پاک بحریہ اور چینی آبدوزیں!

پاک بحریہ اور چینی آبدوزیں!
پاک بحریہ اور چینی آبدوزیں!

  


26اگست2016ء (بروز جمعہ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پاک بحریہ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جس میں اسے بحریہ کے موجودہ اور آئندہ دفاعی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ علاوہ ازیں اس میں سی پیک(CPEC) کی تعمیراتی پراگرس کا ذکر بھی ایک فطری سی بات تھی۔ گوادر کے گہرے پانی کی بندرگاہ اِس خطے کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ بننے جا رہی ہے،اس پر بھی کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ دی گئی۔ کمرشل موضوعات بعد میں،ڈیفنس موضوعات کو کس طرح جنم دیتے ہیں اور ان دونوں کا باہمی تعلق کیا ہے، اس موضوع پر ہیڈ کوارٹر پاک بحریہ اسلام آباد کی لائبریری میں بڑی اہم اور وقیع تصنیفات موجود ہیں جن کا مطالعہ کمیٹی کے اراکین نے بالعموم اور اس کے چیئرمین جناب شیخ روحیل اصغر نے بالخصوص کیا ہو گا۔ اگر حکومت نے ملک کی ہمہ جہتی ترقی کی رفتار تیز کرنی ہے اور اگر بیرونی سرمایہ کاری کو کھینچ کر پاکستان میں لانا ہے تو گوادر کو کمرشل بندرگاہ سے نیول بیس بنانے میں کسی تساہلِ سے کام نہیں لینا چاہئے۔ اگرچہ یہ کام بڑا صبر آزما، مہنگا اور وقت طلب (Time Consuming) ہے لیکن تجارت اور دفاع کا باہمی اشتراک اگر دیکھنا مطلوب ہو یا دونوں کے مشترک پہلوؤں کا مطالعہ کرنا ہو تو گزشتہ دو تین صدیوں کی بین الاقوامی بحری تجارت کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ چین2028ء تک پاکستان کو آٹھ ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں دے گا جن میں سے چار تو چین میں بنائی جائیں گی اور2022-23ء تک پاک بحریہ کے حوالے کر دی جائیں گی جبکہ باقی چار اگلے پانچ برسوں، یعنی 2028ء تک پاکستان ہی میں بنائی جائیں گی۔۔۔۔ آبدوز، بھاری دفاعی ہتھیاروں میں ایک بڑا ہتھیار تصور کی جاتی ہے۔ یوں تو فضائی، زمینی اور بحری جنگ و جدل کی پیچیدگیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خوب سے خوب تر کی جانب سفر کی رفتار نہایت تیز ہے پھر بھی نیوی اور ائر فورس دو ایسی سروسیں ہیں جن کے تکنیکی تقاضے گراؤنڈ فورس کے بھاری ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور چیلنج آزما ہیں۔ یہ بحث بجائے خود ایک مشکل بحث رہی ہے اور اہلِ لشکر جانتے ہیں کہ اس پر تبصرہ کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ہر سروس (نیوی ہو کہ، آرمی یا میرین یا فضائیہ) اپنے آپ کو ’’پھنے بیگم‘‘ سے کم نہیں سمجھتی۔ تاہم یہ ایک صحت مندانہ رقابت بھی ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور صدیوں سے ملٹری کی تینوں چاروں سروسوں کے لئے سود مند ثابت ہو رہی ہے۔

چین کے ساتھ ہمارا آٹھ آبدوزوں کا یہ معاہدہ کوئی نیا معاہدہ نہیں۔ کافی ماہ پہلے پاکستان نے ان 8آبدوزوں کی تیاری کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ چار آبدوزیں کراچی شپ یارڈ میں بنائی جائیں گی جسے آبدوز سازی کا کافی تجربہ حاصل ہے۔ مجھے معلوم نہیں آیا ہم نے اور مارا اور گوادر میں بھی ایسے انفراسٹرکچر کی تعمیر و تنصیب میں کوئی پراگرس کی ہے یا نہیں لیکن کراچی شپ یارڈ کو قبل ازیں آگسٹا کلاس (فرانس ساختہ) آبدوز سازی کا تجربہ ہے۔ ہماری تیسری آگسٹا90- آبدوز (سعد) اسی شپ یارڈ میں مکمل کی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان نے نیوی کے ایک 17000 ٹن فلیٹ ٹینکر کو بھی سمندر میں اتارا جس کی تعمیر، ترکی کے تعاون کی مرہونِ احسان ہے۔ اگرچہ پاک بحریہ کے اربابِ اختیار کو ہمیشہ ہی حکومت سے شکوہ رہا کہ وہ باقی دو سروسوں کے مقابلے میں بحریہ کو مساوی ترجیح نہیں دیتی لیکن گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک منصوبے نے پاک بحریہ کو کئی اعتباروں سے آگے(Forefront) لاکھڑا کیا ہے۔ مستقبل قریب میں پاک بحریہ کی ہمہ جہتی تعمیر و ترقی کی جھلکیاں بھی قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئی ہوں گی۔ پاکستانی سمندری ساحل کی لمبائی 1043کلو میٹر ہے اور اس کے خصوصی اقتصادی زون(EEZ) اور اس ساحل کی سٹرٹیجک اہمیت سے بھی قارئین پوری طرح آگاہ ہیں۔ اس موضوع پر اب ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے بھی ماضی کے مقابلے میں کہیں آگے بڑھ کر عوام کے دفاعی شعور میں اضافہ کرنے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔ اور یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔

