پاکستانی پرچم کی توہین ،افغانستان کے معافی مانگنے تک چمن سرحد نہیں کھولیں گے :پاکستان

پاکستانی پرچم کی توہین ،افغانستان کے معافی مانگنے تک چمن سرحد نہیں کھولیں ...

اسلام آباد(مانٹیرنگ ڈیسک)پاکستان نے افغانستان پر واضح کردیاکہ پاکستانی پرچم کی توہین کرنے پر کابل حکومت کی معافی کے بعد ہی باب دوستی کھلے گا۔وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان پاک افغان سرحدپربند باب دوستی کھولنے پر تیار تھاتاہم اس کیلئے کچھ اصولی شرائط تھیں کہ کابل حکومت پاکستانی پرچم کو جلائے جانے پر معافی مانگے پھر ہم باب دوستی کھولیں گے۔سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران باب دوستی کھولنے کیلئے کچھ شرائط عائد کیں لہٰذاہم اب بھی افغانستان سے مثبت ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔کابل میں امریکی یونیورسٹی میں بم دھماکے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم نے افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ الزام لگا کر دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں بڑھانے کے بجائے شواہد کے ساتھ بات کرے۔اپنے انٹرویو میں مشیر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کیلئے زور ڈالے۔انہوں نے کہا عالمی برادری بھارت کو کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر ظلم و استبداد سے روکے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نوازشریف جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو اجاگر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات آئندہ پانچ برسوں میں قبائلی علاقوں کو ترقی یافتہ علاقو ں کے برابر لائیں گی۔

کوئٹہ ( این این آئی ) چمن بارڈر پر باب دوستی دسویں روز بھی بند ہونے سے پاک افغان دوطرفہ تجارت اور ہر قسم کی آمدورفت بھی معطل رہی۔چمن میں پاک افغان سرحد پر باب دوستی کھولنے سے متعلق سرحدی فورسز کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہونے کی وجہ سے سرحد گزشتہ روز بھی نہ کھل سکی ۔ باب دوستی کی بندش سے نیٹو سپلائی،ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت ہرقسم کی تجارت اور پیدل آمدورفت بھی معطل رہی ، پاک افغان سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں شہری بھی پھنس کر رہ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ باب دوستی کھولنے سے متعلق فیصلہ پاک افغان اعلیٰ حکام ہی کریں گے جبکہ باب دوستی کھولنے سے متعلق سرحدی فورسز کے درمیان دوبارہ کوئی باضابطہ رابطہ بھی نہیں ہو سکا ۔ذرائع کے مطابق باب دوستی کی بندش سے پاکستانی حکومت کو بھی کسٹم ڈیوٹی کی مد میں کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید : صفحہ اول