طوفانی بارشوں سے تباہی ۔۔۔بچاؤ کی تدابیر؟

طوفانی بارشوں سے تباہی ۔۔۔بچاؤ کی تدابیر؟

  

مُلک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ طوفانی بارشیں مزید تین دن تک ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ 36گھنٹوں کے دوران ہونے والی طوفانی بارشوں کے دوران چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8افراد جاں بحق ہو گئے،جبکہ معمولات زندگی بُری طرح درہم برہم ہوئے۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، حیدر آباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں نکاسی آب کے دعوے دھرے کے دَھرے رہ گئے۔ سڑکوں، گلی محلوں اور نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا۔ شہر یوں کی گاڑیاں بھی پانی میں خراب ہو گئیں، بعض علاقوں میں پانی گھروں، دفاتر اور گوداموں میں داخل ہونے سے قیمتی سامان اور گھریلو اشیاء تباہ ہو گئیں۔ شہریوں کو آمد و رفت میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے گھنٹوں بجلی کا نظام بھی معطل رہا۔ موسم اِس قدر خراب تھا کہ لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی معطل ہو گیا۔ بارشوں سے آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں بھی شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔بارشوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے بچاؤ کے لئے مزید بہتر انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے کہ حکومتی سطح پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ گزشتہ ماہ بھی چترال، سوات، دیر اور دیگر علاقوں میں بارشوں سے سیلاب آیا اور خاصی تباہی مچی۔ کئی افراد چھتیں گرنے سے جاں بحق ہوئے، جبکہ کچھ لوگ پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بارشوں سے مختلف علاقوں میں دوبارہ بھی سیلاب آسکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے علاوہ پنجاب کے میدانی علاقے بھی بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پانی میں گِھرے لوگوں کو نکالنے اور انہیں کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کے انتظامات میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو ہنگامی طور پر اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ محکموں کے افسران اور اہلکاروں کو فوری منصوبہ بندی کر کے ممکنہ خطرات اور نقصانات سے بچاؤ کو یقینی بنانا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -