پاکستان کا معاشی انحصار 16سے 29سالہ نوجوانوں پر ہے

پاکستان کا معاشی انحصار 16سے 29سالہ نوجوانوں پر ہے

  

(فیصل بن نصیر)

fbnpak@gmail.com

نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں اور پاکستان اس سرمائے سے مالا مال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک کی ۵۶ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ نوجوان با صلاحیت بھی ہیں اور کچھ کر گزرنے کے جذبے سے معمور بھی، تاہم اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان نوجوانوں کے جذبے کو عملی صورت میں ڈھالنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ سرمایہ ملک کے لیے منافع بخش صورت اختیار کر سکے، موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں متعدد عملی اقدامات کیے ہیں، خصوصا چائنہ پاک کوریڈور منصوبے کی روشنی میں جوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع دکھائی دے رہے ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوجوانوں کی ووکیشنل تربیت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اقوام متحد ہ ترقیاتی ادارہ )یو این ڈی پی (کی سالانہ عالمی رپورٹ سال 2015 کے مطابق پاکستان کی معاشی اور انسانی ترقی کا ا نحصار سولہ سے انتیس سالہ نوجوانوں پر ہے، اب سے دو ہزار پچاس تک پاکستانی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل رہے گا، انہیں تعلیم اور ملازمتیں مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی سے متعلق کاموں میں شریک کرنا ہو گا، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر ایک منٹ میں پانچ سال سے کم عمر کے گیارہ بچے انتقال کر جاتے ہیں جبکہ دوران زچگی اموات کی شرح 33 خواتین فی گھنٹہ ہے،علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک میں انسانی ترقی کی شرح مختلف ہے، دنیا میں ایک سو اڑسٹھ ملین بچے جبری مشقت کا شکار ہیں جبکہ بڑوں میں یہ تعداد اکیس ملین ہے۔ یو این ڈی پی کے کنٹری ڈائریکٹر مارک آندرے کے مطابق نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ پاکستان میں ملازمتوں کی تعداد اور کوالٹی انسانی ترقی کی راہ میں ایک بڑی روکاوٹ ہے، جبکہ صنفی امتیاز بھی ایک بڑی وجہ ہے، رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان میں انسانی ترقی کا اشاریہ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم بھارت اور بنگلہ دیش اس دوڑ میں پاکستان سے آگے ہیں، پاکستان میں یہ شرح اعشاریہ 538ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بالترتیب اعشاریہ 609اوراعشاریہ 570ہے پاکساتن میں بے روز گاری کی شرح چھ فیصد ہے اور یہ تعداد 37لاکھ ہے، معیاری ملازمتوں کافقدان ہے اور 24فیصد افراد کو کام کے بدلے میں تنخواہ نہیں ملتی جبکہ 20فیصد عارضی ملازمتوں پر ہیں، دنیا بھر مین جبری مشقت کا شکار افراد کا تقریباً دس فیصد پاکستانی ہیں، جبکہ 57لاکھ بچے بھی اس ظلم کا شکار ہیں،عورتوں میں بے روز گاری کی شرح 9.1فیصد ہے جبکہ 5.1فیصد مرد بے روزگار ہیں،اقوام متحد ہ ترقیاتی رپورٹ ادارہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں بے روز گاری کی شرح 8.5فیصد ، پنجاب میں 6.1 فیصد، بلوچستان میں4 فیصد اور سندھ میں 5فیصد ہے ۔

پاکستان میں معیشت کی ترقی میں نوجوانوں کے کردار سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، پاکستان 2050ء تک دنیا کی بڑی قوم ہے جو سب سے بڑی نوجوانوں کی طاقت رکھتی ہے، معیشت کی ترقی مین ان ہنر مند ہاتھوں سے کام لینے میں جہاں مہارت فراہم کرنا اہم ہے وہاں دوسری جانب حکومت وقت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ان نوجوانوں کے سنہری ہاتھوں سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کو ترقی کی منازل پر پہنچانے میں ان نوجوانوں سے ضرور مدد حاصل کریں۔ پاکستان کی ترقی نوجوانوں کی ترقی میں مضمر ہے اور اس کے لئے کسی ایک ادارے یا حکومتی فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ من حیث ا لقوم اس قوت کو مجتمع کر کے ان سے مستقبل کی ترقی میں ان کا حصہ بڑھا نا ہے ، تاکہ پاکستان کی ترقی ممکن ہو اور آئندہ نسلیں محفوظ اور مضبوط پاکستان میں رہ سکیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -