ہسپتال بنا، ہسپتال بنا، ہسپتال بنا

ہسپتال بنا، ہسپتال بنا، ہسپتال بنا
ہسپتال بنا، ہسپتال بنا، ہسپتال بنا

  

پانامہ لیکس کے غلغلے میں لاہور کے گورنر ہاوس میں وزیراعظم نواز شریف کی سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران یہ جناب مجیب الرحمان شامی کی تجویز تھی کہ حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر نئے ہسپتال بنانے چاہئیں کہ عوام کو علاج معالجے کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔میں نے اس تجویز پروزیراعظم کے چہرے پر فوری طور پر ابھرتی دلچسپی کو دیکھا تھا جب انہوں نے پوچھا کہ یہ ہسپتال کن علاقوں میں بنائے جائیں تو جواب تھا کہ پورے ملک میں ہی بنانے کی ضرورت ہے۔ اب وفاقی حکومت کی طرف سے ایک سو دس ارب روپے کی خطیر رقم سے انتالیس نئے ہسپتال بنانے کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کی تعمیر اعلان کے مطابق اگلے اٹھارہ ماہ میں مکمل کر لی جائے گی، میری نظر میں ان ہسپتالوں کی تعمیر کے اعلان کا کریڈٹ شامی صاحب کو ہی جاتا ہے، اس سے پہلے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا اگلے انتخابات سے پہلے لوڈ شیڈنگ پر بھی قابو پا یا جا چکا ہو گا اور ملک بھر میں بہت ساری موٹر ویز بھی لوگوں کو سہولت فراہم کر رہی ہوں گی۔

وزیراعظم کو اس اعلان کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ مخالفین کے تواتر سے لگائے گئے اس الزام کی عملی طور پر نفی ہو گا کہ حکومت سڑکیں بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کر رہی۔ یہ مخالفین بہت ساری وجوہات کی بنا پر دہشت گردی میں کمی اور کراچی میں امن کا کریڈٹ بھی سیاسی حکومت کو دیتے ہوئے نظر نہیں آتے، وہ لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی کی تعریف کو بھی گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ متعدد منصوبے ابھی زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل انرجی سیکٹر میں صورتِ حال کو بدل کر رکھ دے گی، یہی مخالفین کہا کرتے تھے کہ میٹرو اور موٹرویز کے منصوبے قومیں نہیں بناتے، قومیں تعلیم اور صحت کے ذریعے بنتی ہیں،اب وہ میٹرو اور موٹر ویز بنانے کے اعلان کرتے نظر آتے ہیں تو ان سے بجا طور پر سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب ایک ایک لمحہ قیمتی تھا تو تین سال ضائع کرنے کا جواز کیا تھا۔ موٹرویز کے ناقدین سڑکیں بنانے کی طرف آئے ہیں تو وزیراعظم نے درجنوں ہسپتال بنانے کا اعلان کر دیا ہے،ا س سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ نہ سہی مگر ہمارے تحریک انصاف کے بہت ہی تیز طراردوست کم از کم تین، چار برس پیچھے ضرور ہیں۔

مجھے یہاں ایک درخواست کرنی ہے کہ یقینی طور پر جب ہم بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کی سہولتوں کے درمیان تفاوت کو دیکھتے ہیں تونئے ہسپتال ہماری اولین ضرورت کے طور پر سامنے آتے ہیں مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ ہم ہیلتھ کئیر کے اپنے موجودہ انفراسٹرکچر سے بھی اس کی صلاحیت کے نصف کے برابر بھی کام نہیں لے رہے۔ میں لاہور جیسے شہر میں ٹیچنگ ہسپتالوں کی بات نہیں کر رہا جہاں مریضوں کا بہت زیادہ دباؤ ہے بلکہ اپنے بنیادی مراکز صحت سے شروع ہوکر تحصیل اور پھر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے اس نظام کی بات کر رہا ہوں جس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ تمام نئے ہسپتال اٹھارہ ماہ میں مکمل اور فعال کرنا کافی مشکل کام ہے ، ان پر کام اپنی جگہ پر جاری رہنا چاہئے مگرکیا ہی بہتر ہو کہ وزیراعظم پہلے سے موجود پورے ڈھانچے کو فعال بنانے کے لئے صوبائی اور ضلعی سطح پر حکومتوں پر خصوصی دباو بھی ڈالیں اور اس کے لئے فنڈز بھی فراہم کریں۔ میںیہاں کچھ اپنی معلومات شئیر کر لیتا ہوں کہ مثال کے طور پر چنیوٹ آج سے سات برس پہلے بننے والا ایک نیا ضلع ہے جس کا ایک ڈسٹرکٹ اور دو تحصیل ہسپتال ہیں۔اس ضلعے میں ڈاکٹروں کی کل منظور شدہ آسامیاں دو سو اکاون ہیں مگر وہاں صرف تراسی ڈاکٹر تعینات ہیں،بیس بائیس لاکھ آبادی کے اس ضلعے میں ڈاکٹروں کی بجٹ میں باقاعدہ منظور شدہ ایک سو اڑسٹھ آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ چنیوٹ کے نئے مقرر ہونے والے ڈی سی او ایوب خان بلوچ سے میں نے اس کی تفصیل پوچھی تو جواب تھا کہ ڈاکٹر یہاں آنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اوپن آفر کر دی کہ اگر کوئی ڈاکٹر چنیوٹ میں ملازمت کرنا چاہے تو ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے اس کو نہ صرف لیٹر جاری کر دیں گے، بلکہ چنیوٹ کے ڈی ایچ کیو یا لالیاں اور بھروانہ کے ٹی ایچ کیوز سمیت جہاں وہ چاہے گااس کی پوسٹنگ کر دیں گے،اس پیشکش کے جواب میں صرف تین ڈاکٹر آئے اور مجموعی تعداد ایک سو چھیاسی ہو گئی۔ چینوٹ کی ضلعی حکومت کی اٹھارہ میں سے دس ڈسپنسریاں اس وجہ سے بند ہو چکیں کہ وہاں کام کرنے والوں کی اکثریت ریٹائر ہو گئی تو پھر بھرتی ہی نہیں ہوئی۔ چنیوٹ پنجاب کے نقشے پر کوئی دور دراز کا ضلع نہیں، مگر وہاں سے بھی مریضوں کی اکثریت ڈویژنل ہیڈ کوارٹر فیصل آباد یا صوبائی دارالحکومت لاہور کا ہی رخ کرتی ہے، سوچنے کا مقام ہے کہ دور دراز کے اضلاع کا کیا حال ہو گا۔ مقصد یہ ہے کہ کیا ہم قومی سطح پر کوئی ایسا منصوبہ شروع کر سکتے ہیں جس کے تحت پورے ملک میں پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کو سو فیصد فعال بنا دیا جائے اور اسے وزیراعظم نواز شریف کے ایک خصوصی منصوبے کا نام دیا جائے توان کی نیک نامی ہر ضلعے اور تحصیل میں ہو گی اور اس پروپیگنڈے کا توڑ ہو گا کہ مسلم لیگ(ن) صرف بڑے شہروں میں سڑکیں پل اور انڈر پاسزبنانے میں ہی دلچسپی رکھتی ہے۔

