الجزیرہ ٹی وی سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کو قید کی سزائیں سنا دی گئیں

الجزیرہ ٹی وی سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کو قید کی سزائیں سنا دی گئیں
الجزیرہ ٹی وی سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کو قید کی سزائیں سنا دی گئیں

  

قاہرہ( مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کی ایک عدالت نے الجزیرہ ٹی وی کے تین صحافیوں کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں تین ،تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان تینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔جولائی 2014 میں تینوں صحافیوں(پیٹر گریسٹا، محمد فہمی،محمد ) کو سزائیں سنائی جا چکی تھیں جن میں گریسٹا کے ساتھ فہمی کو سات سال جبکہ محمد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا۔

ہفتے کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ تینوں افراد لائسنس یافتہ صحافی نہیں تھے اور قاہرہ کے ایک ہوٹل سے کام کر رہے تھے ۔جج نے گریسٹا اور فہمی کو تین تین سال کے سزا سنائی ہے جبکہ محمد کو چھ ماہ کے اضافے کے ساتھ تین سال چھ ماہ کی سزا سنائی ہے۔

سزا سنائے جانے پرآسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر انھیں صدمہ ہوا ہے اور یہ زیادتی ہے جبکہ الجزیرہ ٹی وی نے فیصلے کو آزادی صحافت پر ایک اور دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔مصری نژاد کینڈین صحافی محمد فہمی کے وکیل نے امل کلونے صدر السیسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان صحافیوں کو معاف کر دیںجبکہ تینوں صحافیوں کے وکلاءکی طرف سے توقع ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

مزید : بین الاقوامی