بھارت کے خلاف وزیراعظم نواز شریف کی جارحانہ ڈپلومیسی

بھارت کے خلاف وزیراعظم نواز شریف کی جارحانہ ڈپلومیسی

  

وزیراعظم نواز شریف نے کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر پیش کرنے کے لئے20 ارکانِ پارلیمینٹ کو اپنا خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے،جو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم سے دُنیا بھر کو آگاہ کریں گے۔ یہ ایلچی دُنیا کے اہم ممالک کا دورہ کریں گے،اِن خصوصی ایلچیوں کو پاکستان کے عوام کی طاقت، لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیریوں کی دُعائیں، پارلیمینٹ کا مینڈیٹ اور حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا مَیں خود اِن سفیروں کے پیچھے کھڑا ہوں تاکہ وہ پوری دُنیا میں کشمیر کاز کو اُجاگر کریں اور ان کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جب میرا خطاب ہو گا، تو مَیں عالمی برادری کا ضمیرجھنجھوڑوں گا۔ یہ پارلیمانی خصوصی ایلچی امریکہ، چین،روس، برطانیہ،ترکی اور اقوامِ متحدہ سمیت دُنیا کے اہم ملکوں کا دورہ کریں گے اور اُنہیں کشمیریوں کے مبنی برحق موقف اور کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم سے آگاہ کریں گے۔ویسے تو پوری دُنیا کِسی نہ کِسی انداز میں کشمیر کے مسئلے سے پہلے ہی باخبر ہے، کیونکہ یہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر اب تک موجود ہے اور پاکستانی صدر اور وزرائے اعظم جب بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہیں اِس مسئلے کی سنگینی سے دُنیا کو باخبر کرتے ہیں عالمی ادارے کو بھی اس کی ذمے داری یاد دلائی جاتی ہے۔ جنرل ضیا الحق جب مُلک کے صدر تھے تو انہوں نے ایک بار جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے پہلے قرآنِ حکیم کی تلاوت بھی کروائی تھی اور اسلام کو امنِ عالم کا داعی دین ثابت کیا تھا اور خود اپنے خطاب میں عالمی ادارے کے ایجنڈے پر موجود اِس قدیم ترین مسئلے پر دُنیا کی توجہ دلاتے رہے۔ نواز شریف ہر دور میں یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں اٹھاتے رہے۔

اب تو 2013ء کے بعد سے جب سے وزیراعظم بنے ہیں،اُنہیں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کا جب موقع ملتا ہے وہ کشمیر کے مسئلے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہیں اور اِس ذکر کی وجہ سے اکثر و بیشتر بھارتی حکمرانوں کی پیشانیوں پر بل پڑ جاتے اور تیوریاں چڑھ جاتی ہیں ان کی جانب سے واک آؤٹ بھی ہوتے رہتے ہیں، لیکن بیک وقت بیس خصوصی ایلچیوں کو جو سب کے سب ارکانِ پارلیمینٹ ہیں، جن میں کہنہ مشق پارلیمنٹرین اور سابق وزراء بھی شامل ہیں، ایک ہی وقت میں بیرونِ مُلک بھیجنے کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے، اِس لئے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے اِس محاذ پر جارحانہ پیش قدمی کا فیصلہ کیا ہے،جس کے نتیجے میں دُنیا کے ملکوں کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہی ہو گی، کیونکہ اِس خطے کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے جہنم زار بنا دیا ہے اور چھرّے والی پیلٹ گنوں کے فائر کر کے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کر دیا ہے۔ پاکستان اور عالمی میڈیا کے احتجاج کے بعد اگر اب چھرّے والی بندوقوں کا استعمال بند کیا گیا ہے، تو مرچوں والی گنیں استعمال ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اس سب کچھ کا مقصد کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت کی جدوجہد سے روکنا ہے، جو کسی طرح بھارت کے قابو میں نہیں آ رہی۔

