اسلامی نظام معیشت کا ماڈل پیپر تیار ہونا چاہیے

اسلامی نظام معیشت کا ماڈل پیپر تیار ہونا چاہیے

مبشر میر،نعیم الدین، غلام مرتضی ، تصاویر عمران گیلانی

تعارف: ڈاکٹر مرتضی مغل وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے سماجی حلقوں میں مقبول ہیں ۔ علم و ادب اور فلاحی شعبے میں ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے سفارتی حلقوں میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مرتضی مغل کے آباؤ اجداد ازبکستان سے صدیوں پہلے ہندوستان آئے اور پوٹھوہارکے علاقے میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سماجی خدمات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا اور پاکستان اکانومی واچ ،نظریہ پاکستان سینٹر ٹرسٹ، رائٹرز یونٹی پاکستان سمیت متعدد سماجی اور فلاحی تنظیموں او ر تعلیمی اداروں کے روح رواں ہیں۔ ڈاکٹر مرتضی مغل نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کی جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

بزنس پاکستان : اپنی تنظیم اکانومی واچ کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : دراصل کسی معاشرے کے سماجی اور سیاسی رویوں کی بنیاد معیشت پر مبنی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر معاشی اصلاحات کے حوالے سے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوسکا۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس کے معاشی نظام کو قرآن کی روح کے مطابق ہی ڈھلنا ہے۔میرے ذہن میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اسلامی نظام معیشت کا ایک ماڈل پیپر تیار کیا جائے۔ میری تنظیم کا دوسرا مقصد سودی نظام ، معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام کے انسان دشمن اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے ۔ ہم نے اکانومی واچ جون 2007 میں شروع کی تھی اب الحمدﷲ ہماری اس غیر منافع بخش غیر سرکاری تنظیم میں ہر شعبے کے ماہرین رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں مجھے ذاتی طور پر اطمینان ہے کہ اکانومی واچ نے ہر ممکنہ مالی بحران سے مہینوں پہلے حکومت اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام د یا ہے۔ میری ٹیم میں انتہائی ایماندار احباب شامل ہیں جو نام و نمود سے بالا تر ہو کر قائد اعظم کے اس پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے عملی اور تحقیقی کام کرتے ہیں۔

بزنس پاکستان : پاکستان کی معیشت جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مستقل میں ہمارا ملک اقتصادی طور پر مضبوط ہوجائے گا؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : ملک اس وقت شدید ترین بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اور ظاہر ہے ان حالات میں ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ لیکن میرا اور تمام عالم اسلام کا ماننا ہے کہ پاکستان حضورؐ کے شہر مدینہ کا عکس ہے اور پورے عالم اسلام کو اس مملکت خداداد سے بہت زیادہ امیدیں ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد میں کوئی بھی چور یا کرپٹ نہیں تھا اور یہ پاکستان اُن ہی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہے۔ مجھ سمیت تمام لوگوں سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں ا چھے لوگوں کی تعداد زیادہ اور برے لوگ کم ہیں ، لہذا مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان عنقریب معاشی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوجائے گا ۔ میں اس بات کو یوں کہوں گا کہ پاکستان کی معیشت کا جہاز تیار ہے اور جس جس نے اس میں بیٹھنا ہو وہ بیٹھ جائے کیونکہ یہ جہاز بہت جلد ٹیک آف کرنے والا ہے اور میرا یہ دعویٰ ہے کہ اﷲ کے فضل و کرم سے سب کچھ جلد ہوجائے گا ۔ کیونکہ گذشتہ 70 سالوں کے دوران ہم نے معاشی طور پر جتنا نیچے جانا تھا چلے گئے ، لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اب ہم اس سے نیچے نہیں جائیں گے اور معاشی ترقی اور خوشحالی ہمارا مقدر بنے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں شعور بیدار ہوگیا ہے اور لوگوں نے سوچنا اور بولنا شروع کردیا ہے ۔ فی الحال عوام بڑے لوگوں کے خلاف کوئی بھرپور ایکشن لینے کے قابل نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے پاکستان کے زمینی حقائق کو درست انداز سے سمجھنا شروع کردیا ہے اور اس پر اپنا ردعمل بھی دے رہے ہیں جو کہ ایک مثبت پہلو ہے حالانکہ اس سے قبل ایسا ہر گز نہیں تھا۔ پاکستان دنیا کا وہ خوش قسمت ترین ملک ہے جہاں نوجوانوں کی کل آبادی کا 60 فیصد سے زائد ہے اور اب میڈیا کے آزاد ہونے کے بعد ان میں شعور آرہا ہے جس کو ایک حد تک تو طاقت سے دبایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ دیر تک ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

