تھانیدارمسروقہ ڈیجیٹل کیمرہ لے کر رفوچکر ،ڈمی کیمرہ تھما دیا

تھانیدارمسروقہ ڈیجیٹل کیمرہ لے کر رفوچکر ،ڈمی کیمرہ تھما دیا

لاہور(کرائم سیل)تھانہ سبزہ زار میں تعینات انویسٹی گیشن کے اے ایس آئی عبد الخالق نے بزرگ صحافی کو ڈاکوؤں سے برآمد کئے گئے ڈیجیٹل کیمرے کی بجائے ڈمی کیمرہ پکڑا دیااور سپرداری کے کاغذات لیکر تھانہ سے فرار ہو گیا۔متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ کیمرہ دینے کے لئے مذکورہ افسر نے ہم سے 2 ہزار روپے بھی لئے تھے ۔نمائندہ "پاکستان" سے گفتگو کرتے ہوئے بزرگ صحافی اقبال ناصر اور اس کے بیٹے اسد اقبال نے موقف اختیار کیا کہ 26مئی کو ان کے ساتھ سبزہ زار کے علاقہ میں ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی جس میں ڈاکو ان سے ہزاروں روپے مالیت کا ڈیجیٹل کیمرہ اور دیگر سامان چھین کر لے گئے تھے ۔واقعہ کا مقدمہ نمبر 448\15تھانہ سبزہ زار میں درج کیا گیا تھا اور تفتیش کی ذمہ داری اے ایس آئی عبد الخالق کو سونپی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اے ایس آئی نے ان سے ڈکیتوں کے حلیے تک تفتیش کے دوران نہیں پوچھے اور نہ ہی اس حوالے سے واقعہ کی کوئی معلومات لیں البتہ چند ماہ کے بعد عبد الخالق نے ان کو فون کر کے کہا کہ آپ کا ڈیجیٹل کیمرہ برآمد کر لیا گیا ہے آ کر سپر داری لے لیں ۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم تھانہ پہنچے تو اے ایس آئی عبد الخالق نے انہیں ایک اچھی کوالٹی کا مہنگا ڈیجیٹل کیمرہ دکھایا اور کہا کہ سپرداری کے کاغذات لیکر آئیں ساتھ میں اس نے ہم سے 2ہزار روپے رشوت بھی لی۔ 26اگست کی رات کو کاغذات لیکر جب وہ عبدالخالق اے ایس آئی سے ملنے گئے تو اس نے ان سے کاغذات لے لئے اور ایک کمرہ میں بٹھا کر آدھے گھنٹے کے لیے غائب ہو گیا بعد ازاں ایک کپڑے کے بیگ میں بند ڈمی کیمرے کو وہ شاپروں میں بند کرکے لایا اور ان کو پکڑا کر رفوچکر ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے شاپر اور کپڑے کا بیگ کھولا تو اس کے اندر ڈمی کیمرہ موجود تھا جو کہ استعمال کے قابل نہیں ہے۔اس حوالے سے اے ایس آئی عبد الخالق سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ اس کیمرے کو ڈیجیٹل سمجھتا رہا ہے اس لئے اس نے وہ اقبال ناصرکے حوالے کیا ہے ۔

مزید : علاقائی