365ارب کی بجلی چوری کا علاج

365ارب کی بجلی چوری کا علاج
365ارب کی بجلی چوری کا علاج

  


ایک خبر کے مطابق لیسکو لاہور کے 450فیڈز سے 20سے لے کر 60فیصد بجلی چوری کی جارہی ہے۔ جبکہ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ ملک میں ہر سال 365ارب روپے کی بجلی چوری کی جارہی ہے جس میں بجلی سپلائی کرنے والی سرکاری کمپنیوں کے ملازمین بھی ملوث ہیں۔ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی نے مزید بتایا کہ بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لئے اوور بیلنگ کی جارہی ہے اور یہ اووربیلنگ سب سے زیادہ لیسکو میں کی جارہی ہے۔

بجلی چوری اور گیس چوری پاکستان کے کسی شہری سے ڈھکی چھپی نہیں اور اسے بھی ایک حقیقت سمجھنا چاہیے کہ اگر اتنے وسیع پیمانے پر بجلی چوری کا عمل جاری رہا تو پاکستان میں کبھی بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی جاسکتی، کیونکہ بجلی کی پیداوار کا عمل ہمیشہ ہی بڑے خسارے کا شکار رہے گا، اووربلنگ کی صورت میں بدمعاشوں اور سینہ زوروں کی بجلی چوری کی سزا شریف لوگوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے، لاکھوں میٹر ریڈررشوت کے عوض گھروں میں بجلی چوری کروارہے ہیں جبکہ بجلی سپلائی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام ملوں اور فیکٹریوں میں بجلی چوری کرواتے ہیں،خاص طور پر رات کی شفٹوں میں ملوں اور فیکٹریوں میں استعمال ہونے والی تمام بجلی اور گیس چوری کی استعمال کی جاتی ہے۔

کیا ایسے حالات میں ہم پاکستان کو بہتری کی جانب لے جاسکتے ہیں جہاں بجلی کمپنیوں اور گیس کمپنیوں کے مٹھی بھر ملازمین پوری قوم اور حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں ایسے چند ہزار ملازمین کے سامنے حکومت کیوں اتنی ہے بے ہے۔ اس کے پیچھے کون سی سیاسی وجوہات ہیں جن کے باعث کروڑوں شریف انسانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ وہ کون سے لوگ ہیں جو اپنی فیکٹریاں اور کارخانے چوری کی بجلی اور گیس پر چلا رہے ہیں اور کن لوگوں کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا عذاب ختم نہیں ہو رہا۔ بجلی وگیس چوری کے قوانین مکمل طور پر غیر موثر ہو چکے ہیں۔ میٹروں کی تبدیلی کے باوجود میٹر پیچھے کئے جارہے ہیں اور ننگی تاروں پر کنڈے ڈال کر براہ راست بجلی چوری کی جارہی ہے۔گیس چوری کے لئے زیر زمین خفیہ کنکشن چلائے جارہے ہیں، لاہور کے ایک رکن قومی اسمبلی نے اپنی فیکٹری کی مسجد کے نیچے گیس کنکشن ڈالا ہوا تھا جو پکڑا گیا لیکن ایم این اے کے خلاف کوئی موثر قانونی کارروائی ہوئی، نہ اسے آئین کے تحت صادق اور امین نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم کیا گیا۔

یورپ کے تمام ممالک نے نجکاری کے ذریعے ترقی کی منازل طے کیں ہیں اور خاص طور پر سروسز کی مکمل نجکاری کی ہے جس کے باعث وہاں نہ تو سروسز کی چوری کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی کسی شہری کو ان سروسز کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر بجلی و گیس چوری کو جاری رکھنے میں حکومت میں شامل بعض عناصر کا مفاد نہ ہو تو ان کمپنیوں کی نجکاری پلک جھپکتے ہیں ہوسکتی ہے۔ ملازمین کی یونین لیڈروں کو بھی سمجھایا جا سکتا ہے۔ کوئی گڑبڑ نہیں ہو گی۔

