برطانیہ میں پاکستانی لڑکی نے پاکستان میں موجود اپنی بہن کے بارے میں ایسا جھوٹ بول دیا کہ جج نے 6 ماہ کیلئے جیل میں ڈال دیا

برطانیہ میں پاکستانی لڑکی نے پاکستان میں موجود اپنی بہن کے بارے میں ایسا ...
برطانیہ میں پاکستانی لڑکی نے پاکستان میں موجود اپنی بہن کے بارے میں ایسا جھوٹ بول دیا کہ جج نے 6 ماہ کیلئے جیل میں ڈال دیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک پاکستانی خاتون نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی اور جرمانے سے بچنے کے لیے ایسا جھوٹ بولا کہ پکڑے جانے پرعدالت نے اسے 6ماہ کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق نوشین صدف نامی اس 36سالہ کاروباری خاتون نے مقررہ حد رفتارکی خلاف ورزی کی اور پولیس سے جھوٹ بولا کہ جب قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کی بہن گاڑی چلا رہی تھی، حالانکہ اس کی بہن برطانیہ میں نہیں بلکہ پاکستان میں تھی۔ اس نے پولیس کے کاغذات پر دستخط بھی اپنی بہن کے کیے، تاہم جب پولیس نے تحقیقات کی اور ہینڈرائٹنگ کے ماہرین سے دستخط کی تحقیق کروائی تو معلوم ہوا کہ وہ دستخط خود نوشین ہی نے کیے تھے۔

بظاہر بے فائدہ نظر آنے والی چیز شہری نے انٹرنیٹ سے چند روپوں کی خریدی تو دراصل لاکھوں کی نکلی، بیٹھے بٹھائے قسمت ہی بدل گئی

رپورٹ کے مطابق ماضی میں قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر نوشین پر 4ماہ کے لیے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے۔ آخری مرتبہ اسے 2014ءمیں اے 56شاہراہ پر اوورسپیڈنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 30میل فی گھنٹہ تھی جبکہ نوشین اپنی بی ایم ڈبلیو گاڑی پر 56میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی تھی۔ جب پولیس نے اسے روکا تو اس نے اپنی شناخت چھپا لی اور خود کو اپنی بہن ظاہر کیا اور اسی کے دستخط کر دیئے اور پتہ بھی غلط بتایا تاکہ جرمانے سے بچ سکے۔ ہینڈرائٹنگ ماہرین نے جب اس کے جھوٹ کا پول کھولا تو عدالت نے پے درپے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے، جھوٹ بولنے اور پولیس کو دھوکہ دینے کے جرم میں 6ماہ قید کی سزا سنا دی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس