کیا زین رؤف کے قتل کے ملزم بری ہو جائیں گے؟

کیا زین رؤف کے قتل کے ملزم بری ہو جائیں گے؟

تقریباً پانچ ماہ پہلے ہمارے بہت ہی پیارے دوست ڈی ایچ اے لاہور کے معروف پراپرٹی ڈیلر عبدالرؤف شیخ مرحوم کے اکلوتے 15سالہ صاحبزادے زین رؤف کو معروف جاگیردار خاندان کے بگڑے ہوئے نواب بیٹے مصطفیٰ کانجو نے سر بازار فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا زین رؤف دو معصوم بہنوں کا اکلوتا بھائی اور عبدالرؤف شیخ مرحوم کی بیوہ کا اکلوتا سہارا تھا۔ اکلوتا سہارا چھن جانے کی وجہ سے بیوہ ماں پانچ ماہ میں ہی نیم پاگل ہو چکی ہے ظالم جاگیردار نوجوان کی درندگی کا واقعہ بہت مشہور ہوا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے خوب کوریج دی اور خادم اعلیٰ بھی زین رؤف کی والدہ اور بہنوں کو دلاسہ دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے پہلے مرحلہ میں 20 لاکھ کا چیک بطور امداد دینے کا اعلان کیا جسے ماں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیابیٹے کے قاتل مجھے تختہ دار پر چاہئیں خادم اعلیٰ نے یقین دہانی کروائی ایسا ہی ہوگا ڈیفنس سے رکن قومی اسمبلی وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بھی ڈی ایچ اے کی ڈیلر برادری سے گہرے مراسم ہیں انہوں نے بھی اس کیس میں خصوصی دلچسپی لی اور ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے احتجاج پر یقین دلایا کہ اس کیس کو میں خود دیکھوں گا میرے حلقے کا کیس ہے قاتل بچ نہیں پائیں گے۔ زین رؤف کے والد محترم ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری رہے تھے اور ڈی ایچ اے کی سیاست میں ان کی شخصیت کا بڑا کردار رہا تھا اور شیخ عبدالرؤف کی ساکھ بھی بڑی جاندار تھی لین دین میں ان کا کبھی کسی سے تنازعہ نہیں ہوا تھا ڈی ایچ اے میں ان کی شخصیت کو خاص مقام حاصل تھا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ایسوسی ایشن میں کام کرنے والے اس وقت کے صدر میجر وسیم انور چودھری، چودھری مقرب واڑئچ،چودھری عباس، حاجی زاہد ،شاہد اقبال، طلعت احمد میاں بھی قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے دو ماہ تک سڑکوں پر رہے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ اس وقت ترک کیا گیا جب وزیراعلیٰ نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے کمیٹی بنا کر کیس کو اپنی نگرانی میں منطقی انجام تک پہنچانے کا وعدہ کیا انہی دنوں میں خواجہ سعد رفیق کی کوششوں سے زین رؤف کی والدہ کو امداد کا چیک میاں شہباز شریف دوبارہ دینے کے لئے ان کے گھر گئے گھر کے حالات دیکھتے ہوئے سفید پوش فیملی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے خادم اعلیٰ نے رقم دوگنا کر دی زین رؤف کے قاتل مصطفی کانجو کی گرفتاری عمل میں آئی تو چاروں اطراف سکون ہو گیا۔ اب ملزم بچ نہیں سکے گا ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے زین رؤف کے سفاکانہ قتل پر مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا جو پورا نہ ہو سکا زین رؤف کے چچا فاروق شیخ بھی ڈی ایچ اے کے معروف پراپرٹی ڈیلر ہیں ان کا بھی ڈی ایچ اے کی رئیل اسٹیٹ برادری میں خاصا اثر و رسوخ ہے وہ وقتاً فوقتاً مجھے آگاہ کرتے رہے ہم نے روز نامہ پاکستان کے ہفتہ وار زمین پاکستان ایڈیشن میں سانحہ کو نمایاں انداز میں شائع بھی کیا خواجہ سعد رفیق اور میاں شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کے بعد رؤف شیخ کے بھائی اور زین رؤف کے چچا بھی مطمئن نظر آئے مگر ایک بات بار بار دہراتے رہے کہ کانجو خاندان مختلف انداز میں اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے صلح کے لئے بھی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ لالچ دے رہا ہے میری بھابھی زین کی والدہ بھی سخت پریشان ہیں ہمارے لئے دعا کریں فاروق شیخ کے خدشات پر میں نے انہیں یقین دلایا آپ پریشان کیوں ہیں آزاد میڈیا کی بدولت مصطفیٰ کانجو کی دہشت گردی کا کیس پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا تک پھیل چکا ہے آپ کیوں پریشان ہیں خادم اعلیٰ اور وفاقی وزیر ریلوے نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ کیس کو خود دیکھیں گے۔

اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہو رہے تھے کہہ رہے تھے مجھے دھڑکا لگا ہوا ہے میری بھابھی اور دو معصوم بچیوں کی حفاظت کون کرے گا پانچ ماہ بعد فاروق شیخ کا خدشہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے غیر جانبدارانہ تحقیقات میں ملزم قرار پانے والے مصطفیٰ کانجو کو عدالت میں گواہوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا ہے لودھراں سے گرفتار ہونے والا مصطفیٰ کانجو پولیس کی روایتی نا انصافی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے پولیس نے اس کیس میں سیون اے ٹی اے کا اندراج کیا تھا کہ مصطفیٰ کانجو نے بھرے بازار میں فائرنگ کی تھی جس کی وجہ سے وہ دہشت گردی کا مرتکب ہوا تھا زین کی بیوہ ماں اور بہنوں کی طرح وطن عزیز کا ہر شہری بھی چاہ رہاتھا کہمصطفیٰ کانجو کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے۔ شہری اس کیس کو مثالی کیس بنانا چاہتے تھے تاہم اس واقعہ کے چند دن بعد ہی ملزموں نے مدعیوں پر صلح کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا اس بات کا پولیس کے اعلیٰ حکام کو پتہ چلا تو انہوں نے مدعیوں سے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر ملزموں کی طرف سے کوئی دباؤ ہے ہم آپ کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے لیکن زین رؤف قتل کیس میں وہی ہوا جس کا خدشہ شروع دن سے ظاہر کیا جا رہا تھا زین کے ماموں سہیل افضل کی طرف سے دو کروڑ روپے لے کر صلح کرنے کی مصدقہ اطلاعات آ رہی ہیں ماموں سہیل افضل مدعی کیوں بنایا گیا کیا وہ موقع پر موجود تھا؟ ایسا ہرگز نہیں کیس کو دوسرا رخ دینے اور بگاڑنے کے لئے ایسا گیم پلان بنایا گیا ہے کہ اب اگر سب مل کر بھی چاہیں تو ملزم کو پھانسی نہیں ہو سکے گی۔کیولری گراؤنڈ میں اندھا دھند فائرنگ سے زین رؤف ہلاک اور کوٹھی پر کام کرنے والا گھریلو ملازم حسنین شدید زخمی ہوا تھا خاتون کی گاڑی کے ساتھ معمولی ٹکر اورتلخ کلامی کے نتیجے میں انتہائی قدم اٹھایا گیا تھا سوال یہ اُٹھ رہا ہے بھرے بازار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی مدعی پولیس خود کیوں نہیں بنی اور اپنے گواہ انہوں نے کیوں کھڑے نہیں کئے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی۔ مصطفیٰ کانجو کے اعتراف جرم کے بعد باہر سے آکر ماموں سہیل افضل کیسے مدعی بن گیا حالانکہ ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ذمہ داران زین رؤف کے چچا فاروق شیخ بھی موجود تھے کیا مجبوری تھی ان کو کیوں مدعی بنایا گیا پانچ ماہ بعد کیس کی سماعت کے دوران اس وقت دھماکہ ہوتا ہے جب مدعی عدالت میں ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات ہے مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مدعی سہیل افضل نے 20 روز قبل ایک تحریر لکھ کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے ہم عدالت میں جا کر ملزموں کو پہچاننے سے انکار کر دیں گے جس کا انہوں نے عملی مظاہرہ بھی کر دیا ہے۔ دہشت گردی کی دفعات بھی کام نہیں آ رہیں سی سی ٹی وی کلپس اور پولیس اہلکاروں کی گواہی سامنے آئی ہے مدعی سہیل افضل عدالت میں بیان دینے کے بعد سیدھا مصطفیٰ کانجو سے ملنے جیل گیا ہے اور ان سے بقایا رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ دل ہلا دینے والے واقعات ہیں عدلیہ پولیس اور پنجاب حکومت کا بھی امتحان ہے۔

وہ سارے ثبوتوں کی روشنی میں اس کیس کو از سر نو ترتیب دے کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہے یا سندھ کے وڈیرے شاہ رخ جتوئی کیس کی طرح ڈی ایس پی کے بیٹے شاہ زیب کے قتل کی فلم پنجاب میں چلانے کا پروگرام بن چکا ہے ،سندھ میں بھی شاہ رخ پر دہشت گردی کی دفعات لگیں مقدمہ چلا اور ملزمان کو سزا ہو گئی عین وقت پر صلح نامہ پیش کر دیا گیا اب صوبائی دارالحکومت میں وہی فلم چلانے کی تیاریاں مکمل ہیں دہشت گردی کی عدالت سے مصطفیٰ کانجو کو سزا ضرور ہو گی مگر مدعی کی طرف سے صلح نامہ پیش کرنے کے بعد رہائی کا بھی امکان ہے میڈیا، پولیس، عدلیہ، حکومت اور ڈی ایچ اے کی ڈیلرز برادری خاموش تماشائی بنی رہے گی یا کچھ کر پائے گی۔؟

مزید : کالم