وفا شُعار سیاسی کارکن

وفا شُعار سیاسی کارکن
وفا شُعار سیاسی کارکن

  

سیاسی جماعتوں میں نظریاتی اور مخلص کارکن قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔مشکل اور سخت وقت میں پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں منظم اور فعال ہوتی ہیں۔ مُلک میں جمہوریت بھی مضبوط ہوتی ہے ۔مفاد پرستی اور خود غرضی کی سیاست کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے،لیکن اب مُلک میں سیاسی جماعتوں میں نظریاتی اور مخلص کارکنوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے، جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہو، وہ لیڈر شپ کے قریب ہوتا ہے ۔حکومتی عہدہ بھی حاصل کرلیتا ہے ۔حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ لیڈر کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر تک فراہم کئے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے تین سال پورے ہو چکے ہیں۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک کی ترقی کے لئے میگا پراجیکٹس شروع کئے ہیں، لیکن پارٹی تنظیم پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔وفاقی وزراء کا رویہ مسلم لیگ (ن)کے عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ توہین آمیز ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وزراء جمہوری عمل کے ذریعے نامزد نہیں ہوئے، بلکہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے وزارتیں حاصل کی ہیں۔پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد اور جیلیں کاٹنے والے عہدیداروں پر حکومت کی طرف سے بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔کیا یہ انصاف ہے کہ ایک فوجی حکمران پرویز مشرف کے ترجمانوں کو وزیر و مشیر بنایا گیا ہے، جبکہ ایک فوجی کے دورِ حکومت میں محمد نواز شریف کا ساتھ دینے والے ترجمانوں کو یکسر نظر انداز کر دیاگیا ہے ۔ پرویز مشرف کی ترجمان ماریہ میمن کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چیئرپرسن بنا دیا گیا۔ ایک بڑے سرمایہ دار، جس کی مسلم لیگ (ن)کے لئے کوئی قربانی نہیں، بیت المال کا ایم ڈی بنا دیاگیا ۔اِسی طرح مشرف کے دیگر ساتھیوں کو اہم وزارتیں دی گئیں اور مشیر بنایا گیا۔

پرویز مشرف کے دور میں وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہنے والوں اور جیلیں کاٹنے والوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔ان میں مسلم لیگ(ن)اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ملک شجاع الرحمان نے بیگم کلثوم نواز کا ساتھ دیا اور مشرف کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا ۔ہر قسم کی مراعات اور لالچ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ وفا کی ۔آج بھی مُلک شجاع لوگوں کو ہر وقت نظریے اور اصولوں کے لیکچر دیتے ہیں ۔وزیراعظم محمد نواز شریف کے مُلک کے لئے ترقی اور خوشحالی کے لئے بڑے میگاپراجیکٹس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں، عوام کی خدمت کو شعار بنایا ہے، لیکن انہیں حکومتی سرپرستی حاصل نہیں۔فاٹا کے لیگی عہدیداروں اور کارکنوں نے بھی مشرف کی شخصی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف لیگی قائدین کے حکم پر ہر قسم کی قربانیاں دیں اور فاٹا میں سیاسی آزادی نہ ہونے کے باوجود قبائلی علاقوں کے مخلص اور نظریاتی کارکنوں نے ہر قسم کی مشکلات و تکالیف برداشت کیں اور جیلیں کاٹیں۔ان میں باجوڑ ایجنسی کے صدر حاجی راحت یوسف، خیبر ایجنسی کے صدر الحاج بادشاہ آفریدی ، کرم ایجنسی کے صدر عبد الکریم اور مہمند ایجنسی کے صدر حاجی زر خان صافی بھی شریف برادران کے ساتھ سخت وقت میں کھڑے رہے، لیکن آج فاٹا کے یہ مخلص عہدیدار بھی نظر انداز ہیں اور شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ(ن) ضلع پشاور کے صدر عبد الستار خلیل، جنہوں نے پرویز مشرف کی لگائی ہوئی ایمرجنسی کے دوران اپنے حجرے کو مسلم لیگ(ن) کی سرگرمیوں کے لئے وقف کر دیا تھا اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ، خلیل کے سپوت نے جرات اور غیرت کے ساتھ آمریت کا مقابلہ کیا، آج بھی مخلص و نظریاتی کارکنوں کی آواز بنے ہوئے ہیں۔

شرافت کے پیکر صاحبزادہ پیر صابر شاہ کا ذکر نہ کیا جائے تو بہت زیادتی ہو گی۔ مشرف حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز پشاور میں اپنے گھر سے کیا بیگم کلثوم نواز کو دورۂ خیبرپختونخوا کی دعوت دی اور پشاور میں مشرف کے خلاف ایک بہت بڑا جلسہ کیا، جس میں پیر صابر شاہ نے اعلان کیا کہ بیگم صاحبہ! اس مشکل ترین وقت میں ہم اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں، جیلیں کاٹنے کے لئے تیار ہیں،مشرف حکومت کے خاتمے تک لڑیں گے ۔اگر کوئی وفا کے معنی جاننا چاہتا ہے تو سری کوٹ جا کر پیر صابر شاہ سے پوچھے کہ وفا کیا ہوتی ہے ۔دوسرا اہم واقعہ جس کا راقم الحروف گواہ ہے، جب 2004ء میں محمد شہباز شریف نے وطن واپسی کا اعلان کیا تو خیبرپختونخوا اور فاٹا سے ایک بڑا جلوس پیر صابر شاہ کی قیادت میں محمد شہباز شریف کے استقبال کے لئے روانہ ہو گیا۔پنجاب میں مندرہ کے مقام پر جلوس کو روکا گیا ۔آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے، لاٹھی چارج بھی کیاگیا،لیکن جلوس اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہا ۔ایک پولیس افسر نے پستول نکال کر پیر صابرشاہ کو کہا کہ ایک قدم بھی آگے رکھا تو گولی چلا دوں گا۔ پیر صابر شاہ نے سینہ تان کر کہا کہ ہمت ہے تو گولی چلاؤ، میرا سینہ حاضر ہے، ہمیں اپنے لیڈر محمد شہباز شریف کے استقبال سے کوئی بھی نہیں روک سکتا ۔آج بھی جب مختلف اضلاع سے کارکن گلے شکوے کے لئے پیر صابر شاہ کے پاس آتے ہیں تو وہ کارکنوں کو صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے گزارش ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ، پارٹی کے مخلص اور پرانے لوگوں پر توجہ دیں۔ پارٹی کو فعال بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔نظریاتی لیگیوں کو سینے سے لگائیں، ان کے گلے شکوے دور کریں۔انہیں محبت دیں ۔کارکن آپ کو دعائیں دیں گے۔

مزید :

کالم -