بھارتی جارحیت کے جواب میں۔ جوش نہیں ہوش کی ضرورت

بھارتی جارحیت کے جواب میں۔ جوش نہیں ہوش کی ضرورت
 بھارتی جارحیت کے جواب میں۔ جوش نہیں ہوش کی ضرورت

  

ملک کے اندر تمام طوفان اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ جب سرحدیں گرم ہو جاتی ہیں۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ماحول کو گرم کیا ہوا ہے۔ گو کہ کل سات بے گناہ پاکستانی بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے ہیں۔ لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کہ بھارت نے سرحدی علاقہ میں بے گناہ نہتے پاکستانیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا یا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف موقع پر پہنچے اور انہوں نے سرحد کا بھی دورہ کیا۔ ہسپتال میں زخمیوں سے بھی ملاقات کی۔ ان کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے خلاف بیان بھی دیا۔ بھارتی جارحیت کی مذمت بھی کی۔عالمی برادری کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد صدر وزیر اعظم سمیت سب کے مذمتی بیانات آگئے۔ بلاول بھٹو نے بھی مذمت کی۔ سارا ملک یک زبان ہو گیا۔ لیکن یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہم سب بھارت کے خلاف ہمیشہ یک زبان اور متحد رہے ہیں۔ مجھے انتظار ہی رہا کہ شائد ایم کیو ایم کی طرف سے بھی مذمتی بیان آجا تا۔ لیکن انتظار بس انتظار ہی رہ گیا۔ آصف زرداری کا بیان بھی نہیں آیا۔ لیکن بلاول کا آگیا۔

سوال یہ اہم نہیں کہ کس نے مذمت کی اور کس نے نہیں کی۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے بھی یہ کہہ کر حیران کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ محدود جنگ کی آپشن نہیں ہے۔ یعنی وہ بھارت کو سرکاری طور پر اس ماحول میں یہ بیان دے رہے تھے کہ بھارت کسی محدود جنگ کا آپشن ذہن میں نہ رکھے۔ پاکستا ن میں ماحول اتنا گرم ہو گیا تو میں نے بھارتی میڈیا کو فالو کرنے کی کوشش کی کہ جان سکوں کہ کیا آگ برابر کی لگی ہوئی ہے۔ لیکن وہاں سکون تھا۔ بھارتی میڈیا سرحدوں پر گرمی کی کوئی خبر نہیں دے رہا تھا۔ بلکہ وہاں تو کشمیر سے ایک پاکستانی سجاد کی گرفتاری کی خبر گرم تھی۔ جس کو دہشت گرد بتا یا جا رہا تھا۔یہ سجاد بلوچستان کا رہائشی بتا یا جا رہا تھا۔ بھارتی میڈیاء بس اسی خبر کا راگ الاپ رہا تھا۔ میں حیران تھا کہ یہاں نہتے لوگ مر گئے ہیں ۔وہاں خبر بھی نہیں۔ کون کہتا ہے کہ یہ دنیاایک گلوبل ویلج بن گیا ہے۔ کون کہتا ہے کہ خبرکی کوئی سرحد نہیں۔

جب سے ضرب عضب شروع ہو ئی ہے۔ بھارت نے ایک مسلسل حکمت عملی کے تحت سرحد کو گرم رکھا ہوا ۔ وہ پاکستان کو پکار رہا ہے کہ آؤ جنگ کرو۔ ہمارے بے گناہ شہری اس کی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک جذباتی کیفیت بھی ہے کہ کیا ہمارا سپہ سالار اور ہمارے حکمران صرف مذمتی بیان ہی دے رہے ہیں۔ یہ ہمارے شہریوں کا خون اس قدر سستا ہے کہ اس پر صرف بیان ہی دئے جا رہے ہیں۔ ہم جواب کیوں نہیں دیتے۔ خون کا بدلہ خون کیوں نہیں۔ گولی کا جواب گولی کیوں نہیں۔ جارحیت کا جواب جار حیت سے کیوں نہیں دیا جا رہا۔ کیا بھارت ہماری خاموشی کا نا جائر فائدہ نہیں اٹھا رہا۔اگر ہمارے نہتے بے گناہ شہریوں نے اسی طرح مرنا ہے تو ہم نے جے ایف تھنڈر۔ ایٹم بم اور دیگر اسلحہ کا اچار ڈالنا ہے۔ یہ سب اسلحہ کس کام کا۔ یہ ہمارے شہریوں کی حفاطت کیوں نہیں کر سکتا ۔ ہم جنگ سے کیوں ڈرتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف یہ دلیل بھی ہے کہ ضرب عضب سے صرف دہشت گرد ہی نہیں مر رہے۔ بلکہ بھارت نے کئی سالوں کی محنت سے پاکستان کے خلاف جو گریٹ گیم بنائی تھی وہ بھی اپنی موت مر رہی ہے۔ کون نہیں جا نتا کہ بھارت نے اس تحریک طالبان ۔ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کو کئی سال تک پاکستان میں افرا تفری اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اربوں ڈالر دئے ہیں۔ان کے پاکستان میں نیٹ ورک کو سپورٹ کیا ہے۔ اور اس ضرب عضب کے نتیجے میں بھارت کے یہ سپوت مر رہے ہیں۔ اور جب کسی کے بچے مرتے ہیں تو کیا وہ شور نہیں مچاتا۔ جارحیت پر نہیں اتر آتا۔ اسی لئے بھارت بھی اپنے بچے مرنے سے نیم پاگل ہو گیا ہے۔ اسی لئے نیم پاگل جارحیت کر رہا ہے۔ اس لئے یہ وقت بھارت سے الجھنے کا نہیں ہے۔ بلکہ بھارت کے پاگل پن کو نظر انداز کر کے ضرب عضب کا جاری رکھنا ہے۔ یہی بھارت کی نا کامی ہے۔ ورنہ اگر ہم بھارت کے ساتھ کسی سرحدی تنازعہ یا محدود لڑائی میں الجھ جائین گے تو یہ بھارت کی کامیابی ہو گی کیونکہ بھارت یہی چا ہتاہے۔ کہ پاک فوج اور پاکستان کی حکومت و سیاسی قیادت ضرب عضب کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو جائے تا کہ اس کے بچوں کو جان بچانے اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکے۔

اسی طرح بلوچستان میں بھی بھارت کی گریٹ گیم کو ناکامی ہو رہی ہے۔ جو بلوچ قوم پرست پہلے کھلے عام بھارت سے مدد لینے کی بات کرتے تھے وہ اب پاکستان سے بات کر رہے ہیں۔ جو پہلے آزاد بلوچستان کی بات کرتے تھے ۔ وہ پاکستان کے ساتھ رہنے کی بات کر رہے ہیں۔ فراری ہتھیار پھینک رہے ہیں۔ یہ بھی بھارت کی نا کامی ہے۔ گوادر بن رہا ہے۔ جو ممبئی کی اقتصادی موت ہو گا۔ اس لئے سرحدیں تو گرم ہو نگی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ نیم پاگل بھارت کو مکمل پاگل کرنا ہے یا اس کے پاگل پن کا شکار ہونا ہے۔ بس یہی فیصلہ کرنا ہے کہ ہوش چلے گا یا جوش ۔ بس یہی فیصلہ کرنا ہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ کوئی فکر کی بات نہیں۔

مزید : کالم