بزنس پاکستان: ملک میں غربت کے خاتمہ کیلئے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں ، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل: اﷲ کے فضل سے ہمارے ملک میں کوئی غریب نہیں ہے جبکہ ہمارا ملک قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے اور میرے خیال میں اگر ہم اپنے وسائل کا درست استعمال کریں تو ہمارا ملک ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ پورے برصغیر کو کھلا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں زرعی اجناس کی بھرپور پیداوار ہوتی ہے اور دیگر قدرتی وسائل بھی موجود ہیں لیکن بد انتظامی کی وجہ سے ملک کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ورنہ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی ترخان کو پریس کلب کا صدر بنادیا جائے اور یہ تصور کیا جائے کہ وہ پریس کلب کو احسن انداز میں چلا لے گا تو ایسا ممکن نہیں ہے ، بالکل اس طرح اگر ایسے حکمران ہم پر مسلط ہوں ، جو راشی ہوں اور نیک نام نہیں ہوں ، تو ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔ اب کچھ امید بندھ چلی ہے کیونکہ لوگوں میں بتدریج شعور آرہا ہے اور وہ اپنا اچھا برا سمجھنے کے قابل ہوئے ہیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ بہت لمبے عرصے تک اﷲ تعالیٰ پاکستان کو اس طرح رہنے نہیں دے گا۔

بزنس پاکستان : پاکستان میں اسلامی بینکاری کے مستقبل کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : پاکستان میں اسلامی سوچ کے حامل افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے یا یوں کہیں کہ یہاں اﷲ کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے ، اس لیے وہ سود جیسے بڑے گناہ سے دور رہنا چاہتے ہیں ۔لہذا اگر اسلامی بینکاری کو صدق دل اور سچی نیت سے فروغ دیا جائے تو پاکستان میں اس کا مستقبل انتہائی تابناک ہے اور ویسے بھی اﷲ کے نظام میں جس معیشت کا تذکرہ ہے اس میں تو خیرو برکت ہی ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کو لوگوں سے پیسہ نکلوانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور اسکا فروغ سچی نیت سے کیا جائے تو اس نظام کے ناکام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے جو شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں وہ اسلئے ہیں کہ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو 15لاکھ روپے تنخواہ کے عیوض لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے رکھا جاتا ہے تو وہ کسی بھی نظام بینکاری کو اسلامی بینکاری کے نظام سے موسوم کرسکتا ہے اور اس کے لئے وہ فتویٰ بھی دے سکتا ہے جس کو آپ تیکنیکی طور پر چیلنج نہیں کرسکتے ہیں۔ بہرحال اسطرح کچھ لوگوں کو ایک محدود مدت کیلئے دھوکے میں رکھا جاسکتا ہے لیکن 20 کروڑ عوام کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے۔

بزنس پاکستان : پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن عموماً بنیادی زرعی اجناس کی کمی کا شکار رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

ڈاکٹر مرتضی مغل : پاکستان میں سال 2003 سے فوڈ سیکورٹی کی صورتحال ابتر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور اس مد میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں آباد لوگوں کے لئے اشیائے خوردونوش کی کمی نہ ہو۔ پالیسی ساز ادارے اس صورتحال سے مکمل طور پر واقف ہیں ۔ سال 2050 تک دنیا کے 9 ارب نفوس کے لیے خوراک کا بندوبست کرنے کے لیے مجموعی زرعی پیداوار کو 50 فیصد بڑھانا چاہیے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’’سارک ممالک‘‘ میں دنیا کے غریب ترین اور غذائی قلت کا شکار افراد کی اکثریت موجود ہے۔

بزنس پاکستان : بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے آپ کے خیال میں کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت متعدد نئے منصوبوں پر کام کررہی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ ان پروجیکٹس کو بھی مزید فعال بنانے اور ان کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرے تاکہ جلد از جلد بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکے۔ ملک کا صنعتی شعبہ بجلی کی کمی کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت چین جاپان سے دُگنی بجلی کنزیوم کررہا ہے کیونکہ وہ اپنی صنعتی پیداوار پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ اس کے باوجود وہاں کی لیڈر شپ بجلی کی پیداوار کو مزید مستحکم بنانے کیلئے 1.6ٹریلین ڈالر خرچ کررہی ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں اس شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ جس کے منفی اثرات ملکی معیشت پر پڑرہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ صنعتی شعبے کو ترقی دی جاسکے اور ملک معاشی ترقی کرے۔

بزنس پاکستان : پورے ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے ، اس حوالے سے آپ کیا تجویز دیں گے ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل ورامنگ کے باعث اس وقت پاکستان پانی کی شدید ترین قلت کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنانے کا عمل سیاستدانوں کے باہمی اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے اور ہم ہر سال لاکھوں گیلن صاف پانی سمندر کی نذر کردیتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کے سامنے اپنے ذاتی مفاد کو قربان کردینا چاہیے تاکہ ڈیموں کی تعمیر کے عمل کو تیز تر کیا جاسکے۔ پانی کی قلت کے باعث شہری اور خصوصاً دیہی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو شدید ترین دشواری کا سامنا ہے جبکہ پانی کی نایابی کی وجہ سے صنعتوں کا بھی برا حال ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے سال 2025 تک 250 ملین ہوجائے گی اور ایسی صورتحال میں پانی کی طلب بڑھ کر 338 ارب کیوبک میٹر ہوجائے گی۔ جبکہ اس وقت دستیاب پانی کی مقدار 236 جی سی ایم ہے جس سے شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑجائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمسایہ ممالک کو اپنا پانی چوری کرنے سے روکے جبکہ زرعی اجناس کی پیداوار کیلئے ایسے بیج متعارف کروانے چاہیں جن کو پانی کی کم سے کم ضرورت ہو۔

بزنس پاکستان : وطن عزیز سے محبت کرنے والی قیادت کیسے پیدا کی جاسکتی ہے ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : قیادت اوپر سے نازل نہیں ہوتی اس کے لیے ضروری ہے کہ پورے ملک میں نظام تعلیم اور نصاب کو یکساں کریں۔ اسکے علاوہ دینی تعلیم کا بھی بہتر انتظام کیا جائے ۔ اگر نظام تعلیم ایک ہوجائے اور چار پانچ بار الیکشن مسلسل ہوجائیں تو حقیقی اور محب وطن قیادت سامنے آجائے گی ۔ قرآن حکیم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں حکومت معیشت اور زندگی کے تمام امور کھل کر بیان کیے گئے ہیں اس کتاب سے بڑھ کر نہ تو دنیا میں کوئی دستور اور نہ ہی آئین ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے اسے بھلا دیا ہے۔

بزنس پاکستان : ورلڈ بینک جیسے اداروں کی کارکردگی پر روشنی ڈالیں ؟

ڈاکٹر مرتضی مغل : ورلڈ بینک جیسے ادارے ہمیشہ غریبوں اور مڈل کلاس کو اپنا ہدف کیوں بناتے ہیں جبکہ ان کی جانب سے امراء کا تحفظ کیوں کیا جاتا ہے ، حکومت کے پاس اکنامک منیجر ز کی کمی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کی ناکام پالیسیوں کو اپنے ملک میں لاگو کیا جائے ۔

مزید : ایڈیشن 2