زائرین درود شریف پڑھتے ہیں تو شیشے کی نلکی میں موئے مبارک حرکت کرتا ہے جسے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ موئے مبارک واقعی آقائے دو جہاں حضور اکرم حضرت محمدﷺ کا ہی ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ نے جب دو قومی نظریہ پیش کیا اور اس کے بعد تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو محمد شفیع ملک مرحوم بھی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سرکردگی میں حصول پاکستان کے لیے انتہائی سرگرمی سے مصروف عمل ہو گئے۔ ان ہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا۔۔۔ ’’ ان دنوں شملے میں دو پہیوں والے رکشا چلتے تھے یہ رکشے بالعموم تین چار مرد کھینچتے تھے، پہاڑی سڑکوں پر رکشا کھینچنا بڑی ہمت کا کام تھا، علاوہ ازیں اس کام میں مہارت بڑی اہم تھی کیونکہ اگر رکشا پر گرفت ڈھیلی ہو جائے اور چڑھائی چڑھی جا رہی ہو تو رکشا کے نیچے جاگرنے کا خدشہ ہوتا جس سے رکشا میں سوار افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ ایک بار قائد اعظمؒ رکشا میں سوار تھے کہ آناً فاناً رکشا کھینچنے والے ایک شخص کا پاؤں پھسلا، اس خوف سے کہ کہیں قائد اعظمؒ زخمی نہ ہو جائیں سڑک کے کنارے مسلمان برق رفتاری سے لپکے، رکشا کو تھام لیا اور لڑھکنے نہیں دیا۔ قائد اعظمؒ بڑے سکون سے رکشا میں بیٹھے رہے اور مطلقاً پریشان نہیں ہوئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے لوگوں کے جذبہ محبت کا شکریہ ادا کیا اور ان کی پریشانی پر اظہار مسرت بھی کیا۔ ان لوگوں میں حسن اتفاق سے میرے والد محمد شفیع ملک مرحوم بھی شامل تھے جوا ان دنوں ایک مضبوط اور چاق و چوبند نوجوان تھے، قائد اعظمؒ نے ان سے دریافت کیا کہ کہاں کے رہنے والے ہو۔ جب میرے والد نے لاہور کا نام لیا تو قائد اعظمؒ کے بارعب چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ قائد اعظمؒ کی سرکردگی میں تحریک پاکستان زور پکڑتی گئی اور ساتھ ہی سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم بھی۔ محمد شفیع ملک مرحوم نے ظلم و تشدد کے بہت سے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے، قیام پاکستان کے لئے ذبح ہونے والے مرد، خواتین اور بزرگوں کی لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ ہمیں یہ واقعات سناتے ہوئے ان کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں ہوتا تھا، میں خود گواہ ہوں کہ قیام پاکستان کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مسلمانوں کی قربانیوں کا دکھ وہ مرتے دم تک نہیں بھولے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی محنت اور مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور 14 اگست1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ میرے والد ان غازیوں میں شامل تھے جو قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ صحیح سلامت پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے لیکن پاکستان کے لئے شہید ہونے والوں کا دکھ ساری عمر نہیں بھول پائے۔ انہوں نے مہاجرین کی آباد کاری کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق ہر ممکن کوشش کی، بعد ازاں وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہو گئے جس پر انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔1945ء میں محمد شفیع ملک مرحوم سے ایک ملاقات کے دوران قائداعظمؒ نے کہا کہ میں ایک ایسے پاکستان کا قیام چاہتا ہوں جہاں غریب عوام آرام اور سکھ سے زندگی گزار سکیں، چنانچہ میرے والد مرحوم نے قائداعظم ؒ سے وعدہ کیا کہ اگر زندگی اور حالات نے اجازت دی تو وہ قیام پاکستان کے بعد غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے کسی منصوبے کا اجرا کریں گے۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے بادامی باغ میں آٹو سپیئر پارٹس کی ایک چھوٹی سی دکان سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور ترقی کرتے کرتے ایک بڑے صنعتکار بنے، حالات بہتر سے بہتر ہوتے گئے، مگر وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھولے، چنانچہ 1975ء میں انہوں نے ممتاز بختاور ہسپتال قائم کیا۔ بارہ کنال کے وسیع و عریض رقبے پر قائم یہ ہسپتال آج بھی غریب و مفلس لوگوں کو علاج و معالجے کی جدید ترین سہولتیں فی سبیل اللہ مہیا کر رہا ہے۔ محمد شفیع ملک مرحوم نے اس ہسپتال کو چلانے کے لئے ایک ٹرسٹ بنایا اور اچھی خاصی جائیداد ہسپتال کے اخراجات کے لئے وقف کر دی تاکہ کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہسپتال میں ایک سو بیڈز ہیں اور جنرل وارڈ سمیت سارا ہسپتال مکمل طور پرایئر کنڈیشنڈ ہے جبکہ ایمرجنسی چوبیس گھنٹے مریضوں کے لئے کھلی رہتی ہے۔

1987ئمیں انٹرنیشنل لائنز کلب کے صدر برائن سٹیونسن نے دکھی انسانیت کے لئے محمد شفیع ملک مرحوم کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں سپیشل لائنز کلب ایوارڈ سے بھی نوازا۔ بعدازاں اس وقت کے وزیر اعلیٰ محمد نواز شریف نے بھی انہیں خصوصی ایوارڈ دیا۔ ہم سب بھائیوں بہنوں کو انہیں نے ہمیشہ یہی درس دیا کہ دولت آنی جانی شے ہے۔ اسے تجوریوں میں بند کرنے یا بنکوں میں رکھنے کے بجائے خلق خدا پر دل کھول کر خرچ کرنا۔ ہم سب نے ان کی اس نصیحت پر بھرپور عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں بہت نوازا۔ہر سال چودہ اگست کا دن ہمارے خاندان کے لئے غم آمیز مسرت کا پیغام لے کر آتا تھا۔ مسرت اپنے پیارے وطن کے قائم ہونے کی، آزاد وطن کا باسی ہونے کی، جبکہ غم ان لاکھوں شہدا کا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چودہ اگست کی شب کو محمد شفیع ملک مرحوم تمام اہل خانہ کو اکٹھا کر کے پاکستان کی سالگرہ کا کیک کاٹتے تھے۔2007 ء کے اوائل میں ان پر فالج کا حملہ ہواجس کی وجہ سے ان کا ایک بازو بے کار ہو گیا، چودہ اگست آئی اور شدید بیماری کے باوجود انہوں نے حسب معمول ہمیں اکٹھا کیا، کیک منگوایا اور اپنے تندرست ہاتھ سے پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ اسی رات وہ کومے میں چلے گئے اوردو دن بعد انہوں نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر دی اور ہم سب ایک گھنے شجر سایہ دار، ایک رحم دل شخص اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن سے محروم ہو گئے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آقائے دو جہاں حضور اکر م حضرت محمد مصطفیﷺ کے صدقے میرے والد میاں محمد شفیع صاحب اور ان لاکھوں گمنام شہیدوں کی قبروں پر تا قیامت شبنم افشانی فرمائے جنہوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا دیا۔ رب العالمین ان سب کو جنت الفردوس کے بہترین کوشوں میں جگہ عنایت فرمائے، آمین!

مزید : کالم