مرد کے بچے ہو تو دفتر دوبارہ تعمیر کر کے دکھاؤ!

مرد کے بچے ہو تو دفتر دوبارہ تعمیر کر کے دکھاؤ!
مرد کے بچے ہو تو دفتر دوبارہ تعمیر کر کے دکھاؤ!

  


مملکتِ خداداد پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے محبت کرنے والوں پر 22اگست کی شام، لندن میں چُھپ کر بیٹھے ہوئے، شہرتوں کے بھوکے، ’’را‘‘ کے ایجنٹ، گوروں کے یار اور ناقابلِ علاج مرض میں مبتلا شخص نے جو قیامت ڈھائی تھی، اُس کے بعد ایم کیو ایم کے دفاتر گرائے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت اور رینجرز کے ذرائع نے بتایا کہ جو دفاتر اپنے دورِ اقتدار میں ایم کیو ایم والوں نے سرکاری زمینوں پر زبردستی بنائے تھے، وہ دفاتر گرائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف کراچی ہی میں نہیں،حیدر آباد، سکھر، نواب شاہ سمیت کئی شہروں میں کارروائی ہو رہی ہے۔ یہ دفاتر سکولوں، پارکوں، ڈسپنسریوں اور واٹر سپلائی کے لئے مخصوص زمینوں پر بنائے گئے۔ 27اگست 218 سے زائد دفاتر کو سیل کیا گیا، جن میں نائن زیرو سرفہرست ہے۔اسی طرح تین درجن سے زائدناجائز دفاتر کو گرایا گیا ہے۔ مذکورہ دفاتر کو گرانے اور سیل کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکاری زمینوں پر زبردستی اور ناجائز طریقے سے بنائے گئے، جن لوگوں نے ایم کیو ایم کو ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے سنگین صورتِ حال سے بچنے کی کوشش کی، اُن میں سرفہرست ڈاکٹر فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن اور دیگر نے اپنا ’’نیا پروگرام‘‘ شروع کیا ہے۔کہ ماضی میں ناجائز تجاوزات قائم کر کے اپنے دفاتر بنانے والے اِن حضرات نے دُکھ اور افسوس کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ اُن کے دفاتر سیل کرنے اور گرانے کا عمل درست نہیں۔ یہ کام اتنا ہی ضروری تھا تو کچھ عرصہ ٹھہر کر شروع کیا جاتا۔ فہرست تیار کر کے ہمیں دے دی جاتی، ہم خود گرا دیتے۔

یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں، جنہوں نے برسوں پہلے ناجائز قبضے کر کے سرکاری زمینوں پر اپنے دفاتر تعمیر کئے، حد یہ ہوئی کہ کراچی میں ایک صاحبِ ذوق قبضہ گروپ نے کئی کنال سرکاری زمین پر دفتر کے ساتھ ایک چھوٹا سا پارک بھی بنایا، جس میں تفریح طبع کے لئے بطخیں، مور، مرغیاں ہی نہیں، ایک مگر مچھ کو بھی وسیع تالاب کی سہولت دی گئی۔ اِسی طرح وطنِ عزیز کے پہلے وزیراعظم اور قائداعظمؒ کے قریبی ساتھی لیاقت علی خان کا بھارتی حکمرانوں کو دکھایا گیاعلامتی ’’مکا‘‘ کراچی کے ایک چوک میں بنایا گیا تھا۔ وہاں ’’الطاف بھائی‘‘ کا بہت لمبا چوڑا تصویری فلیکس لگا کر اس کو لیاقت علی خان کی بجائے ’’بھائی‘‘ کی 12مئی کے سانحہ والی ’’طاقت‘‘ کا مظہر قرار دے دیا گیا۔ ’’بھائی‘‘ کا تصویری فلیکس اُتار پھینکا گیا تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔ یہ سب باتیں ’’الطاف بھائی‘‘ کی باقیات اِس لئے کر رہی ہیں کہ اُن کے قائد نے22اگست کو جو تقریر کی، وہ تو معمول کی بات تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ31بار ایسی مکروہ ترین ’’غلطی‘‘ کر چکے تھے۔32ویں غلطی پر ہنگامہ ذرا زیادہ ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں، چند ہفتوں میں مطلع صاف ہو جائے گا۔

