پیپلز پارٹی میاں نواز شریف سے ناراض جھکاؤ تحریک انصاف کی جانب

پیپلز پارٹی میاں نواز شریف سے ناراض جھکاؤ تحریک انصاف کی جانب

محرم راز کا تجزیہ

صدر آصف زرداری ڈاکٹر عا صم کی گرفتاری کے بعد اس وقت شدید غصہ میں ہیں۔ لیکن وہ کس پر غصہ میں ہیں۔ اس حوالہ سے ابہام ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ انہیں وزیر اعظم میاں نوز شریف کے خلاف شدید غصہ ہے۔ اور انہوں نے حالیہ چوبیس گھنٹوں میں یہ گفتگو کی ہے کہ میاں نواز شریف ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اور نام فوج کا لگا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کو سمجھ ہے کہ میاں نواز شریف بے بس ہیں ۔ لیکن وہ فوج یا رینجرز کے خلاف مزید بات نہیں کرنا چاہتے ۔ اس لئے میاں نواز شریف کے خلاف گفتگو کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر بلاول بھٹو کی خاموشی کو بھی اقتدار کے حلقوں میں معنی خیز کہا جا رہا ہے۔

آصف زرداری نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کو اگلے چند ماہ میں سیاسی طور پر ٹف ٹائم دیں گے۔ اسی لئے انہوں نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اجازت دی اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے مستعفیٰ ہونے کے ایشو پر تحریک انصاف کی حمائت کا کہا۔ یہ ملاقات اور تحریک انصاف کے موقف کی حمائت دراصل میاں نواز شریف کو پیغام ہے کہ یا تو وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات سنبھالیں ورنہ نتائج کے لئے تیار ہو جائیں۔ آصف زرداری دو رخی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ وہ ان گرفتاریوں پر احتجاج بھی کر رہے ہیں ۔ لیکن فوج کے خلاف بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔ اسی لئے وہ ساری صورتحال کا ذمہ دار میاں نواز شریف کو قرار دے رہے ہیں۔ شائد سیاسی طور پر اس وقت یہی ان کے لئے بہترین حکمت عملی ہے۔

مزید : تجزیہ