پنجاب اسمبلی میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کیخلاف متفقہ قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کیخلاف متفقہ ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں سابق کمشنر واجد شمس الحسن کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی،پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز قائم مقام سپیکر سردار سیر علی گورچانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو ایوان میں حکومتی رکن اسمبلی وحید گل کی طرف سے پیش کی گئی آوٹ آف ٹرن قرار داد میں کہا گیا کہ واجد شمس الحسن نے پاکستانی جریدے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم پاکستان ذاولفقار علی بھٹو نے مذہبی و دینی جماعتوں کے دباؤ پر مرزائیوں کوغیر مسلم قراردینے کا فیصلہ غلط تھا۔ سابق پاکستانی ہائی کمشنر کایہ بیان نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی مذہبی و دینی جماعتوں اور امت مسلمہ میں شدید اشتعال اور دل آزاری کا سبب بنا ہے اور قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی توہین کی گئی ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا ایوان سابق ہائی کمشنر کے اس بیان کی شدید مذمت کرتا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے آئین پاکستان اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ قرارداد کی کسی نے مخالفت نہیں کی ،قبل ازیں اجلاس میں قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے محکمہ کی طرف سے متعدد سوالوں کے جوابات ایوان میں پیش نہ کرنے کی وجہ سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد سیکہا کہ آئندہ اگر کسی بھی محکمہ کی طرف سے بروقت سوالوں کے جوابات میں کوئی تاخیر ہوئی تواس کی ذمہ داری متعلقہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری پر ہوگی ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ، انفامیشن اور کلچر کے بارے میں سوالوں کے جوابات پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نواز چوہان جبکہ انفارمیشن کے رانا محمد ارشد نے جوابات دئے، ایوان میں پیش کئے محکمہ انفارمیشن کے متعدد سوالوں کے جوابات نہیں دئے گئے تھے جس پر سپیکر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سوالوں کو موخرکیا اور پارلیمانی سیکرٹری برائے انفارمیشن رانا ارشد کو کھڑا ہونے کے لئے کہا۔اس موقع پر قائم مقام،سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج میں آخری وارننگ دے رہا ہوں آج کے بعد جس سوال کا جواب ایوان میں نہ آیا اس پر بھر پور ایکشن لیا جائے گا اور آج جن سوالوں کے جوابات نہیں آئے ان کی انکوائری کرکے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرکے 15روز کے اندر رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی نے ایوان کو مذاق بنا رکھا ہے ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور اسمبلی کے ڈیکورم کو بحال رکھیں گے۔ رکن اسمبلی علامہ غیاث الدین کی تحریک استحقاق پر انہوں نے کہا کہ 90فیصد ممبران جن کی تحاریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کی جاتی ہیں وہ صلح کر لیتے ہیں اگر وہ صلح نہ کریں تو بیورو کریسی اپنا قبلہ درست کر سکتی ہے۔اس موقع پر سپیکر نے استحقاق کمیٹی میں اب تک کے ہونے والے فیصلوں سے متعلق رپورٹ ایوان میں طلب بھی کر لی ہے۔قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے منسٹر فوڈ سیکرٹری فوڈ،کین کمشنر سمیت دیگر متعلقہ عملے کو پیرمورخہ31اگست کو اسمبلی میں طلب کر لیا ہے۔گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی پنجاب شیخ علاؤ الدین نے انکشاف کیا تھا کہ ابھی تک برادر شوگر ملز ننے میرے حلقے کے لوگوں کے ایک ارب روپیہ دینا ہے،اور آج یہ مل مالکان حکومت کو ایک اشتہار کے ذریعے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت ہمیں قرض دے گی تو ہم ادائیگیاں کریں گے۔جبکہ قرضہ کسی جنس پر ہوتا ہے اور ان کے پاس تو اب چینی بھی موجود نہیں یہ کس چیز پر قرضہ مانگ رہے ہیں اس پر بات کی جائے اور متعلقہ حکام سے پوچھا جائے انہوں نے کہا کہ متعلقہ منسٹر نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ شوگر مل مالکان کی طرف 90فیصد ادائیگیاں ہو چکی ہیں آخر ان کے خلاف کیوں ایکشن نہیں لیا جاتا؟تحریک انصاف کے رکن میاں اسلم اقبال نے کہا کہ رمضان سے پہلے چینی 45روپے تھی مگر بعد میں 65سے 70روپے تک پہنچ گئی ہیں اس کے باوجود بھی کسانوں کو جائز قیمت نہیں دی جاتی میرے ایک دوست نے تین سال قبل شوگر ملز کے مالک سے پیسے لینے تھے مگر ابھی تک اس کو رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی ،شوگر ملز مالکان چینی بلیک کرتے ہیں اور غریب کسانوں کا خون چوس رہے ہیں ملک میں جو بھی کرپشن کررہا ہے اس پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس کو پھانسی دی جائے چاہیے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جاعت سے ہی کیوں نہ ہو۔مسلم لیگ(ن) کے رکن پنجاب اسمبلی طارق محمود باجوہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تحریک التواء کار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں بیمار جانوروں کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے ،سٹی انتظامیہ مقرر کردہ ریٹس میں پرائس کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ،قصور ،مصطفیٰ آباد،کنگن پور ،چونیاں اور گنڈا سنگھ پتوکی روڈ کے گرد و نواح میں محکمہ لائیو سٹاک کی آشیر باد سے پانی ملے بیمار جانوروں کے گوشت کی فروخت تا حال جاری ،جس پر شہریوں نے متعلقہ محکمہ کو متعدد بار درخواستیں دی ہیں مگر کوء نوٹس نہیں لیا جارہا ،جگہ جگہ غیر قانونی خود ساختہ سلاٹر ہاؤس قائم ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،وہ اپنی مرضی کا جانور لاتے ہیں اور بغیر تصدیق کے سرعام فروخت کررہے ہیں ،انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ان قصابوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور ناقص گوشت کی فروخت بند کی جائے۔ اس تحریک کا جوان محکمہ کی طرف سے آنے پر نمٹا دیا ۔پنجاب اسمبلی کے ایوان نے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ خان کے پیش کردہ مسودہ قانون (ترمیم) تعلیم القرآن و سیرت انسٹی ٹیوٹ پنجاب 2015ء بل کی منظوری بھی دی ، جسے کثرت رائے سئے منظور کرلیا گیا ۔ایجنڈے کی کارروائی مکمل ہونے پر قائم مقام سپیکر اجلاس سوموار کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا۔

مزید : صفحہ آخر