الطاف حسین نے ملک میں نفرت کے بیج بوئے ہیں،اعجاز ہاشمی

الطاف حسین نے ملک میں نفرت کے بیج بوئے ہیں،اعجاز ہاشمی

لاہور( نمائندہ خصوصی) جمعیت علما پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجاز احمد ہاشمی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان مخالف نظریات او ر سرگرمیوں پر ایم کیو ایم پر پابندی عائد کی جائے ،جیسے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی کو اسی طرح کے ریمارکس پر کالعدم قراردیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم کے قائد ، عسکری ونگ ،بھارتی ایجنسی را سے فنڈنگ کا حصول ، اسرائیل اور امریکہ سے مدد مانگنے کے بعد کونسا اقدام ہے، جس کے انتظار میں حکمران بیٹھے ہیں کہ پابندی لگائیں۔ میڈیا سے گفتگو میں پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ الطاف حسین نے ملک میں نفرت کے بیج بوئے

، خود پاکستان میں پیدا ہوئے ، مگر مہاجر کا نعرہ لگا کر جتنی قتل و غارت اس نے کروائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فوج اور سکیورٹی اداروں کے خلاف اس کی ہرزہ سرائی ایک عرصے سے جاری ہے ،مگر ابھی کوئی اقدام نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار کا الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان فریب اور قوم کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں اور اگر صحیح مان بھی لیا جائے تو اس تنظیم پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے ، جس کے پلیٹ فارم سے ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھی گئیں۔اس کے لئے باقاعدہ قانونی اور آئینی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ایم کیو ایم نے قومیتوں کے درمیان وہ نفرت پیدا کی کہ جس کی مثال شاید پاکستان کے کسی دوسرے خطے میں نہیں ملتی۔ تقسیم برصغیر کے وقت جن لوگوں نے انڈیا سے ہجرت کی،وہ بڑے قابل احترام ہیں۔ ہمارے یہ محسن پنجاب میں بھی آئے، لیکن یہاں کبھی پنجابی اور مہاجر کا نعرہ نہیں لگا، سب یہاں رہ رہے ہیں۔ کبھی زبان اور قومیت کی بنیاد پر منظم جھگڑے نہیں ہوئے۔ ایک سوال کے جوا ب میں پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے غیر قانونی مقامات پر قائم دفاتر کو مسمار کرنا ٹھیک ہے، پیشگی اطلاع دے کر سامان اٹھانے کی اجازت دی جاتی تو زیاد ہ بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کی بنیاد پر سیاست نہیں ہوسکتی ، وہ مذہب، فرقہ یا قومیت ہو۔ یہ قابل نفرت ہے۔ محبت اور ترقی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں زیادہ اثر رکھتی ہیں اور انہیں کو لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو پی 2018ء کے انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔ اس کے لئے مختلف جماعتوں سے اتحاد بھی کیا جاسکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4