وہ آدمی جس نے اپنی بیوی کو پیار کا احساس دلانے کیلئے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا، حقیقت سامنے آنے پر بیگم نے کیا کیا؟ جان کر آپ ہنسنے پر مجبور ہو جائیں گے

وہ آدمی جس نے اپنی بیوی کو پیار کا احساس دلانے کیلئے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا، ...
وہ آدمی جس نے اپنی بیوی کو پیار کا احساس دلانے کیلئے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا، حقیقت سامنے آنے پر بیگم نے کیا کیا؟ جان کر آپ ہنسنے پر مجبور ہو جائیں گے

  

لندن (نیوز ڈیسک) اس دنیا میں جعلی اشیاءکی بھرمار ہے، روز مرہ استعمال کی اشیائ، خوراک ہو یا ادویات، ہر چیز میں جعلسازی پائی جاتی ہے، لیکن شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو جعلی خود کشی کرلیتے ہیں اور پھر ایک نئی زندگی کا آغاز ایک نئی شناخت اور شخصیت کے ساتھ کرلیتے ہیں۔

’بی بی سی‘ کی ایک دلچسپ رپورٹ کے مطابق جعلی خود کشی کو امریکا میں Pseudocideاور برطانیہ میں Reggie Perrinکہا جاتا ہے۔ دنیا کی کئی عام اور کئی خاص شخصیات جعلی خود کشی کی مرتکب ہوچکی ہیں۔ 1974میں جعلی خود کشی کا ایک بڑا کیس اس وقت سامنے آیا جب برطانوی لیبر پارٹی کے سابقہ رکن اسمبلی جان سٹون ہاﺅس کے کپڑے اور کچھ شناختی دستاویزات ایک ساحل پر پائے گئے۔ جان سٹون نے کامیابی سے یہ تاثر دیا کہ انہوں نے سمندر میں کود کر خود کشی کرلی تھی۔ انہوںنے لواحقین میں ایک بیوی، ایک بیٹی اور ایک باندی چھوڑی جبکہ ان کے ذمہ بھاری قرضے بھی تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ موصوف برطانیہ میں خود کشی کا ڈرامہ کرکے اپنی سیکرٹری کے ساتھ آسٹریا فرار ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے جان مارکم کے نام کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کردی۔ انہیں 1976میں گرفتار کرلیا گیا اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

جعلی خود کشی کرنے والے کچھ ایسے بد نصیب بھی ہوتے ہیں جن کی بات کا کوئی یقین ہی نہیں کرتا۔ سرکاری افسر تھامس اوسمنڈ نے 1995میں ایک تحریر چھوڑی کہ وہ سیورن پل سے کود کر خود کشی کرنے جارہا ہے اور پھر غائب ہوگیا۔ تفتیش کاروں کو تھامس کی بات پر شک گزرا اور ایک سراغ رساں نے تین سال تک اس کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر وہ برسٹل شہر میں سٹیفن ولیمز کے نام سے نئی زندگی گزارتا پکڑا گیا اور سات سال قید کا حقدار فرمایا گیا۔

نورفوک شہر سے تعلق رکھنے والے 28سالہ مرغی فروش مائیک کلگرم کی جعلی خود کشی کی کوشش کا تو بہت ہی افسوسناک نتیجہ نکلا۔ وہ اپنی بیوی کی بے رخی سے خوش نہ تھا اور اس کا خیال تھا کہ اس کی خود کشی کا سن کر اس کی بیوی کو احساس ہوگا کہ اس نے کیا کھودیا۔ اس نے بھی سمندر میں ڈوبنے کا ڈرامہ کیا لیکن جب اس کی بیوی کو حقیقت کا پتہ چلا تو اس نے طلاق کا مطالبہ کردیا۔ مائیک کی بیوی کا کہنا تھا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ آئندہ ایسا ڈرامہ نہیں کرے گا، لہٰذا اس سے نجات ہی اچھی۔

نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ جعلی خودکشی کرنے والے اپنی زندگی سے مایوس ہوتے ہیں اور ماضی کو بھلا کر نئی زندگی کا آغاز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کوشش میں نہ صرف اپنے عزیزوں کے لئے بے پناہ دکھ کا باعث بنتے ہیں بلکہ خود بھی ایک نئی نفسیاتی کشمکش کے شکار ہو جاتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ زلیل و خوار ہوتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس