اڑتے ہوئے کبوتر

اڑتے ہوئے کبوتر
اڑتے ہوئے کبوتر

  

ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ کے کوریڈور میں آویزاں ایک تصویر گزرنے والوں کو چند لمحے کے لئے روک لیتی تھی۔ 1990ء کے عشرے کی اس تصویر میں الطاف حسین بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کے بیڈ پر کبوتر نظر آ رہے ہیں اور تصویر کا کیپشن یہ بتا رہا ہے کہ یہ کبوتر بھی قائد تحریک کو چھوڑ کر اڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔آج ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ صوبہ سندھ میں سرکاری زمینوں پر بنائے گئے ایم کیو ایم کے دفاتر گرائے جا رہے ہیں۔ الطاف کی تصاویر کو ہٹایا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھی انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ مصطفی کمال نے اپنی علیحدہ پارٹی بنا لی ہے۔ فاروق ستار ان سے لاتعلق ہونے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کہہ رہے ہیں کہ وہ غدار نہیں ہیں اور اب کسی ڈرامے کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں۔ کراچی میں اب بھی کبوتر موجود ہیں مگر اب وہاں الطاف حسین نہیں ہیں۔ الطاف حسین لندن میں ہیں جہاں کبوتر تو ہیں الطاف حسین ان کے لئے اجنبی ہے۔ الطاف حسین برطانیہ کے شہری تو ہیں، مگر وہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی پر راج کرتے رہے ہیں۔ کراچی میں وہی کچھ ہوتا رہا ہے،جو الطاف حسین چاہتے تھے۔

جون 2014ء میں لندن میں ان کی گرفتاری کی خبر پھیلی تو پورا کراچی سناٹے میں آگیا۔ لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ پٹرول پمپ بند ہو گئے۔ ٹریفک رک گئی اور ایک صحافی کے بقول ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی ٹائم بم پھٹنے والا ہے اور چند لمحوں بعد ایک بڑی تباہی پھیل جائے گی، مگر آج اسی شہر میں الطاف حسین تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ میئر وسیم اختر اعلان کر رہے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے میئر نہیں ہیں وہ کراچی کے میئر ہیں۔ وہ ڈی جی رینجرز سے راہنمائی لینے کی بات کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ ایک ڈرامہ ہو رہا ہے۔ ایم کیو ایم بڑی حکمت سے اپنا براوقت گزار رہی ہے۔ الطاف حسین ہی اس پارٹی کے قائد ہیں اور قائد رہیں گے۔ ایم کیو ایم پاکستان میں فاروق ستار سب سے زیادہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، مگر وہ محض ڈپٹی کنوینر ہیں اور ایم کیو ایم کے آئین کے مطابق تمام اختیارات الطاف حسین کے پاس ہیں اور ان کا فیصلہ ہر معاملے میں حتمی ہو گا۔ الطاف حسین نے خود فاروق ستار کو اختیارات دے دیئے ہیں۔ کراچی میں ایسا کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے جس کا مشاہدہ ماضی میں اس شہر میں ہوتا رہا ہے۔

الطاف حسین ایم کیو ایم کے قائد ہیں۔ وہ مہاجروں کے پیر صاحب بھی رہے ہیں۔ ان سے مافوق الفطرت باتیں بھی منسوب کی جاتی رہی ہیں۔ برسوں پہلے ڈاکٹر فاروق ستار نے ’’نظم و ضبط کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے ایک پمفلٹ لکھا تھا جو ایم کیو ایم کی تربیتی نشستوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس میں حیدر عباس رضوی کا ایک قول درج تھا کہ ایم کیو ایم کے چار ستون ہیں اور پہلا اور فیصلہ کن ستون ’’لیڈر پر اندھا دھند اعتماد ہے، کیونکہ اس کے بغیر باقی ستون بے معنی ہو جاتے ہیں‘‘۔ الطاف حسین کے پیروکار ان پر اندھا اعتماد کرتے رہے ہیں۔ ایک صحافی نے اس کارکن خاتون کا تذکرہ کیا ہے، جس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر ایک کامیاب بزنس مین تھا، مگر الطاف کے لئے اس نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا اور اب وہ برسوں سے صرف تحریک کی ہو کر رہ گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکن یہ کہتے رہے ہیں کہ بھائی نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ اپنے کاز کے لئے ہر وقت ہر چیز کی قربانی دینے کے لئے تیار رہو اور اخبارات میں وفاداری کے اس معیار کی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں کہ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے غدار کی کم سے کم سزا موت ہے۔ آج عامر لیاقت حسین بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں ہلاک کر دیا جائے تو اس کا مقدمہ ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین کے خلاف درج کیا جائے۔

الطاف حسین نے 1978ء میں مہاجر طلباء کی تنظیم بنا ئی جسے بے پناہ پذیرائی ملی۔ 1984ء میں مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی۔(کئی سال بعد نام بدل کر متحدہ کر دیا گیا) انہوں نے اس کے مقاصد کے حصول کے لئے دن رات محنت کی اور اسے مُلک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بنا دیا۔ حکمران اسے ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے تھے۔ صحافی الطاف کے خلاف ایک لفظ بولنے یا لکھنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ ایم کیو ایم یا الطاف کے خلاف آواز اٹھنے کا مطلب اکثر ادارے کی بندش ہوتا تھا۔ ایم کیو ایم کی سیاسی مقبولیت کے بعد کراچی شہر موت کا شہر بن گیا تھا جہاں ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی، بوری بند لاشیں ملتی تھیں، بھتہ خوری کلچر کا حصہ بن گئی تھی اور اسلحہ اور منشیات سرعام دستیاب تھے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے تھے۔ کراچی مہاجروں کا شہر ہی نہیں ہے،بلکہ اب یہ دنیا میں پٹھانوں کا بھی سب سے بڑا شہر ہے اور آہستہ آہستہ بعض ایسے علاقے بھی معرض وجود میں آ گئے تھے،جہاں ایم کیو ایم کے کارکن بھی قدم رکھنے سے گھبراتے تھے۔ اکیسویں صدی میں ایم کیو ایم کے لئے نئے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔

الطاف حسین 1992ء میں برطانیہ چلے گئے تھے جہاں انہوں نے لندن میں رہائش بنا لی جس کی حفاظت سابق برطانوی فوجیوں کے سپرد ہے۔ وہ بہت کم اپنے گھر سے نکلتے ہیں اور ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق وہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کراچی میں ایک سیاسی سلطنت کو کنٹرول کرتے تھے، مگر ان کی گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی تھی۔ ایک وقت وہ تھا جب وہ فون اٹھاتے تھے۔ شہر بند ہو جاتا تھا۔ وہ اشارہ کرتے تھے کراچی کا کاروبار زندگی رواں دواں ہو جاتا تھا۔ بے نظیربھٹو کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو پہلے بڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جنرل نصیر اللہ بابر کے آپریشن نے ایم کیو ایم کے لئے سخت حالات پیدا کر دیئے تھے۔ مگر پھر جنرل پرویزمشرف کے دور میں ایم کیو ایم کو غیرمعمولی عروج حاصل ہوا۔وہ پولیس افسر اور جوان، جنہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا، چُن چُن کر قتل کر دیئے گئے۔ ایک مرتبہ پھر الطاف حسین کراچی کے سب کچھ تھے۔ صدر پرویزمشرف نے این آر او کے ذریعے نہ صرف الطاف حسین کو تمام مقدمات سے بری کر دیا،بلکہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے خلاف مقدمات کو واپس لے لیا گیا۔

کراچی کے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ خود ایم کیو ایم نے آپریشن کی خواہش کا اظہار کیا۔ الطاف حسین نے لندن سے ہزاروں تقریریں کیں۔ ان کے کارکن ان کی تقریروں کے لئے ذوق و شوق سے اکٹھے ہوتے تھے، مگر آہستہ آہستہ ان کی تقریریں تمام حدود پار کرتی گئیں اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے میڈیا پر ان کی تقریر نشر یا شائع کرنے پر پابندی لگا دی۔ الطاف حسین قابل اعتراض تقریریں کرتے تھے پھر ان پر معافی طلب کر لیتے تھے، مگر 22 اگست کی ان کی تقریر نے ایک بڑا ہنگامہ بپا کر دیا۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور میڈیا پر حملے کرنے کے لئے اکسایا۔ کراچی میں جو صورتِ حال پیدا ہوئی‘ قانون نافذ کرنے والوں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔

