مہنگائی پر کنٹرول بہت مشکل

مہنگائی پر کنٹرول بہت مشکل
مہنگائی پر کنٹرول بہت مشکل

  

افراطِ زر کا سامنا دُنیا کے ہر مُلک اور معیشت کو ہوسکتا ہے۔ ہر حکومت اپنی معاشی ترجیحات میں اس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ عام آدمی تک اس کے مضر اثرات نہ پہنچ سکیں، چونکہ اس کاتعلق ایک عام آدمی کے مسائل سے ہے چنانچہ اس کو کنٹرول کرنا حکومت کی بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اس کو حکومت کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دُنیا میں صرف اس ایک مسئلے کی وجہ سے حکومتوں کو رخصت ہونا پڑا۔ اس مسئلے پر تاریخ ساز جلسے، ریلیاں اور احتجاج کسی بھی حکومت کے لئے احساس ندامت ہوتا ہے۔

پاکستان میں افراطِ زر (یعنی مہنگائی) کی بڑھتی ہوئی شرح طویل عرصے سے دردِ سر بنی ہوئی ہے ، اگر ہم اس شرح کا بنگلہ دیش اور بھارت سے موازنہ کریں تو اس میں ہم آگے نظر آتے ہیں۔ ایک ایسی قوم جو پہلے ہی گیس کی طویل بندش، لوڈشیڈنگ،دہشت گردی، بڑھتی ہوئی بے روز گاری اور دوسری قدرتی آفات کے مستقل خطرے سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے اس کی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو گئی ہے، اس کے لئے مہنگائی کے عذاب کو برداشت کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ پاکستان میں تمام حکومتیں اس کا موثر حل تلاش کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں،لہٰذا کسی ایک حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں، یعنی ہمارا پورا نظام اِس مسئلے کے آگے ناکام نظر آتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہوا؟

پاکستان میں مہنگائی کے بہت سے اسباب ہیں، سب سے پہلاسبب حکومتوں کی جانب سے بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے، جیسے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور سیلز ٹیکس وغیرہ، جس کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ نظر آتا ہے، جب حکومت ہر شے پر تقریباً20فیصد سیلز ٹیکس لے گی اور پٹرول پرفی لیٹر تقریباً30روپے ٹیکس لیا جائے گا تو روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں خودبخود اضافہ ہو جائے گا،چونکہ پاکستان میں ڈائریکٹ ٹیکس کی شرح بہت کم ہے، لہٰذا حکومت اپنے ٹیکس کی شرح کو پورا کرنے کے لئے ان ٹیکسوں کا سہارا لیتی ہے، چونکہ ان بلاواسطہ ٹیکسوں کو چوری کرنا بہت مشکل ہے، ان کو قیمتوں میں شامل کر لیا جاتا ہے، لہٰذا حکومت کو آسانی سے ان ٹیکسوں کا ہدف حاصل ہو جاتا ہے اور ان کا بوجھ ایک عام صارف پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں پڑتا ہے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ حکومتوں کی طرف سے متواتر کرنسی نوٹ چھاپنے کی روایت ہے ، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں پیسے کی ویلیو (قیمت) کم ہو جاتی ہے اور چیزیں خودبخود مہنگی ہو جاتی ہیں۔ تیسرا سبب ہماری کرنسی کی (Depreciation) ہے ،جس سے اس کے خریدنے کی استطاعت کم ہو جاتی ہے، چنانچہ درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں،جبکہ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہے، اس لئے مہنگائی کا زیادہ ہونا لازمی امر ہے۔

پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل بین الاقوامی منڈی سے خریدتا ہے تو پٹرول کی قیمت میں خودبخود اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، اس پر حکومت ٹیکس میں اضافہ کر دیتی ہے اور مہنگائی کا سیلاب آ جاتا ہے۔یہ بھی چند برسوں سے ہو رہا ہے۔ البتہ گزشتہ دنوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گزشتہ چالیس سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جس کی وجہ سے شرح کم اور رسد زیادہ ہوئی ہے،مگرحکومت نے اس کمی کو عوام تک صحیح اعداد و شمار کے حساب سے منتقل نہیں کیا، اپنے اخراجات کو پورے کرنے کے لئے عوام کی حق تلفی کی ہے، اب شایدپٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کی جائے گی حکومت اس کو اپنی ٹیکس آمدنی کا حصہ سمجھتی ہے، اس وجہ سے حکومت نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی۔ افراط زر کا چوتھا سبب قدرتی عوامل ہیں، جن کی وجہ سے فوڈ آیٹم جیسے سبزیوں اور پھلوں کی فصلوں کو ہونے والے غیر متوقع نقصانات ہیں، جس سے مارکیٹ میں ان کی رسد میں کمی واقع ہوتی ہے اور مانگ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں لازمی طور پر اضافہ ہو جاتا ہے،سابقہ دو فصلوں کے موسموں میں ملک کے کئی علاقوں میں فصلوں کابہت نقصان ہوا ہے۔حکومت پنجاب نے ان زمینداروں، کاشت کاروں کو امدادی رقوم دینے کا اعلان کیا تھا،مگر ہزاروں لوگ ابھی تک دو سال سے حکومت کی اعلان کردہ امداد سے محروم ہیں، ان کے کیس ضلعی آفیسروں کے دفتروں میں پڑے ہیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نارووال، سیالکوٹ جو پسماندہ اضلاع ہیں، بارانی علاقوں کی امداد غائب ہونا بہت بڑا سانحہ ہے، اب دوبارہ ان علاقوں کی فصلوں کے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، جس کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جائے گا، جس کو کنٹرول کرنا حکومت کے لئے مشکل مرحلہ ہوگا، مہنگائی کی وجہ انتظامی سبب میں غفلت اور مصنوعی قلت مافیا بھی ہے۔ چند خود غرض عوام دشمن تاجروں کا گٹھ جوڑ بھی مہنگائی کا سبب ہے، بدقسمتی سے اس غیر اخلاقی اور عوام دشمنی کو روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس سوائے چھاپوں اور جرمانوں کے کوئی ہتھیار نہیں ہے،جوکوئی مستقل حل نہیں ہے، کیونکہ جرمانے دوبارہ عوام کی جیبوں سے پورے ہوتے ہیں۔

ان تمام گزارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ مہنگائی کے مسئلے سے نمٹنے کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔اس میں گرفت اور ناقابل گرفت دونوں پہلو موجود ہیں، کچھ چیزوں کو حکومت کنٹرول کر سکتی ہے اور کچھ کو کنٹرول کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔ البتہ حکومت اگر مصلحتوں کے تحت خاموش رہے تو پھر مہنگائی پر قطعی طور پر کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے سخت قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مہنگائی کی ایک وجہ اس کو کنٹرول کرنے والے اداروں میں کرپشن اور رشوت بھی ہے، وہ لوگ مہنگائی مافیا سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -