گوالوں کا دھرنا اور اشیاء خوردنی!

گوالوں کا دھرنا اور اشیاء خوردنی!
 گوالوں کا دھرنا اور اشیاء خوردنی!

  


لاہور میں فوڈ کنٹرول اتھارٹی کی سرگرمیوں نے بڑی کھلبلی مچائی اونچے پکوان بھی زد میں آ گئے، اور یوں احساس ہونے لگا کہ بازار سے کھاتے ہیں تو جیب سے خرچ کر کے بیماری خریدتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہوئی اور سو فیصد درست ہے کہ کچن وغیرہ کی صفائی جس پیمانے پر ہونا چاہئے وہ نہیں ہوتی، حتیٰ کہ درجہ اول کے ہوٹلوں والے ریستوران بھی اس سے مّبرا نہیں۔ اگرچہ انٹرنیشنل چین ہونے کی وجہ سے ان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ کچن کی تمام ضروریات جدید اور خود کارمشینوں کے ذریعے پورا کریں، لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا اگر کہیں ہے تو آلات کو استعمال نہیں کیا جاتا اس میں عملے کی لاپرواہی بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ امر تو صفائی کے حوالے سے سامنے آیا، لیکن ناقص اور ملاوٹ شدہ خوراک کے حوالے سے کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی، حالانکہ شنید تو یہ ہے کہ میرج ہالوں کی بچی اور جھوٹی چکنائی بھی فروخت ہو جاتی ہے۔ بازاروں میں ریڑھیاں لگا کر چپس اور شامی بنانے والے اس کے گاہک ، اور ان ریڑھیوں پر ایسی ہی چکنائی استعمال ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں فوڈ اتھارٹی نے ایک خاتون کی سربراہی میں جو سلسلہ شروع کیا وہ قابلِ تعریف ہے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں سب کو خبردار ہو کر اپنا اپنا سلسلہ درست کر لینا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ایک اور حقیقت جو ایک دو بار پرنٹ اور پھر الیکٹرونک میڈیا کے حوالے سے سامنے آئی وہ یہ کہ جہاں روٹی یا نان زیادہ فروخت ہوتے اور آٹا سیروں نہیں، من سے بھی زیادہ وزن کے مطابق گوندھا جاتا ہے۔ وہاں اگر کوئی شخص یہ کام ہوتا دیکھ لے تو شاید زندگی بھر تنور کی روٹی اور نان کھانا چھوڑ دے، ہوتا یہ ہے کہ ہاتھوں سے گوندھنا مشکل ہوتا ہے اور کاریگر پاؤں سے آٹا گوندھتے ہیں اور موسم کے حوالے سے ان کا پسینہ بھی آٹے میں مل جاتا ہے، حالانکہ آج کے دور میں آٹا گوندھنے والی مشینیں بھی دستیاب ہیں، ایسی ہی کچھ کیفیت مٹھائی والوں کی ہے کہ جہاں بکری زیادہ ہوتی ہے، وہاں مٹھائی تیار کرنے کے کارخانے بنائے گئے ہوئے ہیں، وہاں بھی صفائی کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا اور آج کے موسم میں تو پسینہ عام ہے، جو بھٹی کے سامنے اور بھی زیادہ آتا اور مٹھائی کے خام مال میں ملتا رہتا ہے، اس سلسلے میں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، صبح کے وقت کسی ناشتے والی دکان پر پوریاں نکلتے اور بنتے دیکھ لیں کہ جو صاحب پوری والے پیڑے کو ہاتھ سے پھیلا کر پوری بناتے اور تلنے کے لئے کڑاہی میں پھینکتے ہیں وہ ہاتھ صاف کرنے کا تکلف نہیں کرتے اور پوریاں تلتے جاتے ہیں، حالانکہ وہ اس دوران پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی دھوتی سے ناک بھی صاف کرتے اور ہاتھ دھونے یا صاف کرنے کا تکلف نہیں کرتے، اب ناشتہ کرنے والے گاہک تو اس طرف توجہ نہیں دیتے وہ کھاتے چلے جاتے ہیں۔

ذکر تو دراصل دودھ اور گوالوں کا مقصود ہے،جنہوں نے جمعرات کو لاہور میں ہڑتال کی، وہ دودھ کی پڑتال کرنے والے فوڈ اتھارٹی کے شعبہ سے نالاں ہیں کہ باہر (دیہات) سے آنے والے دودھ کو ناقص اور ملاوٹ والا قرار دے کر بہا دیا جاتا ہے، جس سے گوالوں کو مالی نقصان پہنچا اس کا تخمینہ کروڑوں میں بتایا گیا،گوالوں نے جمعرات کو دودھ سپلائی نہ کیا اور دکان داروں کو بھی مجبور کیا کہ وہ دکانیں بند رکھیں، قدرتی طور پر روزمرہ دودھ اور دہی لینے والے شہریوں کو تکلیف ہوئی، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ان گوالوں نے ہڑتال کر کے دھرنا دیا اور مال روڈ پر ٹریفک بند کر کے شہریوں کو تکلیف پہنچائی، لیکن انتظامیہ سے جو بات کی اور جس یقین دہانی پر ہڑتال ختم کی وہ انتظامیہ کے مقرر کردہ دودھ دہی کے نرخ ہیں، انتظامیہ نے ان پر نظرثانی کا یقین دِلا دیا ہے۔

جہاں تک دودھ کا تعلق ہے، تو اس میں ملاوٹ اور اس کے کم پیمانے کی باتیں اور شکایتیں بہت ہیں اور کئی حقائق تو لطیفے بن جاتے ہیں، مثلاً لاہور میں حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ؒ کے عرس پر دربار کے باہر گوالوں کی طرف سے دودھ کی سبیل لگتی ہے۔ یہاں زائرین، تو ایک طرف شہری بھی ٹھنڈا میٹھا دودھ پینے کے لئے قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ دودھ سو فیصد خالص ہوتا ہے کہ عقیدت کے طور پر لایا جاتا ہے، چنانچہ شہر میں زائرین سے کہا جاتا ہے کہ وہ احتیاط سے پئیں زیادہ پیا تو خالص ہونے کی وجہ سے اسہال کی شکایت ہو جائے گی۔ اِسی طرح یہ بھی مشہور ہے جب شہر سے کبھی گاؤں جانا ہو اور وہاں گھر کا دودھ میسر ہو تو اسے پی کر بھی پیٹ میں گڑ بڑ ہوتی اور پھر بار بار واش روم جانا پڑتا ہے۔

یہ حقائق نما لطیفے اپنی جگہ، لیکن ایک خوفناک حقیقت یہ ہے کہ گوالے بھی گوشت اور دوسری اشیاء کی طرح سرکاری نرخوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ایک تو یہ خالص کے نام پر مہنگا فروخت کرتے، پھر ان کے پیمانے چھوٹے ہوتے ہیں جسے گاہک لیٹر کا پیمانہ جانتا ہے وہ صرف آٹھ سو یا ساڑھے آٹھ سو ملی لیٹر ہوتا ہے، ہم نے اپنے دودھ والے سے جب یہ کہا تو اس نے فوراً جواب دیا ہم دودھ کلو کے نرخ سے فروخت کرتے ہیں اور اس کے بعد تول کر بھی دکھا دیا کہ پورا ہے،نرخوں اور دودھ کے اچھا ہونے کی کیسی دلچسپ مثال ہے کہ ایک ہی دکان پر دو قسم کا دودھ فروخت ہوتا ہے۔ ایک 80روپے فی کلو دوسرا 70روپے کلو بکتا ہے۔ یہ ایک ہی دکان پر ہوتا ہے۔ اب ذرا ہمارے لاہوریوں کی شان ملاحظہ کریں کہ یہ اپنے سامنے دودھ نکلوا کر خریدنے کے لئے چل کر جاتے ہیں، یہاں نرخ90 سے 100 روپے فی کلو ہے، گوالہ پہلے زیادہ دودھ کے لئے بھینس کو ٹیکہ لگاتا ہے۔ یہ عمل ملائیشیا میں ممنوع قرار دے کر اس کی سزا موت مقرر کر دی گئی ہے، کہ یہ عمل خطرناک اور امراض کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں پانی ملانے کی حکایات بھی مشہور ہیں۔ اس پورے سلسلے میں حکام کو ہر بات معلوم ہے، لیکن اس کا تفصیلی سروے کر کے حل نہیں نکالا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مسئلہ صحت کا ہے، اسے حتمی اور پوری جزیات کے ساتھ حل کیا جائے۔ بات اس پر ختم کرتے ہیں کہ ہمارے ایک ساتھی گوالے سے عجز کے ساتھ یہ استدعا کرتے ہیں کہ وہ دودھ میں جو پانی ملاتا ہے اس کے لئے ایسا پانی ملائے، جو صاف ستھرا ہو اور یہی اس کا احسان اور مہربانی ہو گی۔ *

مزید : کالم