بھارتی حکومت کشمیریوں کی اِس جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرتی ہے، حالانکہ اب تو خود بھارت کے اندر دیانت دار میڈیا اور مخالف سیاست دان تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ کشمیریوں کی یہ تحریک تشدد آمیز نہیں ہے۔ مظاہرین غیر مسلح اور پُرامن ہوتے ہیں اگر یہ لوگ مسلح ہوں تو فائرنگ کا جواب کم از کم فائرنگ سے تو دیں،لیکن دُنیا دیکھ رہی ہے کہ یہ نہتے لوگ زمین پر بکھرے ہوئے پتھر اور روڑے وغیرہ اُٹھا کر فائرنگ کرنے اور آنسو گیس کے شیل چلانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب پھینک رہے ہوتے ہیں،جن سے ان لوگوں کا کچھ نہیں بگڑتا، بس کشمیریوں کی بے سرو سامانی سامنے آتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہشت گرد ایسے ہوتے ہیں؟پاکستان نے بھارت کو ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے تمام حل طلب معاملات طے کرنے پر زور دیا ہے۔ اب بھی پاکستان بار بار کہہ رہا ہے کہ اگر بھارت جامع مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تو باقی مسائل کو چھوڑ کر صرف کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کر لے۔اِس معاملے پر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے اپنے بھارتی ہم منصب کو ایک سے زیادہ خطوط بھی لکھے ہیں، لیکن بھارت نے ہر بار مذاکرات سے گریز پائی اختیار کی اور موقف اختیار کیا کہ مذاکرات کشمیر پر نہیں، سرحد پار دہشت گردی پر ہوں گے، حالانکہ پوری دُنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی پر تو خود بھارت اُترا ہوا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ فی نفسہٖ دہشت گردی کی ذیل میں آتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے یوم آزادی پر جو خطاب کیا اور جس انداز میں بلوچستان کا تذکرہ کیا وہ بذاتِ خود اعترافِ جرم کے مترادف ہے۔ پاکستان کے اِس صوبے میں دہشت گردی کی جو خونیں وارداتیں ہو رہی ہیں اور جن میں تازہ ترین وکلا کی ٹارگٹ کلنگ اور سول ہسپتال میں خود کش دھماکہ ہے، جس میں بلوچستان کے وکلاء کی ایک پوری نسل جامِ شہادت نوش کر گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اِس واقعے میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے بارے میں پورا یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے اِس سلسلے میں ثبوت وفاقی حکومت کو دینے کا اعلان کیا تھا۔یہ ثبوت تو سامنے آتے ہی رہیں گے، خود مودی نے جو خطاب کر دیا وہ کسی ثبوت سے کم ہے؟ اس کے باوجود پاکستان یہ چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کر لیا جائے۔ پاکستان کے نئی دہلی میں ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ بھارت کے مسلسل انکار کی وجہ سے بظاہر تو ایسے آثار نظر نہیں آتے تاہم ممکن ہے عبدالباسط کے پاس اس خوش فہمی کی کوئی ٹھوس بنیاد ہو۔

وزیراعظم نواز شریف نے دُنیا کے اہم ممالک میں اپنے خصوصی ایلچی بھیج کر اُنہیں مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے یہ بہت ہی بروقت اور موزوں ہے، کیونکہ اگر بھارت مذاکرات کی میز پر بھی نہیں آتا تو پھر دُنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس نے ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اگلے ماہ کے آخیر میں وزیراعظم نواز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے جائیں گے، اِس سے پہلے پہلے ہمارے خصوصی ایلچی دُنیا کے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں کشمیر کے مسئلے کے خدوخال کو تازہ کر چکے ہوں گے، تو امید ہے کہ نواز شریف کے خطاب کے بعد یہ مسئلہ پوری دُنیا کے سامنے اچھی طرح اجاگر ہو جائے گا، بھارت اگر مذاکرات بھی نہیں کرتا اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کا خود مودی بھی بالواسطہ اعتراف کر رہا ہے تو دُنیا کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ دُنیا کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینا کیوں ضروری ہے اور اِس کے بغیر خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بنا رہے گا۔ وزیراعظم نے درست وقت پر یہ درست فیصلہ کیا ہے، جس کے مثبت نتائج نکلنے کی امید ہے۔

مزید :

اداریہ -