غلطی ہائے اشعار:تحریف وغیرہ!

غلطی ہائے اشعار:تحریف وغیرہ!
غلطی ہائے اشعار:تحریف وغیرہ!

  


ہم نے تین چار قسطوں میں اپنے اُستادِ گرامی قدر حضرت احسان دانش پر کبھی کالم لکھے تھے جن کو یکجا کر کے دس صفحات پر محیط مضمون کی صورت میں سہ ماہی کتابی سلسلہ ’’غنیمت‘‘ کراچی میں مدیر محترم جناب اکرم کنجاہی نے چھاپ دیا۔ شمارہ 13میں یہ مضمون چھپا،اب شمارہ 14 بھی آ گیا۔ دونوں شمارے ہمیں ایک ساتھ ملے۔۔۔ شمارہ 13 میں اپنا مضمون ’’احسان بنِ دانش سے احسان دانش تک‘‘ پڑھا۔۔۔ نو دس صفحے کے مضمون میں نو دس غلطیاں بہت کھٹکیں۔ آج کل ہر اخبار، رسالے، کتاب کا یہی حال ہے کہ جیسے پروف ریڈنگ کا شعبہ ہی ختم ہو گیا ہو۔۔۔؟ شمارہ14کے خطوط میں محترم ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا خط توجہ سے پڑھا۔ خوشی ہوئی کہ انہوں نے جناب احسان دانش پر میرا مضمون پڑھا اور لکھا کہ ’’ناصِر زیدی کا مضمون اچھا ہے، لیکن اس میں اشعار غلط درج ہوئے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب! شعر تو ایک بھی غلط درج نہیں ہُوا، احسان دانش کے شعر کے پہلے مصرع میں ’’ یہ اُڑی اُڑی سی رنگت‘‘۔۔۔ میں لفظ رنگت کو ’’رنگ‘‘ بنا دیا گیا تھا تو اسے کمپوزر صاحب کی اصلاح اور پروف ریڈر صاحب کی نظر سے چُوک جانا کہہ سکتے ہیں۔ رہا مَیر کا شعر تو اصل مصرع تو:

اِس مفلسی میں عزتِ سادات بھی گئی

ہی صحیح ہے یار لوگوں نے تحریف کر کے ’’مفلسی‘‘ کو ’’عاشقی‘‘ کر رکھا ہے تو میرا قصور؟یہ مَیر کے شعر میں ایسی ہی تحریف ہے جیسے یہ مشہور شعر:

مَیر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

میر کے ساتوں دواوین یا کسی مستند انتخاب میں متذکرہ شکل میں ’’لونڈے‘‘ والا شعر کہیں نہیں ملتا، صحیح یُوں ہے جیسے مَیں50،60برس سے لکھتا آ رہا ہوں:

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لڑکے سے دَوا لیتے ہیں

میر سے ایک اَور شعر بہت منسوب کیا جاتا ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

حالانکہ میر نے نہیں دیکھا ’’برق نے دیکھا‘‘ صحیح ہے کہ یہ مہاراج بہادر برق دہلوی کا مقطع ہے اور کیا خوب ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

ایک اور شعر ہے تو میر کا ہی، مگر جس طرح یار لوگوں نے تحریف کر کے مشہور کر رکھا ہے اس طرح نہیں ہے یعنی:

چشمِ خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا

ہم تو سمجھے تھے کہ اے میر یہ آزار گیا

جبکہ یہ شعر صحیح شکل و صُورت میں دراصل یُوں ہے:

چشمِ خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا

ہم سمجھتے تھے کہ بس اب تو یہ ناسُور گیا

(الف) کی پٹی میں طُور گیا، ناسُور گیا والی غزل میں یہ شعر اِسی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ تحریف شدہ شکل میر کے سات دفتروں میں سے کسی ایک میں بھی نہیں، نہ ہی کسی انتخاب میں ہے پھر بھی محترمہ رشیدہ سلیم سیمیں نے اپنے مجموعہ کلام’’چشمِ خوں بستہ‘‘ کا جو دیباچہ سیّد عابد علی عابد سے لکِھوایا تھا اُس میں یہ شعر متذکرہ تحریف شدہ شکل میں شاید اس لئے بھی ہے کہ محترمہ نے الگ سے مجموعے کے شروع میں میر کے نام سے پورے صفحے پر یہی ایک شعر چھاپ رکھا ہے، یعنی غلط والا کہ:

چشمِ خُوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا

ہم تو سمجھے تھے کہ اے میر یہ آزار گیا

میر کے تحریف شدہ شعروں کا کیا ذکر؟ یار لوگوں نے اَور کس شاعر کو چھوڑا ہے، جس کے کسی نہ کسی شعر کو حسبِ مطلب نہ بنایا بگاڑا ہو مثلاً ہر عہد پر غالب، میرزا اسد اللہ خاں غالب کا یہ مشہور شعر:

چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد

گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

کہاں ہے؟ چھیڑ خُوباں سے؟ کس دیوان میں ہے؟ غالب نے تو پہلا مصرع اس طرح کہا ہُوا ہے:

یار سے چھیڑ چلی جائے اسد

اب آیئے عہدِ موجود میں حضرت رگھو پتی سُہائے فراق گورکھپوری کے اس مشہورِ زمانہ شعر کی طرف:

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں

جبکہ فراق صاحب کے اپنے ایک مجموعے میں یہ شعر اس شکل میں چَھپا ہُوا ہے:

تم مخاطب ہو، سامنے بھی ہو!

تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں،

اس اصل شعر سے بلاشبہ یار لوگوں کی تحریف کردہ شکل لاکھ درجے بہتر ہے:

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

سو بعض اوقات تحریف شدہ شعر اچھے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر ایس ایم معین قرشی صاحب میر کے زیرِ بحث شعر میں ’’مفلسی‘‘ کے بجائے ’’عاشقی‘‘ ہی لگائے رکھیں۔ ہمیں کیا تعرض؟ مگر میر نے ’’مفلسی‘‘ ہی کہا ہوا ہے۔

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ ملتان کی اشاعت جمعرات 11اگست2016ء کے ادارتی صفحے کے سامنے والے صفحے پر ایک کالم ’’فکرو نظر‘‘ کے عنوان سے محمد اکرم حریری کا نظر سے گزرا۔ ذیلی عنوان ’’آزادی کا عہد‘‘ کے عنوان کے تحت کالم میں ایک بہت مشہور شعر اس طرح رقم کیا گیا ہے۔

نرم دل گفتگو، گرم دل جستجو

رزم ہو یا بزم پاک دل و پاکباز

جبکہ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر صحیح یوں ہے:

نرم دَم گفتگو، گرم دَم جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

علامہ اقبالؒ کے حوالے سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے ایک 32صفحے کا کتابچہ پڑھنے کا اتفاق ہُوا۔کتابچے کا طویل نام ہے:

علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ ۔

زندگی کے حالات اور قومی خدمات

سوالاً جواباً زیر نگرانی:شاہد رشید

ناشر: ایجوکیشن وِنگ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ مذکورہ کتابچے کے صفحہ15پر ایک شعر اس طرح سوال جواب کی شکل میں پڑھنے کو مِلا

س: ’’حضورِ رسالتؐ مآب‘‘ کے عنوان سے کہی گئی شاعر مشرق کی نظم کا پہلا شعر سنائیں:

ج: گراں جو مجھ پر یہ ہنگامہ ہُوا

جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُوا

پہلا مصرع نجانے کیا سے ہو کر بے وزن ہو گیا جبکہ حضرت علامہ کا صحیح شعر اس طرح ہے:

گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُوا

جہاں سے باندھ کے رخصتِ سفر روانہ ہُوا

مزید : کالم