ایم کیو ایم کے ایک اور رکن اسمبلی مصطفٰی کمال سے مل گئے ،دیوار سے نہ لگایا جائے :فاروق ستار،متحدہ کے ارکان اسمبلی استعفے دیں : تحریک انصاف

ایم کیو ایم کے ایک اور رکن اسمبلی مصطفٰی کمال سے مل گئے ،دیوار سے نہ لگایا ...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین بھی مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق الطاف حسین کی ملک دشمن تقاریر کے بعد بانی ایم کیو ایم کی تنہائی بڑھتی جارہی ہے اور رہنما انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی رکن قومی اسمبلی آصف حسنین بھی ہیں جنہوں نے مصطفیٰ کمال سے ملاقات کے بعد پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ آصف حسنین 2013 کے عام انتخابات میں کراچی کے حلقہ این اے 255 سے متحدہ قومی موومنٹ کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ ٹاؤن ناظم اور رکن رابطہ کمیٹی بھی رہ چکے ہیں۔اس موقع پر پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ آصف حسنین الطاف حسین کے مینڈیٹ کو لات مار کر آئے ہیں جس پر میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم رہے نہ رہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کراچی میں جوکچھ ہورہاہے قائدایم کیوایم کے اشاروں پرہورہاہے اور پاکستان کے لوگ دھوکے میں نہ رہیں کیونکہ قائدایم کیوایم اورفاروق ستارالگ نہیں ہیں۔فاروق ستار کنفیوژن پھیلا رہے ہیں لیکن فرعون جتنابھی طاقتور ہوجیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ایم کیوایم کوبچانے والا خود بھی فنا ہو جائے گا۔مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ قائدایم کیو ایم اپنی زندگی میں کسی کوپارٹی کی قیادت نہیں کرنے دے گا یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں ایم کیوایم قائد اور فاروق ستارمہاجروں پر رحم کریں۔فاروق ستار کو سچ بولنا چاہیے لیکن وہ گرتی ہوئی دیوارکوبچانے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان میں لوگوں کو 2 راستوں پر ڈالا جا رہا ہے اور یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کا مینڈیٹ رہنا چاہیے۔ متحدہ قائد سے لاتعلقی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے مینڈیٹ کوبھی لات مارنا ہوگی قائدایم کیوایم پھرنمودارہوگئے تو فاروق ستار کیا کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران آصف حسنین نے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کے پریشر میں نہیں بلکہ پاکستان زندہ باد کیلئے متحدہ کو چھوڑ رہا ہوں کیونکہ جس وطن کی وجہ سے مجھے مینڈیٹ ملا ہے اس کو مردہ باد نہیں کرسکتے۔ 22 اگست کو دنیا کے سیاہ ترین دن کے طور پر دیکھتا ہوں۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ کارکنوں کو ٹارچر کر کے وفاداریاں تبدیل کرانے ،زیر حراست کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،ہمارا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے۔ان کاکہنا ہے کہ ہمارا موقف ہے ’’ٹینشن لینے کا نہیں ،ٹینشن دینے کا‘‘،کل کی پریس کانفرنس سب کو انٹرٹین کرے گی۔کراچی میں کارکنوں کے گھر پر آمد کے موقع پر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تمام کارکنوں کو صبر و تحمل رکھنے کی ہدایت کی۔ان کاکہنا تھا کہ کارکنوں کو خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،متحدہ نے 35سال جدو جہد کی ہے جس کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آصف حسنین کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،ان کے حوالے سے کل کی پریس کانفرنس میں بیان دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کل ہونے والی پریس کانفرنس میں آپ ہمیں پریشان نہیں دیکھیں گے کیو نکہ ہمار ا موقف ہے’’ٹینشن لینے کا نہیں ،ٹینشن دینے کا ‘‘،اب عوام خود دیکھے گی کہ ٹینشن میں کون ہے۔انہوں نے کہاکہ بہت دنوں سے انٹرٹین نہیں کیا اس لیے کل کی پریس کانفرنس انٹرٹیننگ ہو گی۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں کو خوفزدہ کر کے وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے لیکن اب پہیہ الٹا چلے گا ،جو کارکنان خوفزدہ ہو کر متحدہ چھوڑ گئے تھے اب وہ واپس آرہے ہیں۔

اسلام آباد ( اے این این ) تحریک انصاف نے متحدہ قائد کے متنازع بیان کے بعد ایم کیو ایم سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاروق ستار اور ان کے ساتھی مستعفی ہو کر نئے سرے سے انتخابات میں حصہ لیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے ایم کیو ایم سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ۔ پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق کے مطابق فاروق ستار سمیت تمام متحدہ اراکین اسمبلیوں سے مستعفی ہوں اور نئے سرے سے الیکشن لڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے سربراہ ایم کیو ایم سے نمائشی اظہار لاتعلقی کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، متحدہ رہنما مستعفی نہ ہوئے تو سمجھیں گے کہ پس منظر میں متحدہ کے قائد سے روابط برقرار ہیں۔ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق کا کہنا تھا کہ فاروق ستار سمیت متحدہ قومی موومنٹ کو 2013 میں سربراہ ایم کیو ایم کا کا مینڈیٹ میسر آیا، متحدہ کے پارلیمنٹیرینز اسمبلیوں میں الطاف حسین کی نمائندگی کرتے تھے لہٰذا متحدہ قائدین اگر واقعی سربراہ ایم کیو ایم سے فاصلہ اختیار کر چکے ہیں تو ازسرنوعوام سے رجوع کریں۔

مزید : صفحہ اول