اندرون لاہور ایم کیو ایم کی طرز پر مسلم لیگ ن کے ونگز ہیں ،رینجرز کا آپریشن کیا جائے :عمران خان

اندرون لاہور ایم کیو ایم کی طرز پر مسلم لیگ ن کے ونگز ہیں ،رینجرز کا آپریشن ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اندرون لاہور ن لیگ کے ایم کیو ایم کی طرز پر ونگز ہیں۔ یہاں مسلم لیگ ن نے اپنے غنڈے پال رکھے ہیں۔پولیس بھی ن لیگ کا ونگ بن گئی ہے۔ یہ بھی ایم کیو ایم کی طرح لوگوں کا قتل عام کر رہی ہے۔نواز شریف کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ادارے تباہ کر دیئے ہیں۔کچھ بھی ہو جائے اب نواز شریف کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا اقتدار میں رہنا ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔لاہور میں کارکنوں سے خطاب اور اندرون شہر قتل ہونے والے پارٹی کارکن مرزا تنویر کے گھر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ن لیگ والے کہتے ہیں کہ نواز شریف کا نام پاناما لیکس میں نہیں۔ پاناما لیکس میں جن 8سربراہوں کا نام آیا ان میں ایک نواز شریف کا تھا۔ نواز شریف خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔ انشا اللہ 3ستمبر کو ہم ان کو لاہور میں انسانوں کا سمندر دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری نیب آزاد ہوتی تو نواز شریف جیل میں ہوتا۔ن لیگ والوں کو پتہ ہے کہ ان کا وزیراعظم جھوٹ بول رہا ہے لیکن وہ جانتے ہوئے بھی اپنے مقاصد کیلئے اس کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر ہم ان کیخلاف نہ نکلے تو آنے والے وقت میں ان کے بچے بھی ہمارے بچوں پر حکمرانی کریں گے۔اندرون شہر ہمارے کارکن مرزا تنویر کے قتل کا ذمہ داروزیراعلیٰ شہباز شریف کا بیٹا حمزہ شہباز ہے اس نے خود فون کر کے مرزا تنویر کو دھمکی دی۔ اس کے بعد پولیس کو بھی کارکنوں کے قاتلوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا۔عمران خان نے مزید کہا کہ جب ان کا کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں جانے ولا تھا تو حمزہ نے ہی اس میں سے دہشتگردی کی دفعات ختم کرائیں۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے نوازشر یف اور انکی جماعت خود آمر یت کی پیداوار ہے اس لیے وہ یہ پر وپگنڈا کر رہے ہیں ۔ عمران خان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں بلاول بھٹو سمیت آپ کے کنٹینرپر کھڑی ہوجائے تو اسکے جواب میں عمران خان نے کہا کہ کہ ہم چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں ایک کنٹینرکی بجائے اپنے اپنے کنٹینر پر کھڑے ہوں مگر فی الحال میری ساری توجہ 3ستمبر کی احتجاجی ریلی پر مر کوز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کے معاملے پر نیب اور ایف بی آر کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا اس لیے سڑکوں پر آرہے ہیں اور سپریم کورٹ بھی جارہے ہیں ۔ایم کیو ایم کے بانی رہنما الطاف حسین کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے جو باتیں کی ہیں ان کا کوئی بھی پاکستانی شہری دفاع نہیں کرسکتا‘دنیا کی کسی جمہوریت کے اندر الطاف حسین کی طرف سے کی جانے والی باتوں کا 10 فیصد بھی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔برطانیہ میں قانون موجود ہے جس کے تحت ان کا شہری دوسرے ملک میں گڑ بڑ نہیں کرسکتا حکومت کو برطانیہ کو کہنا چاہیے کہ آپ کے شہری کی وجہ سے پاکستان میں ایک شخص جان سے گیا جبکہ توڑ پھوڑ بھی کی گئی ۔انہوں نے این اے 110 دھاندلی کیس پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا نادرا کہتا ہے کہ 1 لاکھ ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہم سپریم کورٹ کو تجویز دیں گے کہ ووٹوں کی سیمپلنگ کی جائے اور پانچ ہزار بیلٹ پیپرز کی تھرڈ پارٹی سے تصدیق کرائی جائے کیونکہ نادرا والے جان بوجھ کر انگوٹھے نہیں پڑھ رہے ۔عمرا نے شادی کی جھوٹی خبریں چلانے پر 13 ٹی وی چینلز کو فی کس 5 لاکھ روپے جرمانہ ہونے پر کہا کہ پانچ لاکھ روپے بہت ہی کم جرمانہ ہے کیونکہ شادی شدہ خواتین کی میرے ساتھ تصویریں دکھا دینا بہت ہی غلط ہے ۔ صحافیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے تصدیق کرلیا کرے۔

مزید :

صفحہ اول -