کراچی کا میئر منتخب ہونے کے بعد سابق وزیر داخلہ وسیم اختر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں 12مئی کے سانحہ میں ملوث کر کے مقدمہ قائم کرنا درست نہیں۔انہوں نے یہ ڈائیلاگ جذباتی انداز میں بولا ’’مرد کے بچے ہو توسابق صدرِ مملکت جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف بھی مقدمہ قائم کرو کہ وہ12مئی کے سانحہ کے اصل ذمہ دار ہیں‘‘۔ جی ہاں،ایسے مشکل بلکہ بظاہر ناممکن کام کوئی ’’مرد کا بچہ‘‘ ہی کر سکتا ہے۔ وسیم اختر نے اپنے برسوں پرانے سرپرستوں کو جو چیلنج کیا ہے، وہ اہم تو ہے، لیکن بہت معنی خیز بھی ہے۔حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگے چل کر بھی کچھ اور حوالوں سے بھی ’’ڈائیلاگ‘‘ سننے کو مل سکتے ہیں۔ فی الحال تو ’’بھائی‘‘ سے جماعتی اور سیاسی رابطہ منقطع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، رابطہ منقطع کرنے والے برملا کہتے ہیں کہ ’’بھائی‘‘ سے ہمارے نجی تعلقات منقطع نہیں،ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ بات ایم کیو ایم کے ناجائز جگہوں پر قائم دفاتر کو سیل کرنے اور گرانے کی ’’تشویشناک‘‘ کارروائیوں پر کہی گئی ہے۔

اِن دِنوں سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایم کیو ایم کے آغاز سے موجودہ حالات تک بحث بھی جاری ہے۔ پچھلے 32سال سے ایم کیو ایم نے ہماری سیاست، معیشت اور ریاست پر جو بھی اثرات مرتب کئے، اُن کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں یہ سوال ضرور اُٹھایا جاتا ہے کہ اتنے عرصے میں کسی کو بھی ایم کیو ایم کا قبلہ درست کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا؟ حکمرانوں نے اِس جماعت سے سیاسی اور حکومتی فائدہ اٹھانے کو ترجیح دی۔ اس کے پروگراموں اور ’’رابطوں‘‘ پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی؟ مفاداتی اور مصلحتوں سے بھرپور پالیسیوں کے ذمہ داران ایسے سوالات کا جواب دینے سے کیوں کتراتے ہیں۔ آج اگر بگڑا ہوا ’’بھائی‘‘ بار بار قیامت ڈھا رہا ہے اور اس کے خلاف صرف اتنی کارروائی ضروری سمجھی جا رہی ہے کہ تقاریر اور دیگر ’’کارناموں‘‘ پر مشتمل ثبوت برطانوی حکام کو پیش کر دیئے گئے ہیں کہ برطانوی حکومت اپنے اس شہری کا اصل چہرہ دیکھ لے اور خود ہی مناسب سمجھے تو کوئی کارروائی کرے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ’’بھائی‘‘ کی حوالگی بارے خاموشی اختیار کرنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے تو یہ بات یاد رکھی جائے کہ پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ متحدہ والوں کے ’’بھائی‘‘ کو پاکستان لا کر اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور اسے کیفر کردار تک بھی پہنچایا جائے۔ موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنی اپنی مصلحتوں کی وجہ سے قومی مجرم کو پاکستان لا کر غداری کا مقدمہ نہ چلایا تو یقینی طور پر جوابدہی سے وہ بری الذمہ نہیں ہو سکیں گے۔

ایم کیو ایم نے کراچی، حیدرآباد اور اندرون سندھ سرکاری زمینوں پر سینکڑوں دفاتر ماضی میں برسراقتدار ہونے کی وجہ سے تعمیر کئے، انہیں کوئی عام شہری تو کیا حکومت بھی نہیں روک سکتی تھی۔ آج اگر وہ دفاتر سیل کئے جا رہے ہیں اور گرائے جا رہے ہیں تو اس پر تشویش اور اعتراض کرنے والوں کے رویے کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کام اصولی طور پر حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کا ہے کہ وہ بروقت ایکشن لیں۔ جو حالات ساری قوم کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہیں، ان کا احساس کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اب کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہوگی۔ جہاں تک قوم کے موڈ کی بات ہے تو وسیم اختر کی طرف سے جب یہ کہا گیا کہ مرد کے بچے ہو تو سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 12مئی کے حوالے سے غداری کا مقدمہ (آرٹیکل چھ کے تحت) قائم کرکے دکھاؤ۔ تو ایسے عمل کاردعمل بھی سامنے آنے لگا ہے۔ گزشتہ روز جب ٹی وی چینلز پر ایم کیو ایم کے دفاتر کو سیل کرنے اور گرانے کی خبریںآ رہی تھیں اور ان پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں خریداری کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا ’’ایم کیو ایم والو! مرد کے بچے ہو توسرکاری زمینوں پر دوبارہ اپنے دفاتر تعمیر کرکے دکھاؤ!‘‘۔ جی ہاں، وسیم اختر ہی ڈائیلاگ نہیں بول سکتے۔ پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے پیار کرنے والے بھی ڈائیلاگ بول سکتے ہیں۔ ’’بھائی‘‘ کے پیروکاروں کو اس کا احساس ہو جانا چاہئے۔

مزید : کالم