سرکاری افسروں کی انکوائری پر مرتب فائلیں ہیڈ کوارٹر لیگل برانچ سے غائب

سرکاری افسروں کی انکوائری پر مرتب فائلیں ہیڈ کوارٹر لیگل برانچ سے غائب

لاہور(ارشد محمود گھمن سے)اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ہیڈ کوارٹرصوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں سرکاری اداروں کے کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف درج مقدمات کے اشتہاریوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا۔جوڈیشل ایکشن و درج مقدمات کی فائلیں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔جس کی بابت بااثر کرپٹ افسران کا ’’اینٹی کرپشن کیس منیجمنٹ سسٹم ‘‘کو تعین کرنے میں دشواری ۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی انور رشید نے صوبائی دارالحکومت ریجن اور پنجاب کے تمام اضلاع میں صوبائی اداروں کے کرپٹ افسران کے خلاف درج مقدمات ،جوڈیشل ایکشن ،اشتہاریوں اورشکایات کی درخواستوں وغیرہ کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نظام جس کا نام ’’اینٹی کرپشن کیس مینجمنٹ سسٹم ‘‘ ہے۔مظلوم افراد کو بروقت انصاف اور کرپشن میں ملوث افسران کا گھیراؤ کرنے کیلئے احکامات صادر کیے گئے تھے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے اس آن لائن سسٹم کو کامیاب کرنے کیلئے لاہور ریجن سمیت پنجاب بھر کے تمام اضلاع کو جدیدکمپیوٹرائزڈآلات،کمپیوٹرز،سکینرزاور پرنٹرزفراہم کیے گئے۔تاکہ ہیڈ آفس میں آن لائن ریکارڈ کے ذریعے کمپلینٹس کرنے والے شخص کی کارروائی کے متعلق موقع پر ہی انکوائری کی تفصیلات حاصل ہو سکیں اورناقص کارکردگی کے حامل افسران کا تعین کر کے ان کیخلاف کاروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق ماتحت عملہ کے چند باثر افسران نے صوبائی اداروں کے سرکاری ملزمان کے ساتھ ساز باز کرکے ان کی فائلیں غائب کروا رکھی ہیں ،جس کے ریکارڈ میں اندراج کرنے کیلئے کمپیوٹرائزڈ سٹم پر کام کرنے والے عملہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور ریجن کے ضلع شیخوپورہ،قصور،گوجرانوالہ ریجن کے اضلاع سیالکوٹ ،گجرات ،نارووال ،منڈی بہاؤالدین،حافظ آباداور فیصل آباد ریجن ،ملتان ریجن،ڈی جی خان ریجن ،بہاولپور ریجن وغیرہ میں کئی اہم مقدمات کی فائلیں جوڈیشل ایکشن اور ٹرانسفرانکوائری کی فائلیں ہیڈ کوارٹر لاہورلیگل برانچ سے غائب ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔یہ فائلیں اینٹی کرپشن کے عملہ نے ملزمان کے ساتھ ساز باز کر کے غائب کر رکھی ہیں۔کرپٹ ماتحت عملہ نے ڈی جی انوررشید کے ایسے نظام کو ناکام کرنے کیلئے ٹھان رکھی ہے ۔جب اس بابت موقف دریافت کرنے کیلئے لاہور ریجن کے ترجمان حاجی حامد ستار سے رابطہ کیا گیا تو ان کے مطابق اینٹی کرپشن کیس منیجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کے تحت تمام ریجنز کا ریکارڈ 2011تا 20015 ایف آ ئی آرسیرئیل نمبر کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد 2001تا2010کاریکارڈ سیرئیل وائز اپ گریڈ کیا جائے گا۔پنجاب بھر میں تمام شکایات کے متعلق دی جانے والی درخواستوں کے متعلق ڈی جی اور ڈائریکٹر ریجن کے کنٹرول روم آن لائن کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے ہی رپورٹ حاصل کرسکے گا۔اورناقص کارکردگی کے ذمہ دار افسران کا تعین کرکے ان کی کارکردگی کے متعلق کاروائی کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

فائلیں غائب

مزید : صفحہ آخر