ایک گزارش جو میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی خدمت میں کرنا چاہتا ہو وہ یہ ہے کہ یہ کمیٹی جب بھی کسی سروس ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرے اور اس کا مقصد اُس سروس کے موجودہ اور آئندہ دفاعی منصوبوں کا حال احوال جاننا ہو تو اس کارِ خیر میں اگر میڈیا کو بھی شریک فرما لیا کریں تو کوئی ہرج نہیں بلکہ اس سے ’’بہتوں‘‘ کا بھلا ہو گا۔میری نظر میں جدید دفاعی موضوعات کو بیان کرنا اُردو زبان کے لئے ایک مشکل چیلنج سے کم نہیں۔ان موضوعات کو اگر کسی سویلین اور جمہوری حکومت نے عوام الناس کے لئے عام کرنا ہو تو اُردو زبان میں لکھنے والے کالم نویس اور صحافی حضرات کو اس قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں ضرور موجود ہونا چاہئے۔ فی الوقت اُردو کا تو ذکر ہی کیا انگریزی زبان کے کالم نگاروں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کیا جاتا۔ یہ توقع رکھنا کہ کوئی کالم نگار خود اس طرف توجہ دے، ایک ناممکن الوقوع سی بات ہو گی۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے عہدہ برآ ہونے کی دو ہی صورتیں اس وقت میرے ذہن میں آ رہی ہیں۔۔۔ ایک تو یہ ہے قائمہ کمیٹی کے معزز اراکین خود کسی ٹی وی چینل پر آ کر وہ تفصیلات بتا دیا کریں جن کے بارے میں سروس ہیڈ کوارٹر نے ان کو بریف کیا ہوتا ہے۔ مثلاً اسی چینی آبدوز ہی کو لے لیجئے۔۔۔ ان آبدوزوں کی بریفنگ سے پہلے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے قائمہ کمیٹی کو پاکستان کی میری ٹائم صورت حال کی بریفنگ ضرور دی ہو گی۔ یہ بھی بتایا ہو گا کہ موجودہ صورتِ حال میں آبدوزوں کا موجودہ رول کیا ہے اور آئندہ کیا ہو سکتا ہے۔ ہمارے دشمن جو ہمارے ہمسائے میں بیٹھے ہیں اور ہمارے وہ رقیب بھی جو ہمارے پچھواڑے میں بس رہے ہیں، ان کے ارادے کیا ہیں؟ آیا وہ اپنی رقابت اور دشمنی سے ہاتھ کھینچ لیں گے یا پاکستان کو ان کے ہاتھوں کو آگے بڑھ کر روک دینا پڑے گا تو اس ’’روک تھام‘‘ میں کیا کیا اقدامات شامل ہوں گے۔ پاکستان کی بین الاقوامی درآمدات اور برآمدات کا اگر 94فیصد بحری راستوں کا مرہونِ منت ہے تو ان بحری گزرگاہوں کی حفاظت اور ان کو کھلا رکھنے کی اختیاری قوت کا کیف و کم کیا ہے اس کی آگہی بھی ہر پاکستانی کو دینی چاہئے۔ میں تو یہاں تک جاؤں گا کہ قومی اسمبلی کی جتنی بھی قائمہ کمیٹیاں ہیں ان کے ہمراہ الیکٹرانک اور پریس میڈیا کے تعاون کا باقاعدہ ایک ادارتی (Constitutional) نظام اور بندوبست منسلک ہونا چاہئے۔۔۔۔

میں عرض کر رہا تھا کہ اس آگہی کو عوام تک پہنچانے کا ایک طریقہ تو وہی ہے کہ اراکینِ کمیٹی خود نہ صرف ٹی وی پر بلکہ پریس میں بھی مضامین اور کالم لکھ کر یہ قومی فریضہ نبھائیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ میڈیا کے دفاعی نمائندوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ اول اول تو ISPR والوں سے مواد اور مندرجات کی پروفیشنل سپورٹ اور کلیئرنس لی جا سکتی ہے، جبکہ بعد میں جب میڈیائی تجربہ خود بالغ الذہن ہو کر آگے بڑھ جائے گا تو کسیISPR کی اوور سائٹ/ نگرانی وغیرہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ غیر ملکی میڈیا پر دفاع، اقتصادیات، ٹیکنالوجی، سائنس، تعلیم اور صحت کے سارے پہلوؤں پر متعلقہ شعبے جس کامیابی سے میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں، پاکستان کو بھی اس سے سبق اندوز ہونا چاہئے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو آبدوز بھی ہوائی جہاز کی طرح امریکہ ہی کی ایجاد تھی۔ 1776ء میں ڈیوڈ بش نل (Bushnell) نے دُنیا کی پہلی آبدوز بنائی۔ بعد میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے آبدوز سازی پر بہت سا کام کیا۔ وہ جو مثل مشہور ہے کہ ضرورت ایجادکی ماں ہوتی ہے تو جنگِ عظیم اول اور دوم کا مجموعی دورانیہ جو دس برس بنتا ہے اس میں ملٹری ایجادات کے انبار لگ گئے۔ چونکہ میدانِ جنگ میں روزانہ ہزاروں ٹروپس ہلاک ہو رہے تھے اس لئے نہ صرف نئی افواج کھڑی کی گئیں بلکہ نئے (ہلکے اور بھاری) ہتھیار بھی جلد جلد ڈھالے اور ایجاد ہونے لگے۔ اور چونکہ یہ ہتھیار بھی میدانِ جنگ میں سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ ناکارہ ہوتے رہے اِس لئے ان کو دوبارہ بنانا پڑا۔ جنگ کے زبردست دباؤ کی وجہ سے ان ہتھیاروں میں ہلاکت خیزی کی نئی نئی تراکیب سوچی گئیں اور پھر ان کے زندہ تجربات جنگ کے دوران ہی کئے گئے۔ جب اگست 1945ء میں جوہری بم نے آ کر یکایک جنگ کے خاتمہ کر دیا تو فریقینِ جنگ کے پاس ہزاروں کی تعداد میں طیارے، آبدوزیں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بحری جنگی جہاز وغیرہ موجود تھے، جو ہم جیسے نو آزاد ملکوں اور اقوام کو شیشے میں اتارنے کے کام آئے۔

جب پاکستان وجود میں آیا تو ہمارے حصے میں فقط نہتے مسلمان سپاہی ہی آئے، ان کا زیادہ تر اسلحہ اور گولہ بارود بھارت کے اسلحہ خانوں اور آرڈننس ڈپووں ہی میں موجود رہا جو پاکستان کو کبھی نہ دیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی آرڈننس فیکٹری، واہ کینٹ میں تشکیلِ پاکستان کے بعد تشکیل کی گئی۔ برما کی جنگ کی اسلحی سپورٹ کے لئے ہندوستان کے طول و عرض میں اسلحہ ساز اور گولہ بارود ساز فیکٹریاں بنائی گئیں، مختلف بھارتی ریاستوں میں ہوائی اڈے اور ائر سٹرپس(Air Strips) تعمیر کی گئیں، بھاری اسلحہ جات کی تعمیر و مرمت کے لئے بڑی بڑی ورکشاپس بنائی گئیں، ریلوے سسٹم کو وسیع کیا گیا، بحری، جہاز سازی کی صنعت کا احیا بھی ہوا لیکن یہ سب کچھ برصغیر کے اُس حصے کے نصیب میں آیا، جو جغرافیائی طور پر برما سے قریب تھا۔ برما وار میں جاپانیوں کی افواجِ قاہرہ کو شکست دینا، اتحادی افواج کا ایک بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ کارنامہ لاجسٹک سپورٹ کے بغیر تو وجود میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔ چنانچہ لاجسٹکس کا جال بچھانے کے لئے برصغیر کے وہی حصے اور خطے استعمال کئے گئے جو اگست1947ء میں بھارت کا حصہ بن گئے اور پاکستان کو بالکل نئے سرے سے ہر چیز کا آغاز کرنا پڑا۔

پاکستان کی پہلی آبدوز کا نام غازی رکھا گیا۔ یہ برطانیہ سے خریدی گئی تھی۔ اسے 1944ء میں برطانوی شپ یارڈ(پورٹس ماؤتھ) میں تیار کیا گیا اور1963ء میں پاکستان بھیج دیا گیا۔ اس نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا اور دورانِ جنگ انڈین نیوی کو کھلے سمندر میں آنے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنی بحریہ میں وقتاً فوقتاً اضافہ شروع کیا جس میں آبدوزیں بھی شامل تھیں۔ اس وقت فرانس کی بنی ہوئی تین آگستا90- بی کلاس آبدوزیں پاک بحریہ کا گرانقدر اثاثہ ہیں جس میں آنے والے دس بارہ برسوں میں وہ آٹھ آبدوزیں بھی شامل ہو جائیں گی جن کا ذکر کالم کے شروع میں کیا گیا۔ چند روز پہلے بھارت میں فرانس ہی کی بنی ہوئی سکارپین کلاس آبدوزں کے بارے میں ایک نہایت سنسنی خیز خبر شائع ہوئی تھی جو ابھی تک ’’گرم‘‘ ہے۔۔۔ اس پر مزید انشا اللہ اگلے کالم میں!

مزید : کالم