عوامی موڈ سے بے خبر سیاسی اشرافیہ

عوامی موڈ سے بے خبر سیاسی اشرافیہ
 عوامی موڈ سے بے خبر سیاسی اشرافیہ

  

پھر وہی جنگ و جدل کی باتیں اور وہ بھی فوج کے سامنے، جس کا کام ہی جنگ لڑنا ہے۔ ارے بھئی ذرا عوام کا موڈ تو دیکھو، اپنے اِردگرد کا جائزہ تو لو، خلقِ خدا کیا چاہتی ہے، کیا مانگ رہی ہے، ہر لٹیرے کو معصوم فرشتہ بنانے کی عادت چھوڑ دو، کچھ عقل سے کام لو، اب وہ دن لد گئے جب ایسی باتوں سے تیسرے فریق کو متاثر کیا جاتا تھا اور اس کا خوف دِلا کر اپنی ہر قسم کے مقدمات سے جان چھڑا لی جاتی تھی۔ اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ اب حکمتِ عملی تبدیل ہو چکی ہے۔ اقتدار کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے، اب پاکستان کو بچانے اور اُس کے نظام کو راہِ راست پر لانے کی حکمتِ عملی پر کام ہو رہا ہے۔ ایسی جمہوریت سو سال بھی چلتی رہے، اُسے کوئی خطرہ نہیں، البتہ اس جمہوریت سے فائدہ اُٹھا کر عوام کا لہو نچوڑنے اور اس مُلک کی چولیں ہلانے والوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سیاست دانوں کی باتیں صرف ٹی وی چینلوں تک رہ گئی ہیں، اُن کی حمایت میں کوئی آواز اِس لئے نہیں اُٹھے گی کہ اس وقت مُلک میں جو بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں، وہ کوئی بھی کھونا نہیں چاہتا۔کراچی میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں رہ گیا، جو یہ کہے کہ شہر سے رینجرز واپس چلی جائے اور اسے پھر سے قاتلوں، لٹیروں، بھتہ خوروں اور اغوا کاروں کے سپرد کر دیا جائے۔

جہاں تک کرپشن کے خلاف کارروائیوں کا تعلق ہے، تو سیاست دان اس بات کو نہ بھولیں کہ یہ عوام کی دیرینہ خواہش ہے۔ انہوں نے نجانے کتنی بار کبھی کسی آمر اور کبھی کسی منتخب نمائندے کو اس لئے دِل سے قبول کیا ہے کہ اُس نے بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہوتا تھا۔ اگر ایسے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے، بدعنوان سیاست دانوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعوے مٹی میں مل گئے، مگر عوام مایوس نہیں ہوئے، وہ آج بھی ہر اُس شخص کو ووٹ دیں گے، جو کرپشن کے خلاف علم جہاد بلند کرنے کا دعوی کرے گا۔۔۔ خورشید شاہ کو یہ کس جوتشی نے بتایا کہ آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالا جانے والا ہے۔ ایسے غیب کے علوم صرف انہی کو معلوم ہوتے ہیں، جنہیں پہلے سے اپنے اعمال کا علم ہوتا ہے۔ میراثی کی وہ بیٹی بھی بہت پہنچی ہوئی مخلوق تھی، جس نے آشنا کے ساتھ بھاگنے سے ایک روز پہلے اپنے ماں باپ کو بتا دیا تھا کہ کل کوئی بڑا واقعہ ہونے والا ہے۔ اگلے روز جب وہ گھر سے بھاگ گئی تو میراثی نے سب کو روک روک کر بتایا کہ اُس کی بیٹی بڑی اللہ لوک تھی، اُسے ایک روز پہلے ہی کسی بڑے واقعہ کی بشارت مل گئی تھی۔

ارے بھائی جب آپ کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی کرپشن کی ہی نہیں اور ہمارا کرپٹ عناصر کے ساتھ تعلق بھی کوئی نہیں، تو پھر آپ کو یہ الہام کیوں ہو جاتا ہے کہ آصف علی زرداری پر ہاتھ پڑنے والا ہے؟ ڈاکٹر عاصم حسین اگر اتنے ہی نیک و پارسا ہیں، تو پھر تفتیش ہونے دیجئے، اُن کی گرفتاری کے فوراً بعد پیپلزپارٹی کا پاکستان بچانے کے لئے ریاست کے اندر ریاست بنانے سے گریز کرنے کی دہائی دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا پیپلزپارٹی خود ہی اس حقیقت سے ثابت نہیں کر رہی کہ جو عناصر کرپشن کے الزام میں پکڑے جا رہے ہیں، اُن کا کھرا آصف علی زرداری تک جاتا ہے۔ابھی کوئی بات سامنے آئی نہیں، لیکن بشارتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔خورشید شاہ اس بات کو شاید بھول گئے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے آصف علی زرداری نے بھی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی تھی،انہیں تو شاید بہت پہلے بشارت ہو چکی تھی کہ انہوں نے سندھ میں جو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر لوٹ مار کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے، اب وہ ہنی مون مزید نہیں چلنے والا، اِس لئے انہوں نے تھڑا اسمبلی کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے آخری چانس کے طور پر ایک بڑھک ماری، لیکن اُن کے اپنے گلے پڑ گئی، انہیں ایمرجنسی میں ملک چھوڑنا پڑا۔

بہت دِنوں سے وہ خاموش تھے، لیکن ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد وہ بھی چپ نہ رہ سکے، اور انہوں نے اپنے جیالے رہنماؤں کو اس حوالے سے شور شرابے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے ارے پیپلزپارٹی کا راگ الاپنے والو ذرا یہ تو بتاؤ ڈاکٹر عاصم حسین کی پارٹی کے لئے کیا خدمات ہیں، اُس نے کیا قربانیاں دی ہیں، کتنے کوڑے کھائے ہیں، کتنی جیلیں کاٹی ہیں، پارٹی کی تنظیم میں اُس کا عہدہ کیا ہے اور مشکل وقت میں اُس نے پارٹی کے لئے کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟ جس شخص کا پیپلزپارٹی سے براہِ راست کوئی تعلق ہی نہیں بنتا، اُس کی گرفتاری پر شیری رحمن اور قمرزمان کائرہ جیسے سینئر لیڈر یہ دہائی دے رہے ہیں مُلک میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی کے کارکن جیلوں اور مقدمات سے نہیں ڈرتے وغیرہ وغیرہ۔