مجھے یہ کریڈٹ دینے میں عار نہیں کہ لاہور کا پی آئی سی ہو یا چلڈرن ہسپتال اور اس طرح کے بہت سارے دیگر منصوبے میاں نواز شریف کے وژن اور دلچسپی سے ہی مکمل ہوئے، جو سڑکیں بنانے پر اعتراض کرتے ہیں ان کے اپنے صوبوں کی حکومتوں کو ایسے منصوبے شروع کرنے کی توفیق نہیں ہوسکی۔کیا یہ ایک دلچسپ موازنہ نہیں کہ عمران خان صاحب نے اپنی والدہ محترمہ کے نام پر بننے والا پرائیویٹ پراجیکٹ تو بہت ہی قلیل مدت میں پشاور میں مکمل کرلیا ہے، مگر اسی شہر کے ٹیچنگ ہسپتال کی ایمرجنسی جو سابق دور سے زیر تعمیر ہے ، ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی۔ مجھے لاہور کے پی آئی سی بارے بھی کہنا ہے کہ اس کی دوسو بستروں کی ایمرجنسی مکمل ہو گئی ہے اوراس کا جلد ہی افتتاح ہو گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسے پچاس سے ساٹھ کروڑ روپے خرچ کرتے ہوئے فرینڈز آف پی آئی سی میں شامل اپٹما نے تعمیر کروایا ہے اور ایک وقت تھا کہ حکومت کے مقرر کردہ کچھ لوگ ذاتی مفادات کے تحت اس ایمرجنسی کی تعمیر کی راہ میں روڑے اٹکا رہے تھے مگر اسی حقیقت کا ایک دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ اسی ایمرجنسی میں مستحق مریضوں کی مدد، مہنگے اور جدید ترین آلات کے چلانے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس سمیت عملے کی تنخواہوں کے لئے اتنی ہی رقم ہر سا ل حکومت پنجاب صوبے کے خزانے سے فراہم کرے گی۔ میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز کے مخیراور مہربان عہدے داروں کی عوام دوستی کو سراہنے سے انکا رنہیں کر رہا، مگرسوال یہ ہے کہ جس طرح گردوں اور جگر کے امراض کا ہسپتال حکومت خود بنا رہی ہے، اسی طرح یہ ایمرجنسی بھی بنائی جا سکتی تھی۔ وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوبھی پنجاب بھر میں تاخیر در تاخیر کا شکار ہونے والے منصوبوں کی فوری تکمیل کے لئے بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جو انہی اٹھارہ مہینوں میں پنجاب کے طول و عرض میں ایسے تمام منصوبوں کو مکمل کروائے جو برس ہا برس سے زیر تعمیر ہیں۔مختلف اضلاع میں مشینوں اور ڈاکٹروں کی کمی بارے بھی رپورٹ طلب کی جائے اور اس کمی کو بھی اسی طرح ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے جس طرح تعلیم کے شعبے میں سکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ایک خصوصی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

یہ اٹھارہ ماہ بہت قیمتی ہیں، ان اٹھارہ مہینوں میں اگر یہ39ہسپتال مکمل ہوجاتے ہیں تو یقینی طور پر یہ ایک بڑی کامیابی اور ایک بڑا کارنامہ ہوگا مگر یہ کامیابی اس وقت تاریخی اور فقیدا لمثال بن جائے گی جب ہر ضلعے اور تحصیل میں نامکمل پراجیکٹس کی تکمیل کے فیتے کٹ رہے ہوں گے ، لوگ اپنے اپنے شہر میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر وہی سہولتیں حاصل کر رہے ہوں گے جو انہیں کراچی پشاور، کوئٹہ، لاہور یا اسلام آباد میں مل سکتی ہیں۔یوں اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کے پاس یہ دلیل بھی نہیں ہو گی کہ حکومت نے پانچ برسوں میں صرف سڑکیں، پل اور انڈر پاسز ہی بنائے ہیں۔

مزید :

کالم -