اگر بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری عمل میں آجائے تو نہ صرف بجلی کی قیمت کم کی جاسکتی ہے بلکہ وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق2018میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرسکتے ہیں۔ اگر 365ارب روپے سالانہ کی بجلی چوری کا مسئلہ حل نہ ہوسکا تو پھر نہ تو بجلی کی قیمت کم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ ٹائم ٹیبل کے مطابق ختم کی جاسکے گی۔ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے انتظام و انصرام کو بہتر بنا کر بجلی چوری کا خاتمہ ممکن نہیں، کیونکہ بجلی چوروں اور ان کمپنیوں کے اہلکاروں کے درمیان مضبوط رشتے توڑنے کا کام نجکاری کے بغیر ممکن نہیں، جتنے افسر یا اہلکار بجلی چوروں کی نگرانی کے بغیر مامور کئے جائیں گے وہ اپنا اپنا شیئر لے کرآنکھیں بند کرلیں گے اور رشوت دھندے میں مزید شیئر ہولڈر شامل ہو جائیں گے۔

اس کاحل صرف یہی ہے کہ ان کمپنیوں کے 51فیصد شیئر فروخت کر کے ان کا انتظام پرائیوٹ سیکٹر کو دیدیا جائے اور پرائیوٹ سیکٹر کو تقسیم کے لئے دی جانے والی بجلی کی پوری قیمت وصول کی جائے پرائیوٹ سیکٹر بجلی چوری روکنے کے لئے کمپنی کے کسی افسر یا اہلکار کی نوکری کی پروا نہ کرے۔ وزیر اعظم نجکاری کے بڑے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے اداروں اور کارپوریشنوں کی نجکاری کی جائے جو کئی دہائیوں سے مسلسل خسارے میں چل رہی ہیں اور پاکستان کے خزانے اور ٹیکس دہندگان پر بوجھ ہیں۔ وزیر اعظم کو ایسے اداروں کی نجکاری کے لئے باربار انٹر نیشنل ٹینڈز کر نے چاہئیں تاکہ کسی اپوزیشن لیڈر کو اس نجکاری کی شفافیت پر کوئی اعتراض کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

نجکاری کے اس مجوزہ عمل سے حکومت پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے کی بچت ہوگی جسے وہ تعلیم ، صحت،سستی اور معیاری خوراک پر خرچ کر کے پسے ہوئے عوام کی زندگی میں سدھار لاسکتی ہے، خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے حکومت اپنے اصل بنیادی فرائض کی طرف توجہ دے سکے گی جس سے ملک میں گڈ گورنس کا تصور اجاگر ہوگا۔ ان اداروں کی نجکاری سے حکومت کوٹیکسوں کی مد میں بھی پرائیوٹ سیکٹر سے اربوں روپے موصول ہونا شروع ہو جائیں گے۔ایک وسیع اور شفاف نجکاری بھی پاکستان کے عوام کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔

چند ہزا ر کام چوروں اور رشوت خوروں کی پریشانی کو مد نظر رکھنے کی بجائے ان کروڑوں لوگوں کی بھلائی دیکھنا ہوگی جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لئے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں، وزیر اعظم نواز شریف اوروزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سوچ اس معاملے میں بہت واضح ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی سوچ کو عملی جامعہ پہنا کر بجلی چوری اورگیس چوری کی صورت میں قومی وسائل لوٹنے والوں کا ہاتھ پکڑ یں۔ اگر اب نجکاری کر بھی دی جائے تو ان اداروں کے اہلکاروں کا بہت زیادہ نقصان نہیں ہوگا کیونکہ وہ اتنا کما چکے ہیں کہ ان کی کئی نسلیں آرام سے بیٹھ کر کھا سکتی ہیں البتہ اتنا ضرور ہوگا کہ ان اداروں میں کرپشن کا تسلسل ٹوٹ جائے گا۔

مزید : کالم