پنجاب سے پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر قاسم ضیاء کو نیب نے پکڑا تو پیپلزپارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت نے ہلکی پھلکی موسیقی کے ساتھ احتجاج کیا۔ آصف علی زرداری نے ان کی گرفتاری کا نوٹس تک نہیں لیا، کوئی بیان نہیں دیا۔ قمرزمان کائرہ اور شیری رحمن کو بھی جمہوریت خطرے میں نظر نہیں آئی۔ خورشید شاہ بھی طبلِ جنگ بجانے سے باز رہے۔ شاید اس لئے کہ قاسم ضیاء کی آصف علی زرداری کے لئے وہ خدمات نہیں تھیں، جو ڈاکٹر عاصم حسین سرانجام دیتے رہے، لیکن ڈاکٹر عاصم حسین جو کبھی پیپلزپارٹی کے عہدیدار ہی نہیں رہے، اُن کا تعلق صرف اقتدار کلب سے رہا، جو ایک طرف خود کو ایم کیو ایم کا کہتے اور دوسری طرف پیپلزپارٹی سے جڑے رہتے، اپنی بے پناہ کرپشن کے باعث حراست میں لئے گئے، تو شور مچ گیا۔ یوں لگا جیسے پیپلزپارٹی کے سب سے بڑے رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہو۔ اُس کی گرفتاری پر خورشید شاہ کے اندر بھی گھنٹیاں بج گئیں اور انہوں نے فوراً یہ کھوج لگا لیا کہ ہاتھ آصف علی زرداری پر پڑنے والا ہے، سو انہوں نے ایسی فضول بڑھک ماری، جسے موجودہ حالات میں طفلانہ حرکت ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جس طرح آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی کے خلاف آپریشن بند نہ کیا گیا تو وزیرستان سے کراچی تک سب کچھ بند کر دیا جائے گا اور اس بڑھک کے بعد ان کا پاکستان میں داخلہ ہی بند ہو گیا، اُسی طرح خورشید شاہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالنے کی صورت میں جنگ ہو گی۔ یہ کہاں ہو گی،کیسے ہو گی،کون لڑے گا، کس سے لڑے گا؟اس کی وضاحت اگرچہ نہیں کی گئی،مگر سب جانتے ہیں کہ خورشید شاہ نے بھی فوج کو دھمکی دی ہے، اُسی فوج کو جس کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے قوم کے دِل جیت لئے ہیں اور اُس کے دِلوں پر راج کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی اب صرف لفظوں کی جنگ ہی لڑ سکتی ہے، عوامی طاقت اس کے لئے قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر موجودہ حالات میں ہر پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ قومی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں جوکچھ ہو رہا ہے، اسے رکنا نہیں چاہئے، اسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے تاکہ پاکستان کو صحیح معنوں میں امن و سلامتی اور بدعنوانی سے پاک مُلک بنایا جا سکے۔

سنتے ہیں کہ سیاست دانوں کا قوم کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے۔ انہیں وقت سے پہلے معلوم ہو جاتا ہے کہ اُن کا موڈکیا ہے، جس کے بعد وہ اپنی پالیسیاں اُس کے مطابق ترتیب دیتے ہیں، مگر پاکستانی سیاست دانوں کے بارے میں یہ بات نہیں کی جا سکتی، وہ اب بھی ماضی کے خواب دیکھ رہے ہیں، اُس ماضی کے جس میں وہ مُلک لوٹنے سے لے کر اداروں کی پامالی تک سب کچھ کرتے رہے۔ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کا یہ رویہ سیاست دانوں کو قوم کی نظر میں مزید رسوا کر رہا ہے پہلے ایم کیو ایم حقائق کو تسلیم کر کے بدلی ہوئی صورتِ حال کے مطابق اپنا اندازِ سیاست بدلنے کی بجائے ماضی کے داؤ پیچ اختیار کر کے بچنے کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے باعث آج تنہا ہو چکی ہے۔ وہ آج بھی اس آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے، جس کے بارے میں کراچی کا ہر شخص مثبت رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ اب یہی غلطی پیپلزپارٹی بھی دہرا رہی ہے۔ اس بات پر زور دے کر کہ آپریشن تو دہشت گردی کے خلاف شروع کیا گیا تھا،کرپشن کے خلاف کارروائیاں کیوں کی جا رہی ہیں، خود کو بصیرت سے عاری جماعت ثابت کر رہی ہے، کیونکہ اس موقف کا مطلب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی بالواسطہ طور پر کرپشن کے الزامات کو درست تسلیم کر رہی ہے، مگر اُن پر کارروائی کے حق میں نہیں۔ اُس کی قیادت کو اس بات کا بھی ادراک نہیں کہ عوام اس سارے عمل کو کس قدر خوشی سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار مُلک میں طاقتور لوگ قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں نجانے کس ترنگ میں اس سارے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اب اس عمل کو کوئی بھی نہیں روک سکتا، کیونکہ پوری قوم اس آپریشن کی پشت پر کھڑی ہے، اِسی لئے اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں مزید عوامی نفرت تو سمیٹتی ہیں، انہیں عوامی حمایت ملنے کا ذرا بھر امکان موجود نہیں۔ *

مزید : کالم