اگست میں 50ہزار افغان مہاجرین وطن واپس گئے ،2017مکمل انخلاء کا سال ہو گا :عبدالقادر بلوچ

اگست میں 50ہزار افغان مہاجرین وطن واپس گئے ،2017مکمل انخلاء کا سال ہو گا ...

اسلام آباد (اے این این) پاکستان سے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں گزشتہ دو ماہ غیر معمولی تیزی آئی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یو این ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ اگست کے مہینے میں 50 ہزار افغان مہاجرین رضا کارانہ طور پر پاکستان سے افغانستان واپس گئے ہیں۔25 جولائی کے بعد سے ہم نے دیکھا کہ افغان مہاجرین کی واپسی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جولائی کے مہینہ میں تقریبا 12900 افغان مہاجرین واپس گئے، لیکن اگست میں پھر ہم نے دیکھا کہ اس عمل میں مزید تیزی آ گئی ہے پہلی اگست سے لے کر آج تک تقریبا 50 ہزار افغان مہاجرین صرف اگست کے مہینہ میں واپس جا چکے ہیں اور اس پورے سال میں دیکھا جائے تو پاکستان سے 70 ہزار افغان مہاجرین واپس گئے۔کے پی کے سے واپس جا نیوالوں کی تعداد تقریبا 54ہزار کے قریب ہے ۔ دوسرے نمبر پر جو لوگ جا رہے ہیں وہ صوبہ پنجاب سے جا رہے ہیں۔ادھر وفاقی وزیر برائے سرحدی امور لفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ روزانہ پانچ ہزار تک افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔ افغان مہاجرین کا جہاں تک تعلق ہے ان کی باعزت واپسی کا ایک طریقہ کار ہے اس پر ہم کام کر رہے ہیں اور جو مہلت دی گئی ہے ونیہ 31 دسمبر اس سال کے آخر تک کی ہے۔ اس وقت بھی تقریبا روزانہ چار سے پانچ ہزار افغان مہاجرین واپس جا رہے ہیں۔۔ یہ بالکل ٹھیک ٹھاک طریقے سے معاملہ چل رہا ہے اور 2017 کا سال ان کی وطن واپسی کا سال ہو گا یہ چلیں جائیں گے۔عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مہاجرین کی واپسی کے لیے پاکستان افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔افغان حکومت اور ہم مل کر کام کر رہے ہیں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کوشش کریں گے کہ یہ معاملہ باعزت طریقے سے حل ہو ان سے زیادتی نا کی جائے ان کی شکایتیں نہ ہوں اور اتنا عرصہ ہم نے ان کی میزبانی کی ہے 38 سال یہ جو کچھ ہم نے قربانیاں دی ہیں اس کو ہم ضائع نا کریں۔پاکستان میں تقریبا 15 لاکھ افغان باشندے قانونی طریقے سے بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں افغان شہری بغیر اندراج کے ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں جن کے خلاف آئے روز قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔رواں ماہ ہی افغان پناہ گزینوں کے عمائدین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں حالات سازگار نہیں لہذا انھیں وطن واپس جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔پاکستان نے اپنے ہاں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم اندراج شدہ پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی تھی اور اب یہ معیاد 31 دسمبر 2016 کو ختم ہو گی۔

مزید : علاقائی