اربوں روپے بینک فراڈ میں ملوث 8ملزم گرفتار، 3بینک ملازم شامل

اربوں روپے بینک فراڈ میں ملوث 8ملزم گرفتار، 3بینک ملازم شامل

لاہور(زاہد علی خان)ایف آئی اے نے بنکوں میں فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی شروع کردی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے 6بنکوں میں 2ارب36کروڑ روپے کے فراڈ میں ملوث 8ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ان میں بنکوں کے تین ملازمین بھی شامل ہیں۔جن میں بنکوں کے اعلیٰ افسر بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ایف آئی اے نے اس حوالے سے تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے اور وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ڈاکٹر عثمان انورنے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بنکوں میں فراڈ کیس کی تحقیقات کے حوالے سے تصدیق کی اور کہا کہ حکومت ایسے افراد کے خلاف سخت کاروائی کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ قومی خزانے کو نقصان پہچانے والے چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ،ان کو کیفر کردار تک پہچایا جائے گا۔اس حوالے سے تحقیقاتی افسر نے مزید بتایاکہ ان ملزمان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے بنکوں سے بوگس دستاویزات پر قرضے لیے اوربعدازاں بااثر افراد کے ذریعے معاف کروا لیا۔تفتیشی افسر نے مزیدبتایا کہ بنکوں کے ان افسران کا بھی اتناہی قصور ہے،جتنا قرضے لینے والوں کا ہے۔بنکوں کے ان افسران نے بااثر افراد کے زریعے قرضے دیے اور ان کی دی جانے والی دستاویزات کی تصدیق کی اور اس پر اپنے ریمارکس دیے کہ یہ قرضہ لینے والے اہل ہیں جبکہ یہ افراد قرضہ لینے کے اہل نہیں تھے اور انہوں نے بڑی سفارشوں پر قرضہ جات حاصل کیے۔معلوم ہوا ہے کہ حکومت ایسے بااثر افرادکو بھی گرفتار کرے گی۔ذرائع نے مزید بتا یا کہ ان بنکوں میں تین صوبائی بنک بھی شامل ہیں۔اس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایف آئی اے نے تین مقدمات درج بھی کرلیے ہیں۔جن کی تحقیقات بھی جاری ہیں ،مکمل تحقیقات کے بعد رپورٹ وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیرخزانہ کو بھجوائی جائی گی۔

مزید : صفحہ آخر