یہ آدمی ریپ کا نشانہ بننے والی اپنی بیٹی کو اٹھا کر روزانہ 4 کلومیٹر پیدل چلتاہے کیونکہ۔۔۔

یہ آدمی ریپ کا نشانہ بننے والی اپنی بیٹی کو اٹھا کر روزانہ 4 کلومیٹر پیدل ...
یہ آدمی ریپ کا نشانہ بننے والی اپنی بیٹی کو اٹھا کر روزانہ 4 کلومیٹر پیدل چلتاہے کیونکہ۔۔۔

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین اور معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کی خبریں تو آپ روز سنتے ہی ہوں گے لیکن شاید آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس بھیانک جرم کا شکار بننے والوں کے ساتھ بعد میں پیش آنے والے حالات ان کی عصمت دری سے بھی زیادہ دردناک ثابت ہوتے ہیں۔

اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ اسی دلخراش صورتحال سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اخبار کے مطابق ریاست جھاڑ کھنڈ کے گاﺅں ہانی پاتا کے ایک غریب مزدور کی 9سالہ بیٹی کو ایک مقامی ڈرائیور نے اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا اور بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا وہی کیا کم تھا کہ اب اس کے زخموں کے علاج اور اس کے غریب باپ کی مدد اور دادرسی کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ چونکہ قریب کوئی ہسپتال نہیں اس لئے بچی کو 4کلو میٹر دور رانچی شہر کے ہسپتال لے جایا گیا۔ اگرچہ اس کی زخمی آنتو کا آپریشن کرکے اسے گھر بھیج دیا گیا لیکن اسے روزانہ پٹی کروانی پڑتی ہے اور اس کے لئے بچی کا غریب باپ روزانہ اسے اٹھا کر چار کلو میٹر کا سفر کرکے ہسپتال جاتا ہے اور پھر اسی طرح واپس آتا ہے۔ بد قسمت باپ نے اخبار کو بتایا ”میرے پاس تو سائیکل بھی نہیں اور کوئی میری مدد کرنے والا بھی نہیں، لیکن پھر کیا ہوا یہ میری معصوم بچی ہے اور میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ میں اسے روزانہ اٹھا کر ہسپتال لے جاتا ہوں اور جب تک یہ صحتیاب نہیں ہوجاتی میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گا“۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملک میں جرائم کا سیلاب آچکا ہے اور مجرم بے خوف ہیں کیونکہ کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مظلوموں کی خبر لینے والا بھی کوئی نہیں۔

مزید : جرم و انصاف