22 اگست کو الطاف حسین کی میڈیا پر تقریر کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ مودی کو خوش کرنے کے لئے کی گئی، کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال سے پریشان تھے اور وہ پاکستان میں معاملات کی خرابی دیکھنا چاہتے تھے۔ اس سے قبل چمن کا بارڈر بند ہو چکا تھا،کیونکہ بعض افغانوں نے ہنگامہ آرائی کی تھی۔ الطاف حسین کا مہاجروں کی نبض پرہاتھ رہا ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ ان سے غلطی ہو گئی۔ ایسی غلطی جس کا وہ خود بھی اعتراف کرتے ہیں۔ ان کے حامی اس غلطی پر ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سندھ ایم کیو ایم ہی نہیں پنجاب کی ایم کیو ایم نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ غلطی کیوں کی گئی؟

الطاف حسین کی عمر 63سال ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو بنانے کے لئے بہت محنت کی ہے۔ مسلسل دباؤ میں رہے ہیں۔ بڑے سخت فیصلے کئے ہیں۔ ان پر کراچی کو روشنیوں کے شہر سے ایک پرتشدد اور خطرناک شہر میں تبدیل کرنے کا الزام ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الطاف حسین ایم کیو ایم کے معاملات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، مگر عملی طور پر ایسا کرنا شاید ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستان کی وزارت داخلہ برطانوی حکومت سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے زور دے رہی ہے۔ برطانوی حکومت کو مختلف دستاویزات فراہم کی جا رہی ہیں۔ خود برطانیہ کے فارن آفس نے کہا ہے کہ وہ کراچی میں میڈیا پر حملے کی مذمت کرتا ہے اور برطانوی سرزمین کو نفرت اور تشدد کی ترغیب دینے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیراعظم پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ اپنے کسی شہری کو برطانوی سرزمین کو نفرت اور تشدد کے فروغ کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اس کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے، مگر الطاف حسین کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الطاف حسین کے لئے یہ تصور کرنا ہی خاصا مشکل ہو گا کہ ایک ایسا شہر جو اس کے اشاروں پر چلتا تھااب اس کا میئر ببانگ دہل ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے۔ الطاف حسین اپنی رہائش گاہ سے باہر نہیں نکلتے۔ انہیں طالبان کی دھمکیوں کا بھی سامنا ہے۔ ان کے خلاف اب لندن میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم میں ایسے طالع آزما بھی ہیں جو یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے الطاف حسین کا خلا پیدا ہوتا ہے تو وہ اس سے کس طرح فائدہ اٹھائیں گے۔ بعض تجزیہ نگار ابن خلدون کے فلسفہ تاریخ کے حوالے سے الطاف حسین کے یقینی زوال کی خبر دے رہے ہیں۔ الطاف حسین کے حالیہ بیانات سے مہاجروں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ مہاجروں نے پاکستان کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہیں الطاف حسین کے بیان سے دکھ ہے اور وہ مستقبل میں کسی ایسے لیڈر کی تلاش میں ہیں،جو مہاجروں کے اتحاد کو یقینی بنا کر ان کے مستقبل کا تحفظ کر سکے۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے مستقبل کا فیصلہ اب مہاجروں نے کرنا ہے۔ کراچی اور حیدر آباد میں ایک خاموش فیصلہ تو عوام نے دے دیا ہے۔ الطاف حسین کو جس طرح منظر سے ہٹایا جا رہا ہے اس کو ایک طرح سے عوامی تائید حاصل ہو رہی ہے۔ مہاجرین الطاف حسین کے لئے اپنا اور پاکستان کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ مہاجروں کے خون میں دوڑ رہا ہے۔ الطاف حسین کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ اب پاکستانی کبوتر اڑ رہے ہیں۔

مزید :

کالم -