سرحدی تناؤ اور امیگریشن قوانین سے لا تعلق ’’انٹر نیشنل طالب علم‘‘100سے زائد افغان بچے روزانہ پاکستان پڑھنے کیلئے آتے ہیں

سرحدی تناؤ اور امیگریشن قوانین سے لا تعلق ’’انٹر نیشنل طالب علم‘‘100سے ...

طورخم بارڈر ( شہباز اکمل جندران سے)دنیا کے انوکھے ترین بچے،جو روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے ملک سے پڑھنے کیلئے دوسرے ملک میں جاتے ہیں۔ اور چھٹی کے بعد واپس اپنے ملک چلے جاتے ہیں۔ایک سو سے زائد یہ بچے طورخم بارڈ کے قریب افغانستان سے روزانہ صبح پاکستان آتے ہیں۔ اور چھٹی کے بعد واپس افغانستان چلے جاتے ہیں۔حدیث مبارک ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔حصول علم کے راستے میں رکاوٹوں اور مشکلات کے متعلق بہت سے باتیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔جن کی نوعیت اور شدت جغرافیائی اور ثقافتی وتہذیبی پہلو کی مرہون منت ہوتی ہے۔کچھ ایسا ہی منظر ڈیورنڈ لائن کے نام سے شہرت پانے والی دو ہزار 6سو 10کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد پر طورخم کے علاقے میں نظر آتا ہے۔جہاں شنواری قبیلہ بین الاقوامی سطح پر کھینچی جانے والی تقسیم کی اس لکیرکا شکار نظر آتا ہے۔طورخم کا علاقہ پاکستان اور افغانستان میں تقسیم ہے۔ دونوں طرف شنواری قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔جن کی نہ صرف آپس میں قریبی رشتہ داری ہے۔بلکہ بعض اوقات ایسی صورت بھی نظر آتی ہے کہ ایک شخص پاکستان میں رہتا ہے تو اس کا حقیقی بھائی بارڈ ر کے اس پار افغانستان کا شہری ہے۔یہی وجہ ہے کہ طورخم کے علاقے میں بسنے والے دونوں ملکوں کے شہری اتار چڑھاؤ کا شکار پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے عداوت رکھنے کی بجائے ہمدردی اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔اور ایسے جذبات کی انہتا اس وقت نظر آتی ہے۔ جب طورخم کے قریب افغانستان کے علاقے ڈھاکہ سے ایک سو سے زائد چھوٹے بچے سکول دستیاب نہ ہونے پر پڑھنے کے لیے روزانہ صبح پاکستان آتے ہیں۔اور چھٹی کے بعد واپس اپنے گھروں میں افغانستان چلے جاتے ہیں۔بارڈر پر موجود دنوں ہی ملکوں کے سکیورٹی اہلکار ان بچوں کی آمدورفت سے کسی قسم کا تغرض نہیں برتتے ۔سرحدی ٹینشن اور امیگریشن کے قواعد وضوابط سے لاعلم اور لاتعلق یہ بچے کسی پاسپورٹ اور پرمٹ کے بغیر خراماں خراماں بیگ لٹکائے صبح پاکستا ن اور دوپہر کو افغانستان چلے جاتے ہیں۔ اور ان سے کسی قسم کی پوچھ گچھ یا جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔موقع پر موجود ایک سکیورٹی اہلکار نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ ان بچوں کو افغانستان میں سکول کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔اور دونوں ملکو ں کے اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور سکیورٹی اہلکاروں کی باہمی رضامندی سے ان بچوں کو بارڈر کے قریب پاکستان کے سکول میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔اور ان معصوم بچوں کی آمدورفت پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول