داعش کیخلاف لڑنے کیلئے شام میں داخل ہونے والی ترک فوجوں نے ایسی جگہ بم برسا دیئے کہ امریکہ کے ہوش اڑا دیئے،کس کو نشانہ بنایا؟جان کر آپ بھی حیرت ہوگی

داعش کیخلاف لڑنے کیلئے شام میں داخل ہونے والی ترک فوجوں نے ایسی جگہ بم برسا ...
داعش کیخلاف لڑنے کیلئے شام میں داخل ہونے والی ترک فوجوں نے ایسی جگہ بم برسا دیئے کہ امریکہ کے ہوش اڑا دیئے،کس کو نشانہ بنایا؟جان کر آپ بھی حیرت ہوگی

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری جنگ و جدل کی صورتحال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ کون کس کا مخالف ہے اور کون کس کا اتحادی۔ اب اس پیچیدگی میں ترکی اور شامی باغیوں کے اتحاد نے نئی الجھن کا اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف ترکی اور اس کے اتحادی شامی باغی ہیں اور دوسری طرف کردوں کی قیادت میں شام کی افواج۔ ان دونوں گروپوں میں ان دنوں شام کے شمالی علاقوں میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ترک افواج نے گزشتہ دنوں شام کے قصبے جربلوس کے شمالی حصے میں بمباری کی جہاں بعد میں ترکی کے اتحادی باغیوں، کردوں اور شامی افواج میں جھڑپیں ہوئیں۔ کردوں سے وابستہ ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ترکی کی فضائی کارروائیوں کا نشانہ ہماری افواج بنی ہیں اور یہ بمباری انتہائی خطرناک تھی۔ اگر گروپ کے اس بیان کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ترکی کی پہلی فضائی کارروائی ہو گی جو اس نے شام کی سرزمین پر کردوں اور ان کی اتحادی افواج کے خلاف کی۔

اس بمباری کے بعد ہفتے کی رات کو ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شام کے قصبے جربلوس میں کردوں کے راکٹ حملے میں ایک ترک فوجی جاں بحق جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کسی بھی ترک فوجی کی پہلی ہلاکت ہے جو شام میں ہوئی اور ترکی کی شام پر اس چڑھائی سے امریکہ کے دو اہم اتحادیوں شام اور ترکی کے مابین ایک مکمل جنگ چھڑ جانے کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جاری جنگ سے توجہ ہٹنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ کرد فورسز کے ترجمان شروان درویش نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ”ہم داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن ترکی کی پشت پناہی میں شامی باغی ہمارے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیںجس سے اتحادیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔“

دوسری طرف ترک حکام کا کہنا ہے کہ ”ہم شام میں اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ترکی کو شام کی حدود سے دہشت گردی کا خطرہ باقی رہے گا۔“ ترکی کی قیادت میں شامی باغی جربلوس پرگزشتہ ہفتے قبضہ کر چکے ہیں اور اب وہ جنوب کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز شامی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جربلوس کے جنوب میں واقع کئی قصبات اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے جن پر اس سے قبل کرد فورسز اور داعش کا قبضہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جربلوس سے 8کلومیٹر جنوب میں واقع امارنہ(Amarneh)نامی قصبے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہماری کردفورسزکے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔

مزید : بین الاقوامی